پینٹاگون نے افغانستان کا غیر عسکری حل تسلیم کرلیا

واشنگٹن: امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ ملک کی سول اور فوجی قیادت افغان تنازع کے غیر عسکری حل پر یقین رکھتی ہے اور اسی لیے واشنگٹن کابل اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی پابندی کررہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مشیر زلمے خلیل زاد اس وقت خطے میں موجود ہیں جہاں وہ گزشتہ 17 سال سے جاری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کے مشن پر ہیں جس میں اب تک ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

گزشتہ ہفتے امریکا کے تعلیمی ادارے براؤن یونیورسٹی نے رپورٹ کیا تھا کہ اکتوبر 2001 سے افغانستان میں جاری جنگ میں 6 ہزار 3 سو 34 امریکی بھی مارے گئے جن میں بیشتر فوجی اور ٹھیکیدار تھے۔

اس کے علاوہ ایک ہزار سے زائد اتحادی فوجی بھی اس جنگ کی نظر ہوچکے ہیں۔

گزشتہ روز واشنگٹن میں ہونے والی نیوز بریفنگ کے دوران اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان ہیتھر نوریٹ کا کہنا تھا کہ سفیر زلمے خلیل زاد خطے میں سفر کررہے ہیں جو ‘ہمارے امن معاہدے کے ساتھ منسلک ہونے کو’ ظاہر کرتا ہے، اُمید کی جاتی ہے کہ ہم افغانوں کو سہولت فراہم کریں گے تاکہ طالبان کے ساتھ امن معاہدہ ہوسکے۔

خیال رہے کہ گزشتہ 2 ماہ کے دوران زلمے خلیل زاد کا اس خطے کا یہ تیسرا دورہ ہے جس میں انہوں نے افغانستان، پاکستان اور قطر کے حکام سے بات چیت کی تاکہ عسکریت پسندوں پر افغان حکومت کے ساتھ کام کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے اور ملک میں قائم امن ہوسکے۔

امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے حکام طویل عرصے سے یہ بات کہہ رہے ہیں ہمیں افغان تنازع کے غیر عسکری حل کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، ان میں محکمہ دفاع بھی شامل ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ‘زلمے خلیل زاد اپنا کام بہت تن دہی انجام دے رہے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ جب سے انہیں مذکورہ کام دیا گیا ہے وہ اپنا زیادہ وقت طیارے پر سفر کے دوران ہی گزارتے ہیں’۔

ماسکو میں ہونے والی افغان امن کانفرنس سے متعلق ایک سوال کے جواب پر ترجمان نے کہا کہ ‘ہم روس کو دیکھ رہے ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ روسی حکومت کیا کررہی ہے، جہاں انہوں نے دنیا کے تنازعات کے حوالے سے ایک اجلاس طلب کیا، یہ ان کا حق ہے کہ وہ ایسا کریں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں