Javed-Iqbal-NAIB

جسٹس (ر) جاوید اقبال نیب کے 19 سالہ ریکارڈ کے ساتھ سینیٹ میں طلب

اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) لاہور کے ڈائریکٹر جنرل کے ٹی وی پروگرام میں انٹرویو دینے کے باعث کھڑے ہونے والے تنازع کے بعد چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو 16 نومبر کو سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش ہو کر بیورو کی کارکردگی کے حوالے سے بریفنگ دینے کے لیے طلب کرلیا گیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر جاوید عباسی کی سربراہی میں قائم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون اور انصاف نے چیئرمین نیب کو بیورو کے مکمل ریکارڈ اور اعداد و شمار کے ساتھ طلب کیا۔

اس کے علاوہ 19 سال قبل قومی احتساب بیورو کے قیام سے لے کر اب تک ادارے میں چلنے والے تمام کیسز بشمول ان کے جو اختتام پذیر ہوچکے ہیں اور جو ابھی زیر تفتیش ہیں، خاص کر گزشتہ 3 سالوں کے معاملات کی تفصیلات طلب کی گئیں۔

سینیٹ سیکریٹریٹ کی جانب سے 16 نومبر کے اجلاس کے لیے جاری کیے گئے ایجنڈے کے مطابق چیئرمین نیب سینیٹ اراکین کوکیسز لینے کے طریقہ کار، تفتیش اور استغاثہ، تمام زیر التو کیسوں کی تفصیلات بمعہ ہر کیس میں التوا کی نوعیت اور اس کی وجوہات، گزشتہ 3 سال میں برآمد کی جانے والی چیزیں، ختم ہوجانے والے کیسز کی تفصیلات اور جرم اور بریت کی شرح اور کسی بھی شخص کے نام کا ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں اندراج کرنے کی وجوہات اور گزشتہ 3 سالوں میں ای سی ایل میں ڈالے گئے ناموں کی تجاویز کی تفصیلات سے آگاہ کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں بالخصوص مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) گزشتہ ایک سال سے نیب کے مبینہ ’جانبدار رویے‘ پر اسے تنقید کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

دونوں سیاسی جماعتوں کے مطابق 1999 میں سابق آمر حکمران جنرل (ر) پرویز مشرف کا قائم کردہ ادارہ نیب ہمیشہ مخالفیں کو سیاسی طور پر نشانہ بنانے کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہوا ہے۔

قومی اسمبلی کے حالیہ 2 ہفتوں پر مشتمل طویل اجلاسوں کے سلسلے میں بھی نیب کو سخت تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اس ضمن میں آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں مبینہ بدعنوانی پر نیب کی حراست میں موجود اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور نیب کے مابین ’غیر فطری اتحاد‘ ہے۔

اس کے علاوہ نیب لاہور کے ڈائریکٹر جنرل سلیم شہزاد کے ٹی وی پر دیے گئے انٹرویو، جس میں انہوں نے آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی میں شہباز شریف سے ہونے والی تحقیقات سے آگاہ کیا تھا، کے باعث قومی اسمبلی کے گزشتہ اجلاس میں اپوزیشن جماعتوں نے سخت احتجاج کیا۔

حتیٰ کہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے مذکورہ معاملے میں ایوان کی مداخلت کے لیے تحریک اسحقاق بھی پیش کی گئی تھی، جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے معاملے پر چیئرمین نیب سے جواب طلب کرنے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں