سری لنکا کی سپریم کورٹ نے صدر کا اقدام کالعدم قرار دیکر اسمبلی بحال کردی

کولمبو: سری لنکا کی سپریم کورٹ نے صدر سری سینا کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے کر اسمبلی بحال کردی۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق سری لنکا میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران کا ڈراپ سین ہوگیا ہے، تازہ ترین صورت حال میں سپریم کورٹ نے صدر کے اسمبلی تحلیل کرنے کے اقدام کو کالعدم قرار دے کر پارلیمنٹ بحال کردی ہے۔

چیف جسٹس نالن پریرا کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے برطرف وزیراعظم کے درخواست کی سماعت کی اور سری لنکا کی تاریخ کا سنگ میل بننے والے فیصلے میں صدر کی جانب سے 5 جنوری کو نئے الیکشن کرانے کے اقدام کو روک کر پارلیمنٹ بحال کردی۔

سری لنکا کے صدر متھری پالا سری سینا نے 28 اکتوبر کو اپنے ہی حلیف وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے کو برطرف کر کے اپوزیشن لیڈر مہندرا راجاپاکسے کو نیا وزیراعظم مقرر کردیا تھا۔ جسے وکرما سنگھے نے ماننے سے انکار کردیا تھا۔

وکرما سنگھے کے صدر کا فیصلہ نہ ماننے اور وزیراعظم ہاؤس خالی نہ کرنے پر صدر سری سینا نے پارلیمنٹ کو ہی معطل کردیا تھا تاکہ نئے وزیراعظم اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے لابی کرسکیں۔

صدر سری سینا کے مقرر کردہ وزیراعظم پارلیمنٹ سے مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکے جس کے بعد 10 نومبر کو صدر سری سینا نے پارلیمنٹ ہی تحلیل کردی اور نئے الیکشن کے لیے 5 جنوری کی تاریخ دے دی تھی۔

صدر سری سینا کے فیصلوں کے خلاف سابق وزیراعظم وکرما سنگھے نے سپریم کورٹ سے رجوع کر کے انتخابات رکوانے اور اسمبلی کی بحالی کی استدعا کی تھی جس پر سپریم کورٹ نے تاریخ ساز فیصلے میں اسمبلی بحال کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں