موہن جودڑو اور ہڑپہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے تباہ ہوئے، امریکی ماہرین

میسا چیوسیٹس: امریکی ماہرین نے کہا ہےکہ موسمیاتی تبدیلیاں قدیم تہذیب سندھ کے زوال کی اہم وجہ ہیں اور ان ہی کے باعث موہن جودڑو اور ہڑپہ تہذیب دھیرے دھیرے تباہی سے دوچار ہوکر فنا ہوگئیں۔

ہم جانتے ہیں کہ سندھ کی قدیم تہذیب کے دو بڑے مراکز ہڑپہ اور موہن جودڑو ہیں اور اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت میں بھی اس کے مختلف آثار ملے ہیں۔ امریکا میں واقع وُوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ایک نئے تجزیے کے مطابق عمدہ شہر، گودام، نکاسی کے نظام اور بہترین شہری سہولیات ہونے کے باوجود چار ہزار سال پرانی یہ تہذیب آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمیٹ چینج) کی وجہ سے روبہ زوال ہوکر فنا ہوگئی تھی۔

1800 قبل مسیح میں قدیم تہذیب کے باشندوں نے اس شہر کو خیرباد کہنا شروع کیا اور ہمالیہ کے دامن میں جاکر چھوٹے چھوٹے گاؤں میں رہنا شروع کردیا۔ ووڈ ہولز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں سے یہ خطہ ناقابلِ رہائش ہونے لگا تھا۔

2500 قبل مسیح میں ہڑپہ تہذیب کا موسم بدلنا شروع ہوا اور موسمِ گرما کا مون سون نظام دھیرے دھیرے کمزور پڑا۔ زراعت مشکل ہوگئی اور غلہ بانی بھی کم ہوتی گئی اور یوں یہ عظیم تہذیب اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔

اس ضمن میں وُوڈز ہولز اوشیانو گرافک انسٹی ٹیوشن کے ارضیات داں ڈاکٹر لائی ویو گایوسِن اور ان کے ساتھیوں نے اس پر تحقیق کرکے مقالہ شائع کیا ہے جو 13 نومبر 2018ء کے ’کلائمٹ آف دی پاسٹ‘ نامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ مون سون کے بگاڑ نے پوری وادی میں کھیتی باڑی کو ناممکن بنادیا تھا۔

لیکن اس دوران بحیرہ روم کے طوفان ہمالیائی سلسلے سے ٹکراتے تھے اور پاکستانی علاقوں میں تھوڑی بہت بارش کی وجہ ضرور بنتے تھے لیکن مون سون نہ ہونے کی وجہ سے دریاؤں کا بہاؤ شدید متاثر ہوا۔ اسی لیے وادی سندھ کے لوگوں نے دیگر علاقوں میں سکونت اختیار کی اور یوں دھیرے دھیرے پوری بستی ہی خالی ہوگئی۔

اگرچہ اس کے آثار آج کی مٹی میں نہیں ملتے لیکن ماہرین نے پاکستانی ساحلوں اور سمندر کے کئی مقامات پر مٹی کے نمونے جمع کیے اور ان کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے ان نمونوں میں یک خلوی (سنگل سیل) پلانکٹن کا جائزہ لیا جنہیں ’فورا مینی فیرا‘ یا مختصراً فورمز کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کونسا پلانکٹن سرد موسم اور کونسا موسمِ گرما میں پروان چڑھا۔

اس طرح انہوں نے خطے کے قدیم جینیاتی مادے کا بغور مطالعہ کیا ۔ اس دوران دریا اور سمندر کے کنارے کے علاقے میں موجود قدیم مٹی اور خود اس میں موجود قدیم پلانکٹن سے ہزاروں سال قدیم موسم کا ایک نقشہ مرتب کیا جس سے معلوم ہوا کہ کس طرح گرمیوں کا مون سون کمزور اور سردیوں کا مون سون توانا ہوا اور اس سے زراعت ناممکن ہوگئی۔

اگلے مرحلے میں لوگوں نے ماضی کے ان عظیم شہروں کو چھوڑنا شروع کیا اور یوں وہ کئی صدیوں میں تتربتر ہوکر علاقے کے دیگر مقامات پر منتقل ہوگئے اور یوں یہ موئن جودڑو اور ہڑپہ ویران ہوتے چلے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں