آسیہ مسیح ملتان جیل سے رہا، بیرون ملک روانہ

ملتان: آسیہ مسیح کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا اور وہ ہالینڈ روانہ ہو گئیں۔

روبکار ملنے پر آسیہ مسیح کو رہا کیا گیاتو راولپنڈی کے نور خان ایئر بیس لایا گیا جہاں وہ اپنے خاندان سمیت ہالینڈ کیلیے روانہ ہو گئی ہیں۔ آسیہ بی بی اور ان کے خاندان کے علاوہ پاکستان میں ہالینڈ کے سفیر بھی جہاز میں سوار ہیں۔ اس سے قبل آسیہ مسیح کے وکیل ایڈووکیٹ سیف الملوک نے بی بی سی سے گفتگو میں رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آسیہ کو ملتان جیل سے رہا کر دیا گیا۔

دوسری جانب آسیہ مسیح کی رہائی پر تحریک لبیک پاکستان نے رد عمل میں کہا کہ آسیہ کی رہائی حکومتی معاہدے کی خلاف ورزی ہے، پورے پاکستان کی فضا آسیہ کی رہائی کی خبر سن کر غم و کرب میں مبتلا ہے، معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے بدعہدی کی سیاہ تاریخ رقم کی گئی ہے۔

دریں اثنا عدالتی فیصلے کیخلاف دوران احتجاج ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈائون اور مقدمات کے اندراج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ پابندی کے باوجود قصور داخلے پر مولانا آصف اشرف جلالی سمیت 380 پر مقدمات درج کرلئے گئے ہیں۔ ننکانہ صاحب میں پولیس بس جلانے، پولیس چیک پوسٹ توڑنے پر 6 مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ ان میں دہشتگردی کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔ متعدد افراد کو حراست میں لیکر تفتیش شروع کردی گئی۔

تحریک لبیک یارسول اللہ کے قائد مولانا آصف اشرف جلالی کیخلاف تھانہ صدر میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ پولیس چوکی جمبرکے انچارج سب انسپکٹر محمد سرور کی مدعیت میں درج مقدمے میں کہا گیا ہے کہ مولانا پر ضلع قصور میں داخلے کیلیے پابندی عائد ہے اس کے باوجود 3 تاریخ کو جمبر کی نواحی بستی میں اجلاس میں شرکت کی۔ چھانگامانگا کے نواحی گائوں کوٹ نانک سنگھ میں تحریک لبیک کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے ہیں۔ ملتان میں تحریک لبیک پاکستان کے مزید 4 گرفتار کارکنوں کو سینٹرل جیل سے رہا کر دیا گیا ہے۔

ادھر ایک ٹی وی کے مطابق لاہور میں تحریک لبیک کے مظاہروں کے دوران تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیے گئے 935 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔ سولہ ایم پی او کے تحت گرفتار 159 افراد اور انسداد دہشتگردی کی دفعات کے تحت پکڑے گئے افراد کو رہائی نہیں ملی۔

خیبر پختونخوا پولیس نے احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات اور مقدمات کی رپورٹ وفاقی وزارت داخلہ کو ارسال کر دی ہے، ایڈیشنل آئی جی آپریشنز کے دفتر سے جاری رپورٹ کے مطابق صوبہ کے 26 اضلاع میں سے 13 میں احتجاج کے دوران سرکاری املاک، عوامی مقامات، گاڑیوں کو نقصان پہنچانے پر مجمعوعی طور پر 32 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

وزیرمملکت برائے داخلہ شہریارآفریدی نے کہاکہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنیوالوںکی نفی کا نام نیاپاکستان ہے،پاکستانیوں کی عزت جان ومال کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے۔

میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہاشر پسند عناصر کیخلاف حکومت کا کریک ڈاؤن جاری ہے مزیدگرفتاریاںعمل میںلائی جاری ہیں،پاکستان کے باسیوں کوعزت جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے، جس نے قانون توڑا انہیں عبرت کا نشان بنایاجائے۔

وزیر مملکت داخلہ نے کہا تحریک لبیک کے ممبران جو حکومتی معاہدے کا حصہ تھے بدامنی کی فوٹیج شر پسندعناصر سے لاتعلقی ظاہر کر دی۔ انہوں نے کہاکہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرے گی۔

واضح رہے آسیہ بی بی کی سپریم کورٹ نے سزا کالعدم قراردے کر رہا کرنیکا حکم جاری کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں