Orya-Maqbool-Jan

یوٹرن، لوٹا کریسی اور مذہب جمہوریت

مستقل وفاداری وہ صنعت ہے جو قدیم غلامی سے جدید جمہوری نظام نے تحفے میں لی ہے۔ کارپوریٹ سرمایہ دار اور سودی بینکار جب یہ نظام تخلیق کر رہے تھے تو انہوں نے جمہوریت کوسیاسی پارٹیوں کے دنگل یا جدید دور میں ریسلنگ کی طرح ترتیب دیا۔ دنیا بھر کے جمہوری معاشروں میں دو یا تین سیاسی پارٹیاں ہوتی ہیں جن کے منشور، اہداف اور مقاصد تھوڑے سے فرق کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔ کوئی اپنے ملک کے بدترین جمہوری نظام سے باہر نکل کر سیاست نہیں کرسکتا۔ اس لیے کہ دنیا بھر کے جمہوری معاشروں کی مقدس ’’مذہبی‘‘ کتاب آئین ہوتا ہے جس کی ذرا سی بھی خلاف ورزی موت کی سزاوار ہوتی ہے۔ کوئی لاکھ کہتا پھرے کہ میرے ملک کا سپریم لاء قرآن ہے لیکن مروجہ قوانین کے مطابق قرآن پاک کے کسی حکم کی خلاف ورزی کی سزا موت نہیں جبکہ آئین کی خلاف ورزی پر ہر دوسرا شخص مقدمہ چلا کر موت کی سزا کا مطالبہ کر رہا ہوتا ہے۔ اسی لیے دنیا کے ہر جمہوری سیاسی معاشرے میں آپ ’’مذہب جمہوریت‘‘ کے تابع اور فرمانبردار رہ کر سیاست کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ نے اس مذہب سے ذرا بھر بھی روگردانی کی تو آپ ’’مرتد‘‘ ہیں اور آپ کی سزا موت کے سوا کچھ اور نہیں۔ مستقل وفاداری، تاعمر وفاداری، اطاعت اور غلامی ایسی صفات ہیں جن کو جمہوری سیاست میں اعلیٰ و ارفع مقام حاصل ہے۔ آپ نے زندگی میں اگر عالم جذبات میں آ کر یا نوجوانی کی تلون مزاجی کے دنوں میں کسی پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی تو پھر خواہ آپ کا تجربہ، وقت کے ساتھ بڑھتا ہوا علم یا سیاسی معاملات میں شرح صدر آپ کو اپنی پارٹی سے متنفر بھی کردے، آپ اگر اس پارٹی کو چھوڑ کر کسی دوسری پارٹی میں جائیں گے تو ’’لوٹا‘‘ کہلائیں گے۔ یہ طعنہ صرف پاکستانی سیاست میں نہیں دیا جاتا بلکہ دنیا بھر میں اسے انتہائی قبیح فعل تصور کیا جاتا ہے۔ پوری برطانوی جمہوریت کی تاریخ میں چرچل وہ واحد لیڈر ہے جس نے پارٹی بدلی تھی اور جنگ عظیم دوم کے ہنگاموں میں اسے ایسا کرنے کا موقع مل گیا اور وہ میڈیا کے غیظ و غضب سے بچ نکلا۔ لیکن جیسے ہی برطانیہ کے اس مقبول ترین سیاسی رہنما کی جنگ عظیم دوم کے بعد ضرورت ختم ہو گئی تو اسے پارٹی بدلنے اور لوٹا کریسی کے اسی الزام کے تحت اتنا بدنام کیا گیا کہ بدترین شکست کے بعد اس کا سیاسی مستقبل ہی ختم ہوگیا۔ پارٹی سیاست اور پارٹی وفاداری جمہوریت کی اساس ہے۔ اس کی بنیادی وجہ ہے کہ وہ سرمایہ دارانہ گٹھ جوڑ جسے کارپوریٹ دنیا کہتے ہیں وہ اقتدار پر اپنی کٹھ پتلیوں کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر سیاسی پارٹیاں نہ ہوں تو پھر تین سو یا چار سو اراکین کے ساتھ علیحدہ علیحدہ معاملہ کرنا پڑے گا اور ایسا معاملہ بالکل اسی طرح ہوتا ہے جیسے ترازو پر ایک سیر مینڈک تولنا، کوئی نہ کوئی پھدک کر ادھر ادھر ہو جاتا ہے۔ اسی لیے بہتر یہ خیال کیا جاتا ہے کسی ایک سیاسی پارٹی یا پھر بیک وقت دونوں سیاسی پارٹیوں سے مالی معاونت کے معاملات طے ہو جاتے ہیں۔
اشتہار



پھر ان میں سے جو بھی برسراقتدار آ جائے وہ اپنے ان فنانسرز یعنی پارٹی فنڈ مہیا کرنے والوں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ جمہوری الیکشنوں کو اس قدر مہنگا کردیا گیا ہے کہ ایک عام آدمی اس میں اول تو ہاتھ ڈالنے کی جرات نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو جیتنے کے خواب نہیں دیکھتا۔ اوباما کے صدارتی الیکشن کے اخراجات 6.8 ارب ڈالر تھے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ سات ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا تھا یہی حال یورپ کی جمہوری سیاست اور اس کے الیکشنوں کا ہے۔ جو لوگ یہ سرمایہ فراہم کرتے ہیں وہ اس بات کولازمی بناتے ہیں کہ جس پارٹی یا لیڈر کو انہوں نے ایوان میں پہنچایا ہے اس سے منتخب نمائندوں کی وفاداری ختم نہ ہو۔ وہ پارٹی کے کسی بھی نظریے سے اختلاف نہ کریں۔ پارٹی کے خلاف ووٹ نہ دیں۔ اگر وہ اس پارٹی میں آ گئے ہیں تو اپنا ضمیر گھر کے کسی لاکر میں رکھ کر مضبوط تالہ لگا کر آئیں۔ بدترین غلامی وہ ہوتی ہے جو فکری اور ذہنی غلامی ہوتی ہے۔ جسمانی غلامی میں آپ دن رات مزدوری کرتے ہیں لیکن اپنے افکار، نظریات، عبادات اور سوچ میں آزاد ہوتے ہیں لیکن یہاں تو ایک تہجد گزار عابد وزاہد شخص بھی پارٹی وفاداری میں اسلامی شعائر کے خلاف کسی بل کے لیے ووٹ دیتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو اسے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کے جرم میں ممکنہ طور پر پارٹی سے نکالا جا سکتا ہے اور اسمبلی کی نشست سے محرومی تو لازم ہے۔ اس کے بعد اگر کوئی دوسرا پارٹی میں چلا جاتا ہے تو’’لوٹے‘‘ کا طعنہ اس پر مسلسل عذاب کی صورت مسلط رہے گا۔ یعنی کسی بھی جمہوری نظام میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کے دین کے ڈسپلن کے مقابلے میں اگر پارٹی کا ڈسپلن آ جائے توپارٹی ڈسپلن کو فوقیت حاصل ہوگی۔ جمہوری نظام کی انہی غلامانہ صفات میں ایک چیز اپنے ارادوں پر قائم رہنا اور اسی پر مستقل مزاجی دکھانا ہے۔ یہ ذہنی اور فکری غلامی کی بدترین مثال ہے۔ لوگوں کو فکری طور پر غلام بنانے کے اس عمل کو احترام دیا جاتا ہے۔ دیکھو وہ مرتے دم تک اپنی بات پر قائم رہا، کیا عظیم انسان تھا۔ غالب نے کہا تھا: وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو سیاست میں اگر کوئی برہمن اپنا ارادہ بدل لے تو آج کے دور میں اسے ’’یوٹرن‘‘ کہا جاتا ہے۔ ’’رجوع‘‘ واپس پلٹنا، غلطی کا احساس کرنا اسلام کے اندر اتنا مقدس و محترم عمل ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کو اس سے اتنی خوشی ہوتی ہے کہ صحرا میں جیسے کسی کا سامان سے لدا پھندا اونٹ گم ہو جائے اور اس کے اچانک مل جانے پر اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے لڑکھڑاتی زبان سے بول اٹھے اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا آقا (مفہوم حدیث)۔ لیکن اس جمہوری نظام میں ہم کسی کو راستہ بدلنے نہیں دیتے، ارادہ واپس نہیں لینے دیتے۔ حضرت علی ؓ نے کہا تھا، میں نے اللہ کو اپنے ارادے ٹوٹنے سے پہچانا۔ کیا سیدنا علی ؓ اپنے ارادے ٹوٹنے کے بعد ان ارادوں پر قائم رہے۔ ہرگز نہیں لیکن اگر وہ آج کے جمہوری نظام میں ہوتے تو یقینا اس دور کے جمہوری سیاسی علماء انہیں ’’یوٹرن‘‘ کا طعنہ ضرور دیتے۔ ہدایت کا دروازہ بند ہو تو اللہ ’’یوٹرن‘‘ کی صلاحیت چھین لیتا ہے۔ سورہ لہب آنے کے بعد ابولہب سے یہ صلاحیت صلب کرلی گئی تھی، وہ اپنی انا کے بت کا اسیر ہو کر جہنم رسید ہوگیا۔ جمہوریت کی بھی یہی معراج ہے۔ جس پارٹی میں پندرہ سال کی عمر میں داخل ہوا، اسی کے پرچم میں دفن ہوا۔ جو ارادہ کرے اس سے واپس نہ ہو، یوٹرن نہ لے۔
اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں