بزادار بدل رہا ہے (مکمل کالم)

وزیراعلیٰ کے نئے مشیر شہباز گل کا میسج تھا کہ کل دوپہر کو وزیراعلیٰ صحافیوں سے مل رہے ہیں۔ ڈرائنگ روم میں حامد میر‘ خاور گھمن‘ ضمیر حیدر‘ مہر بخاری‘ فریحہ ادریس‘ صابر شاکر‘ سمیع ابراہیم اور دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود دیر سے پہنچے۔ یاد آیا یہیں ایک دفعہ میجر عامر کے ہمراہ اس وقت کے وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ بھی ایک طویل ملاقات ہوئی تھی ۔ پنجاب ہاؤس اسلام آباد بھی اس کی ملکیت ہوتا ہے ‘جو تخت لاہور پر بیٹھا ہو ۔

پہلی ملاقات کے بعد پرویز الٰہی کے وزیراعلیٰ ہوتے ہوئے بھی دوبارہ ملاقات کی خواہش پیدا نہ ہوئی۔ رہی سہی کسر اس وقت پوری ہوگئی جب پرویز الٰہی کے ایک لاڈلے فیصل آباد کے پولیس افسر پر سونیا ناز کے ریپ کا کیس بریک کیا تو انہی کی شہ پر ہی پولیس نے اس مظلوم عورت کا جینا حرام کردیا ۔

کسی صحافی اور حکمران کے درمیان صرف ایک خبر کا فاصلہ ہوتا ہے۔ جس دن کوئی صحافی جرأت کر کے اس حکمران کے خلاف وہ خبر فائل کردے ‘ اگلے دن سے وہ نیگٹو لسٹ میں شامل اور اس کے فالورز کے نزدیک وہ فسادی اور قابل نفرت ہوجاتا ہے۔دو ہزار آٹھ میں جب شہباز شریف پر کالم لکھا تو ان کے سٹاف افسر کا فون آیا۔ وہ پنجاب ہاؤس میں ناشتے پر ملنا چاہتے ہیں۔

وجہ میرا وہ کالم تھا ”لندن سے اوکاڑہ تک‘‘ جس میں میں نے جعلی انقلاب کا بھانڈا پھوڑا تھا کہ کیسے شہباز شریف نے اوکاڑہ میں ایک ڈی پی او احسان صادق کا سودا کر کے تین ایم پی اے کھرے کر لئے۔ شہباز شریف کی حیرانی بجا تھی‘ چند ماہ پہلے تک تو لندن میں آپ ہمارے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے۔ اب اچانک اتنا سخت کالم لکھ مارا تھا ۔

انہیں لگا وہ جو ڈرامہ چند سال تک پنجاب میں رچانا چاہتے تھے ‘وہ ایک کالم میں ہی ایکسپوز ہوگیا تھا ۔ یہ تبدیلی اور انقلاب کے نعرے صرف لندن تک محدود اور اقتدار میں آنے تک ہوتے ہیں ۔ اپوزیشن کے دنوں میں ہی انقلاب کے نعرے اچھے لگتے ہیں ۔ لوگ بھی جھوم اٹھتے ہیں اور میڈیا بھی متاثر ہوتا ہے‘ لیں جی قوم کو نیا چی گویرا مل گیا ۔

اب تین ماہ کے اندر ہی کوئی ایک بڑے اخبار میں یہ لکھ دے کہ شہباز شریف نے ایک اچھے ڈی پی او کو بدل دیا‘ کیونکہ تین ایم پی ایز وہ قیمت مانگ رہے تھے ‘تو کیا عزت رہ جاتی ہے‘ انقلاب کی ۔ شہباز شریف کو کیا پڑی تھی کہ وہ ہمارے جیسے بیماری کی حد تک آئیڈیلسٹ صحافی کی پروا کرتے‘ ماضی کے نعروں کے بارے میں سوچتے یا فکر مند ہوتے کہ عوام کیا کہے گی۔ انہیں لگا اچھا سودا وہی ہوتا ہے ‘جو نقد ملتا ہے۔
اشتہار



برسوں بعد ایک ایف آئی اے کے سینئر اور شاندار افسر نے بھی یہی بات دکھ کے ساتھ بتائی کہ انہوں نے کتنی محنت سے 2009 ء میں‘ پیپلز پارٹی دور میں منی لانڈرنگ کے ایک بڑے سکینڈل‘ جس میں سوا سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے ثبوت موجود تھے‘ پاکستان کا بڑا منی ایکسچینج ڈیلر پکڑا تھا۔ سب گرفتار تھے اور چالان پیش کر کے سزائیں ہونی تھی۔

اس وقت ہی پیپلز پارٹی حکومت کے بڑوں نے ان افسران کو تبدیل کر کے ملزمان کی ضمانتیں کرادیں ۔ اس ایماندار افسر کے بقول سودا ایک ارب روپے نقد میں ہوا تھا ۔ وہ افسر کافی دیر افسردہ رہا ۔کیا بنا افسر کی کوششوں کا ؟ اپنے تئیں وہ ملک کے لیے لڑ رہے تھے۔ کسی لالچ اور دھمکی میں نہیں آئے۔ جب انہوں نے شکنجہ کس دیا تو اس وقت ہی انہیں تبدیل کر کے سیاسی حکمرانوں نے ڈیل کر لی ۔ بعد میں وہی بڑا ملزم امریکہ میں پکڑا گیا اور سزا ہوئی۔

میں نے ان ایماندار افسر کو کہا تھا کہ آپ جیسے افسروں کی بس اتنی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ہر سیاسی حکمران یا وزیر کے لیے ایک موٹا تگڑا شکارگھیر کر ان کے نشانے پر لے آئیں۔ جب بڑے سکینڈل کی تحقیقات کرانی ہوں گی تو پھرحکمران ایماندار افسر تلاش کریں گے۔ ایسا افسر خود سودا نہیں کرے گا ‘ وہ افسر جان لڑا دے گا‘ ثبوت اکھٹے کرے گا ‘ سب لالچ اور پیشکش ٹھکرا دے گا‘ کیونکہ اس افسر کو اپنی عزت اور نام ہر قسم کی دولت سے زیادہ عزیز ہوتا ہے۔

جونہی ملزمان دیکھیں گے کہ سب کچھ کر کے دیکھ لیا بچت کی راہ نہیں نکل رہی تو وہ حکمرانوں اور ان کے وزیروں سے رابطہ کریں گے۔ ڈیل ہوگی اور اگلے روز وہ افسر تبدیل اور اس کی جگہ دوسرا عدالت سے ان کی ضمانتیں کرا دے گا ۔اس طرح کراچی کے ایک سابق ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بھی دو برس پہلے یہ بات دکھ سے مجھے بتائی کہ انہیں بھی بڑوں نے ایک سکینڈل کی تحقیقات کے لیے استعمال کیا ۔
اس افسر نے سب دشمنیاں پالیں ‘ ان پر اور ان کے خاندان کے اوپر کیا گند نہیں اچھالا گیا وہ پھر بھی کھڑے رہے‘ لیکن ایک شام بڑوں نے وہی ڈیل کر لی اور وہ اکیلے رہ گئے۔وہی پرانا منظر ‘ اب عثمان بزدار پنجاب ہاؤس میںبراجمان تھے۔

حامد میر نے سوالات شروع کیے۔ وہی ویڈیو ٹیپ جس میں چوہدری پرویز الٰہی اور طارق بشیر چیمہ اپنے تئیں جہانگیر ترین کو کچھ سخت پیغامات بھجوانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے‘ جبکہ جہانگیر ترین اس وقت نیوٹرل ہونے کی کوششوں میں تھے‘ کیونکہ انہیں اپنی بہن کی سینیٹ کی سیٹ کے لیے چوہدریوں اور گورنر سرور دونوں کے ووٹوں کی ضرورت تھی‘ لہٰذا وہ ہنس رہے تھے۔ سمجھدار جہانگیر ترین کو علم تھا کہ اسے جٹوں اور آرائیوں‘ دونوں کے ووٹوں کی ضرورت ہے۔

صدیوں سے ایک دوسرے کے دشمن آرائیں اور جٹ آپس میں بے شک لڑیں مریں ‘لیکن جہانگیر ترین کی بہن کو سینیٹ کا ووٹ پڑنا چاہیے۔ جٹ اور آرائیں بھی سمجھدار ہیں۔ آپس میں لڑیں گے‘ لیکن دونوں مل کر ووٹ ترین کی بہن کو ہی ٖڈالیں گے۔ جٹوں اور آرائیوں کے درمیان جاری’ مہا بھارت‘ میں ‘جس میں جٹوں کی قیادت پرویز الٰہی اور آرائیوں کی گورنر سرور کررہے ہیں‘ ترین کو محض اپنے ووٹوں سے غرض تھی۔ چوہدریوں کو بھی پتہ تھا کہ یہی وقت ہے ‘جب وہ ایک سنہری بٹیرے کو پائوں تلے دبا کر مزید مفادات حاصل کر سکتے ہیں۔
حامد میر کے سوال کے جواب میں بزدار نے وہی جواب دیے‘ جن میں سے خبر بننے کی زیادہ امید نہ تھی۔ وہی روایتی جواب جو ایک ایسا وزیراعلیٰ دے سکتا ہے‘ جس کے ہاتھ پائوں بندھے ہوئے ہوں‘ لیکن وہ پھر بھی اپنی انا کی خاطر سمندر میں تیرنے کی اداکاری کررہا ہو؛ اگرچہ اسے پتا ہو کہ دیر یا بدیر اس نے انہی بے رحم پانیوں میں ڈوب جانا ہے۔

بزدار صاحب جب اپنی سادگی بتانے لگے کہ وہ تو دو کپڑوں کے جوڑوں کے ساتھ آئے تھے تو ضمیر حیدر یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ سر جی پنجاب میں کچھ نہ کریں‘ کپڑوں کے جوڑوں کی تعداد ہی بڑھا لیں۔اس پر ایک قہقہہ پڑا۔ سیاسی سوالات کا جواب دینا ہمیشہ آسان ہوتا ہے۔ بزدار صاحب بھی وہی کررہے تھے ‘جس سے صحافی کوئی مطلب نہ نکال سکیں۔ بولے :ان کے سب کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اصلی وزیراعلیٰ وہی ہیں ۔

سرائیکی ہونے کا ایک فائدہ ضرور ہوتا ہے‘ آپ ذومعنی فقرے‘ جملے کہنے کے ماہر ہوتے ہیں‘ تاکہ اگلا کسی بات سے ناراض نہ ہو۔ آپ اپنی بات بھی دوسرے تک پہنچا دیتے ہیں اور ناراض ہونے کا موقع بھی نہیں دیتے۔ بزدار صاحب اس وقت وہی کھیل کھیلنے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔

اس لیے پوچھا گیا: آپ کے ہاں سرائیکی علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کے آنے کا بڑا چرچا ہے تو بزدار نے فوراً روایتی ٹچ دیا جناب ہر علاقے کی اپنی روایات ہیں ۔ اب ہم بلوچ ہیں۔ لوگ ملنے آتے ہیں وہ اپنی پوری بات کرتے ہیں ۔ جب تک وہ بولتے رہتے ہیں آپ انہیں چپ کر کے سنتے ہیں۔ آپ بے شک ان کا کام نہ کریں‘ لیکن ان کی بات پوری سننی پڑتی ہے۔ یہ ہماری روایات ہے پوری کرنی پڑتی ہے۔
جب پرویز الہٰی اور گورنر سرور کے درمیان جاری جٹوں اور آرائیوں کی جنگ بارے مزید سوالات ہوئے تو بزدار صاحب کو کہنا پڑ گیا: جناب میں تو شام کی واک گورنر ہاوس کرتا ہوں۔گورنر سے بھی وہیں ملاقات ہوجاتی ہے اور اکھٹے واک بھی کرلیتے ہیں ۔
حامد میر اچھل پڑے اور بولے: اوہ واقعی ؟ یہ تو بہت بڑی خبر
اشتہار



وزیراعلیٰ بزدار کا انکشاف کہ وہ تو واک بھی گورنر ہاؤس میں کرتے ہیں ’جہاں وہ کبھی کبھار گورنر سے ملاقات بھی کر لیتے ہیں‘ سب کو حیران کر گیا۔ حیرانی کی وجہ واضح تھی کہ کل پرسوں تو یہ ویڈیو چل رہی تھی جس میں پرویز الٰہی اور طارق بشیر چیمہ ’جہانگیر ترین پر رعب ڈال رہے تھے کہ اگر آپ نے صوبہ چلانا ہے تو گورنر سرور کو روکو۔ اس ویڈیو سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ بزدار بھی یہ محسوس کررہے ہیں کہ انہیں گورنر نہیں چلنے دے رہے۔

بزدار نے یہ بات چوہدری پرویز الٰہی سے شیئر کی ہوگی۔ طارق بشیر چیمہ کو کہا ہوگا کہ وہ ترین سے ملاقات کے وقت یہ کہہ دیں کہ گورنر سرور مسائل پیدا کررہے ہیں۔ یوں یہ تاثر پیدا ہوا کہ اگرچوہدری پرویز الٰہی اور طارق بشیر چیمہ بزدار کے حق میں جہانگیر ترین کو کچھ کہہ رہے تھے تو وزیراعلیٰ اور گورنر کے درمیان تعلقات اچھے نہیں۔ اس ویڈیو سے یہ واضح ہورہا تھا کہ چوہدری‘ چیمہ اور بزدار ایک کیمپ ہیں اور گورنر دوسرے کیمپ میں ’اور یہ تینوں ”مظلوم“ مل کر گورنر کے کیمپ کا مقابلہ کررہے تھے۔ اب جب جہانگیر ترین اپنی بہن کی سینیٹ کی سیٹ کے لیے ووٹ مانگنے گئے تو چیمہ اور چوہدری نے شکایتوں کے انبار لگا دیے کہ وزیراعلیٰ کو نہیں چلنے دیا جا رہا۔
اس پس منظر میں جب وزیراعلیٰ بزدار نے یہ کہا کہ ان کا تو کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہیں اور وہ سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں۔ اور اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے بزدار نے یہ انکشاف کیا کہ وہ تو روز گورنر ہاؤس میں واک کرتے ہیں اور گورنر سے ملاقات بھی ہوتی ہے تو سب کا حیران ہونا بنتا تھا کہ کہیں کی اینٹ ’کہیں کا روڑا اکٹھا کر کے عمران خان نے یہ کیسا بھان متی کا کنبہ جوڑ لیا ہے۔ ہمارے چہروں پر پھیلی حیرت دیکھ کر بزدار کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

اشتہار


سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ہم تو بزدار کو سادہ سمجھ بیٹھے تھے‘ وہ تو راج نیتی کا اپنا پورا کھیل کھیل رہے تھے۔ وہ چوہدریوں اور چیمہ کے ساتھ بھی فٹ تھے ’جو اپنے تئیں بزدار کو سادہ لوح سمجھ کر اختیارات لے کر دے رہے تھے‘ جبکہ خود بزدار چپکے سے شام کو گورنر سے بھی ملاقاتیں کررہے تھے ’جس کا پرویز الٰہی کو شاید علم نہ تھا۔ بزدار نے دونوں‘ جٹوں اور آرائیوں کو مطمئن رکھا ہوا تھا۔ وہ جٹوں کے کہنے پر ان کے من پسند افسران کے تبادلے کررہے تھے تو گورنر سرور کو اپنی برادری کا آئی جی پولیس لگوانے میں مدد بھی دی۔ چوہدری اور چیمہ یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ’بچہ جمہورا‘ وزیراعلیٰ ان کے ہاتھ میں ہے اور گورنر سرور سے بہت مزاحمت کا سامنا ہے ’حالانکہ اب پتہ چل رہا تھا کہ بزدار کو گورنر سرور سے کوئی مسئلہ نہیں۔ دونوں جٹ آرائیں ایک دوسرے کے دشمن‘ لیکن بزدار سے دونوں خوش ہیں۔

ویسے گورنر سرور کیمپ کی بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ خود بزدار چند ماہ پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہوئے جبکہ چوہدری پرویز الٰہی اور چیمہ تحریک انصاف سے نہیں۔ صوبہ تو وہ تین لوگ اپنی مرضی سے چلا رہے ہیں جن کا تحریک انصاف سے براہ راست تعلق نہیں ’گورنر سرور اکیلے ہیں جو تحریک انصاف سے ہیں۔ اگر گورنر کا رول بھی ختم کرنا ہے تو پھر تحریک انصاف تو پنجاب میں کارنر ہوگئی۔ ‘ گلیاں سنجیاں ہوں جہاں چیمہ ’چوہدری اور بزدار پھریں اور تحریک انصاف کا کسی جگہ کوئی کردار نہ ہو‘ ۔

میں کافی دیر سے یہ سب سن رہا تھا ’پھر بول پڑا: بزدار صاحب آپ کو تو یہ سب کچھ سوٹ کرتا ہے کہ چوہدری‘ چیمہ ’جٹ‘ آرائیں ایک دوسرے سے لڑتے رہیں اور آپ آرام سے ان کی لڑائی انجوائے کریں۔ اگر چیمہ ’چوہدری یا جٹ‘ آرائیں اکٹھے ہوگئے تو آپ کی تو چھٹی۔ آپ کا مفاد تو اس میں ہے کہ یہ سب لڑتے رہیں اور آپ راج نیتی کرتے رہیں۔ بزدار صاحب نے میری طرف غور سے دیکھا اور مسکرا کر رہ گئے۔

خاور گھمن نے بلدیاتی الیکشن پر پوچھا۔ ایک اور سوال یہ پوچھا گیا کہ خبریں آرہی ہیں کہ دوبارہ ایم این ایز اور ایم پی ایز کو ترقیاتی فنڈز دیے جارہے ہیں۔ بزدار نے سمجھداری سے بات گھمائی اور کہا: فنڈز ایم این ایز کونہیں دیے جا رہے۔ ضلع کی سطح پر ایک کمیٹی بنے گی جس کا سربراہ ڈپٹی کمشنر ہوگا۔ یہ فنڈ اس کو جائیں گے۔ ایم این اے اور ایم پی اے اپنی ترقیاتی سکیمیں دے سکیں گے۔ اس پر میں نے کہا: جناب پہلے بھی یہی ہوتا تھا ’کسی ایم این اے کی جیب میں براہ راست پیسے نہیں ڈالے جاتے تھے بلکہ ایم این اے کا حصہ ضلع میں بھیج کر اس کی مرضی کے ٹھیکیدار کو وہ ٹھیکہ دیا جاتا اور اس میں سے نقد حصہ بقدر جثہ ایم این اے یا ایم پی اے کو ملتا۔

پیپلز پارٹی دور میں ایم این ایز اور سینیٹرز نے ایک کروڑ کے ترقیاتی فنڈز پر بیس سے پچیس لاکھ روپے کمیشن لیا تھا۔ مطلب بڑا واضح تھا کہ آخر کار عمران خان‘ جو ساری عمر ترقیاتی فنڈز کے خلاف تقریریں کرتے رہے اور اسے سیاسی کرپشن کہتے رہے ’بھی پارٹی کے لوگوں کے ہاتھوں مجبور ہوگئے کہ وہ جو الیکشن پر خرچ کرچکے ہیں اب اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔ وہی پرانا نظام لوٹ رہا تھا۔ سوال یہ تھا کہ اگر ایم این ایز اور ایم پی ایز نے ہی ضلع کی ترقیاتی سکیمیں شروع کرنی ہیں تو پھر بلدیاتی نظام کا کیا فائدہ؟ مطلب صاف تھا کہ آخر کار یہ بلدیاتی ادارے بھی ڈمی بن کر رہ جائیں گے‘ جیسے شریف دور میں ہوا۔ بلدیاتی نظام کو مضبوط کرنے کی کہانی فراڈ نکلی۔

بزدار سے آخر وہ سوال پوچھ ہی لیا گیا کہ عمران خان نے ان میں کیا خاص بات دیکھی کہ فوراً وزیراعلی ٰبنا دیا؟ حامد میر کا پکا خیال تھا کہ وہ ایک گروپ کے ساتھ عمران خان سے ملنے گئے تھے اور دوران ملاقات عمران خان سے ہسپتال مانگا تو عمران خان متاثر ہوگئے۔ لیکن یہ بات کسی کو ہضم نہیں ہورہی تھی کہ عمران خان نے اپنی پارٹی کو چھوڑ کر ایک گمنام بندے کو وزیراعلیٰ بنا دیا ’جسے پارٹی میں کوئی جانتا تھا اور نہ ہی شخصیت اتنی زبردست تھی کہ سب ان کے رعب میں آجاتے۔

اشتہار



ہم سب بزدار صاحب کی طرف متوجہ تھے کہ وہ اب کیا کہانی سناتے ہیں کہ انہیں کیسے، کس نے اور کیوں وزیر اعلیٰ بنایا تھا؟ وہ کون سی خوبی تھی جو عمران خان صاحب کو ان میں نظر آ گئی‘ لیکن ابھی تک پوری قوم وہ دیکھنے سے قاصر تھی؟

حامد میر، مہر بخاری، فریحہ ادریس، صابر شاکر، ضمیر حیدر، خاور گھمن، سمیع ابراہیم اور دیگر سب وزیر اعلیٰ کی طرف دیکھ رہے تھے اور کمرے میں پِن ڈراپ خاموشی تھی۔ وزیر اعلیٰ کے مشیر شہباز گل کے چہرے پر بہرحال مسکراہٹ تھی جیسے وہ سب جانتے ہوں۔

عثمان بزدار بولے کہ انہوں نے واقعی کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا وہ وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔ وہ تو پہلی دفعہ الیکشن جیت کر اسمبلی پہنچے تھے‘ اور انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ لاہور میں واقع اسمبلی پہنچ کر انہوں نے کہاں جانا ہے۔ حلف اٹھانے کے لیے وہ اسمبلی پہنچے تو ہال میں جانے کی بجائے کسی اور طرف جا نکلے۔ وہاں سے اسمبلی ہال کی تلاش شروع کی کسی اور جگہ جا نکلے۔ آخر فون نکال کر اپنے ایم پی اے دوست کو فون کیا: یار یہ تو بتائو اسمبلی کا ہال کدھر ہے۔ دوست نے بتایا: اسمبلی ہال اوپر ہے۔ جب وہ اسمبلی ہال پہنچے اور وہاں شور شرابا دیکھا تو وہ پریشان ہوئے کہ یہ کیا ہو رہا ہے۔ بزدار نے اپنے ساتھی ایم پی ایز سے پوچھا: یار وزیر اعلیٰ کون ہو گا؟ وہ ایک دوسرے سے یہ سب کچھ پوچھتے رہے لیکن کسی کو علم نہ تھا کہ وزیر اعلیٰ کون ہو گا۔

بزدار اسمبلی ہال سے نکلے تو فون پر مس کالیں آئی ہوئی تھیں۔ بات ہوئی تو انہیں کہا گیا: آپ اسلام آباد آ جائیں۔ بزدار نے کالر کو جواب دیا کہ وہ کیسے آ جائیں؟ انہوں نے سپیکر کا ووٹ ڈالنا ہے اور پھر وزیر اعلیٰ کا انتخاب بھی ہونا ہے۔

بزدار صاحب کی باتوں سے لگ رہا تھا کہ کالر نے انہیں یہ نہیں بتایا تھا کہ عمران خان ان سے ملنا چاہتے ہیں‘ اس لیے وہ بضد رہے وہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کا ووٹ ڈال کر ہی اسلام آباد آ سکتے ہیں۔ بزدار کو بتایا گیا: اہم اور حساس معاملہ ہے لہٰذا فوراً اسلام آباد تشریف لائیں۔

خیر ووٹ ڈالنے کے بعد اگلے دن وہ روانہ ہو گئے۔ اسلام آباد پہنچے تو گاڑی شہر میں رکنے کی بجائے مری کی طرف جا رہی تھی۔ انہوں نے اس نامعلوم ساتھی سے پوچھا: ہم کدھر جا رہے ہیں۔ اس پر ان کے ساتھی نے انہیں بتایا کہ وہ بنی گالہ جا رہے ہیں۔ بزدار کے لیے یہ حیران کن بات تھی کہ وہ عمران خان سے ملنے جا رہے تھے۔

اشتہار


بنی گالہ پہنچے تو عمران خان نے خوش خبری سنائی کہ انہیں وزیر اعلیٰ بنایا جا رہا ہے۔ اس پر بزدار کے بقول انہوں نے عمران خان سے کہا کہ وہ پہلی دفعہ الیکشن جیت کر اسمبلی پہنچے ہیں‘ انہیں کوئی تجربہ بھی نہیں ہے‘ وزارت اعلیٰ تو بہت بڑی بات ہے۔ اس پر عمران خان نے حوصلہ بڑھایا اور کہا: مجھے علم ہے‘ تم اچھے وزیر اعلیٰ بنو گے۔

بزدار نے بنی گالہ سے باہر نکل کا پہلا فون اس ایم پی اے دوست کو کیا‘ جس سے راستہ پوچھ کر وہ اسمبلی ہال پہنچے تھے۔ اسے کہا: پتہ ہے وزیر اعلیٰ کون بن رہا ہے؟ اس نے وہی بات دہرائی کہ کوئی بن جائے ہم میں سے تو کسی نے نہیں بننا۔ اس پر بزدار نے اپنے اس دوست سے کہا: تو پھر سن لو میں ہی وزیر اعلیٰ پنجاب بن رہا ہوں۔ اس پر دوست نے قہقہہ مارا اور کہا: بزدار تم تو رہنے دو‘ اب اتنا بھی نہیں ہے تم وزیر اعلیٰ بن جائو۔ بزدار نے کہا: چلیں پھر کل دیکھ لینا۔

بزدار نے اپنی کہانی ختم کی اور ہم سب کے چہروں کی طرف دیکھا‘ جہاں صاف لکھا ہوا تھا کہ کسی کو اس کہانی پر یقین نہیں آ رہا۔ لیکن احتراماً کسی نے ان کی کہانی کو جھٹلانے یا اس میں کیڑے نکالنے کی کوشش نہ کی۔ اچھا نہیں لگتا تھا‘ لہٰذا مروتاً سب چپ رہے‘ لیکن سب کو علم تھا کہ بات اتنی سادہ نہیں ہے‘ جتنی آسانی سے چند منٹوں میں بزدار نے ختم کر دی‘ اور فلمی کہانی کا ہیپی اینڈ بھی کر دیا تھا کہ ‘وہ پھر سب ہنسی خوشی رہنے لگے‘۔

اس کہانی میں بہت سارے جھول تھے۔ سب سے بڑا یہ کہ جس بندے نے بزدار کو کال کی تھی‘ کیا اس نے نہیں بتایا تھا کہ عمران خان ان سے ملنا چاہتے ہیں؟ اگر انہیں عمران خان کا بتایا گیا تو بھی انہوں نے اسلام آباد جانے سے انکار کیا؟ اسلام آباد پہنچنے تک بھی انہیں پتہ نہیں تھا کہ عمران خان صاحب سے ملنا ہے؟ تو وہ کون بندہ اتنا قابل اعتبار تھا جس کے فون کال پر بغیر پوچھ گچھ کیے وہ اسلام آباد روانہ ہو گئے اور بنی گالہ کے قریب پہنچ کر انہیں بتایا گیا کہ انہیں عمران خان سے ملاقات کرنی ہے؟ جب انہیں کہا گیا کہ بہت حساس اور اہم معاملہ ہے تو بھی انہوں نے کچھ سن گن لینے کی کوشش نہیں کی کہ ڈیرہ غازی خان کے دور دراز پہاڑوں میں رہنے والے ایک عام ایم پی اے سے کسی کو کیا خاص اور اہم بات کسی حساس معاملے پر کرنی تھی‘ لہٰذا وہ کچھ پوچھے بغیر گاڑی پر اسلام آباد کی طرف نکل پڑے؟
یقینا بزدار صاحب پوری بات نہیں بتا رہے تھے اور یہ ان کا حق بھی تھا کہ وہ ان لوگوں کے نام خفیہ رکھیں جو اس پورے سیاسی کھیل میں شامل تھے کہ کس کی سفارش پر انہیں وزیر اعلیٰ بنایا گیا‘ خصوصاً جب انہوں نے عمر بھر سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ایک دن بارہ کروڑ آبادی والے صوبے کے وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔

ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا تو یہ لگا کہ سب یہی سوچ رہے تھے۔ ایسا کسی فلمی کہانی میں تو ہو سکتا ہے لیکن حقیقی زندگی میں اتنے اتفاقات ایک ساتھ نہیں ہو سکتے جتنے بزدار صاحب نے ہمیں سنا دیے تھے۔

خیر ان سے اگلا سوال علیحدہ سرائیکی صوبہ پر ہوا تو وہ کہنے لگے: بہت جلد وہ ملتان جا کر بیٹھا کریں گے اور ڈیرہ بھی چکر لگائیں گے۔ اس حوالے سے تیاری ہو رہی ہے جو بہت جلد سامنے آئے گی۔ میں نے کہا: بزدار صاحب! ملتان میں آموں کے باغوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ اسی ملتان یونیورسٹی روڈ پر روز ٹرالیاں کٹے آموں کی لکڑیاں لے کر جا رہی ہیں جہاں آپ پڑھتے تھے، ملتان میں ہر طرف زرعی زمین تباہ ہو گئی ہے۔ ہر طرف ہائوسنگ سوسائٹیز نے بربادی کر دی ہے۔ لاہور سے اسلام آباد موٹر وے پر بھی اب ہزاروں ایکڑ زرعی زمین پر ہائوسنگ سوسائٹیز بن رہی ہیں۔ جی ٹی روڑ پر لاہور سے گوجرانوالہ تک دونوں اطراف آپ کو سریا سیمنٹ سے بنی دکانیں، سوسائٹیز نظر آتی ہیں، کھیت غائب ہو گئے ہیں، آپ کوئی اور کام کریں یا نہ کریں، فوری طور پر زرعی زمینوں پر ہائوسنگ سوسائٹیز پر پابندی لگائیں، کچھ عرصے بعد آپ کے پاس زراعت کے لیے زمین نہیں بچے گی۔

اشتہار


بزدار صاحب نے کہا: درست کہہ رہے ہیں لیکن آپ بتائیں اگر صوبہ بنتا ہے تو پھر زمین کہاں سے آئے گی‘ جہاں سیکرٹریٹ اور دیگر دفاتر اور بلڈنگیں بنیں گی؟ میں نے کہا: آپ واٹر لیول چیک کرا کے مظفر گڑھ سے شروع ہونے والے تھل میں سروے کرائیں اور سیکرٹریٹ شہر اور آباد زرعی زمینوں سے دور بنائیں یا پھر ملتان لودھراں کے درمیان جگہ تلاش کریں جو ابھی آباد نہ ہوئی ہو تاکہ زرعی زمین مزید برباد نہ ہو‘ نہ ہی آم کے باغ یا ہزاروں درخت کٹیں۔

اتنی دیر میں کچھ دوستوں نے بزدار صاحب سے سرائیکی علاقوں میں منصوبوں کے بارے میں پوچھنا شروع کیا تو ان کے مشیر شہباز گل مجھے دیکھ کر مسکرائے اور بولے: جناب مظفر گڑھ میانوالی روڈ کی تعمیر ہماری ترجیح ہے۔ شہباز گل کا مطلب تھا: آپ تسلی رکھیں کہ ایم ایم روڈ بنے گی۔

میرے بولنے سے پہلے ہی عثمان بزدار بولے: ایم ایم روڈ کی بہت بری حالت ہے۔ ہم تو اسے خونیں روڈ کہتے ہیں جہاں روزانہ انسان حادثوں میں مر رہے ہیں۔

اتنی دیر میں بزدار صاحب پر صحافیوں کی تنقید کی بات چل نکلی تو کسی نے کالم نگار ہارون الرشید کا نام لیا۔ شہباز گل کہنے لگے :انہیں بلایا گیا تھا ’وہ خود نہیں آئے۔ کسی نے کہا: وہ تو کالموں میں لکھتے ہیں کہ انہوں نے بائیس برس خان کا ساتھ دیا‘ اب وہ کہیں نظر نہیں آتے۔ اس پر میں بول پڑا اور کہا: اس بات میں کیا شک ہے؟ اگر ان بائیس برس میں کسی نے عمران خان کا اکیلے ساتھ دیا تو وہ ہارون الرشید تھے۔ ہارون صاحب نے عمران خان کے لیے دشمنیاں پالیں ’پیپلز پارٹی اور نواز لیگ سے گالیاں کھائیں‘ لیکن ڈٹ کر کھڑے رہے۔

ہمارے جیسے جب ہارون الرشید کو طنزیہ انداز میں کہتے تھے: استادِ محترم کس کے پیچھے کھڑے ہو گئے ہیں؟ عمران خان نے وزیراعظم نہیں بننا ’تو وہ ہنس کر کہتے تھے : جس دن وزیراعظم عمران خان حلف اٹھارہا ہوگا‘ تمہیں میں وہاں خود لے کر جاؤں گا۔ وہ کسی اور کو کیا ساتھ لے کر جاتے ’انہیں تو خود عمران خان نے حلف برداری کی تقریب میں نہیں بلایا۔ میں نے کہا :وزیراعظم عمران خان کو ظرف دکھانا چاہیے تھا ؛ اگر ناراضی بھی تھی‘ تو ایسے موقعوں پر دوست کے طور پر نہیں ’تو صحافی کے طور پر ہی بلا لیتے۔

ہارون الرشید کا بڑا نام ہے۔ عمران خان کو پاکستان میں سیاستدان کے طور پر متعارف کرانے میں جن چند کالم نگاروں کا ہاتھ ہے‘ ان میں ہارون الرشید کا نام ٹاپ پر ہے۔ عمران خان کی صحافیوں سے کئی ملاقاتیں ہوئیں تو بھی ہارون الرشید موجود نہیں تھے ’بلکہ یہ تاثر دیا گیا شاید جان بوجھ کر نام فہرست سے کاٹا گیا۔ پتا چلا ہارون الرشید کی تنقید سے عمران خان اور ان کے حواری ناراض ہیں۔ وہ یہ کیوں بھول گئے کہ وہ پہلے صحافی ہیں‘ پھر کچھ اور۔

جنرل مشرف ’شوکت عزیز‘ گیلانی ’شریف اور زرداری تک سب کا یہی رویہ تھا تو اس سے ہارون الرشید یا دیگر پر کیا فرق پڑا۔ اب بھی اس سے ہارون الرشید پر کیا فرق پڑے گا۔ وزیراعظم آتے جاتے رہتے ہیں۔ اقتدار کس کے پاس مستقل رہا ہے؟ وہ کالم لکھتے ہیں اور انشاء اللہ لکھتے رہیں گے۔ میں نے کہا: بزدار صاحب آپ ہارون الرشید کو لاہور بلائیں۔ شہباز گل نے کہا :وہ یقینا انہیں دوبارہ دعوت دیں گے۔

بات پھر سرائیکی علاقوں کی طرف مڑ گئی کہ وہاں بنیادی انفراسٹرکچر تک موجود نہیں ہے۔ بزدار صاحب بتانے لگے :ان کے اپنے علاقے میں ایک غریب کا فون آیا ’جس کو کینسر ہے‘ لیکن علاج تک کے پیسے نہیں۔ کہنے لگے :اسے تونسہ ہسپتال داخل کرادیا تھا۔ میں نے کہا:بندہ پرور تونسہ میں کون سا انکولوجسٹ بیٹھا ہے ’جو کیمو یا علاج کرے گا۔ اس وقت نشتر ہسپتال ملتان کے ایک چھوٹے سے وارڈ میں بلوچستان سے لے کر سندھ‘ میانوالی اور ڈیرہ اسماعیل خان سے کینسر کے مریض آتے ہیں۔

اس وقت ملتان میں ایک بڑے کینسر ہسپتال کی ضرورت ہے۔ بزدار بولے ہمارے ہاں کینسر کا مسئلہ زیادہ ہے۔ بولے کہ وہ تونسہ میں میڈیکل کالج ’انجینئرنگ اور دیگر یونیورسٹیاں بنائیں گے۔ میں نے کہا: اچھی بات ہے‘ کبھی میں بھی خوش ہوتا تھا ’ہمارے علاقوں میں یہ سب سہولتیں ہوں‘ لیکن آپ تونسہ میڈیکل کالج میں پڑھانے کے لیے اچھے اور قابل پروفیسر ڈاکٹرز کہاں سے لائیں گے؟ کوئی بھی لاہور ’ملتان‘ بہاولپور ’کراچی کے میڈیکل کالجز چھوڑ کر نہیں آئے گا اور یوں اعلیٰ معیاری میڈیکل تعلیم نہیں ملے گی۔

اشتہار



اس لیے بہت سارے ایسے منصوبے ماضی میں ناکام ہوئے‘ کیونکہ معیاری تعلیم نہ مل سکی۔ اس کا حل سوچیں ’جہاں اچھے استاد‘ پروفیسرز ملیں۔ ڈیرہ غازی خان میڈیکل کالج کے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہوا۔ سرائیکی علاقوں میں سڑکیں نہ ہونے پر بات ہونے لگی تو وزیراعلیٰ بولے :اب پنجاب کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ بزدار کہنے لگے کہ وہ Built، Operate and Transfer کی بنیاد پر سڑکیں بنوانے کا سوچ رہے ہیں۔ کوئی پرائیویٹ پارٹی خود ان علاقوں میں سڑک بنائے ’اور وہی وہاں سے ٹیکس لگا کر اپنی ریکوری کر لے۔

میں نے ہنس کر کہا: جب سرائیکی علاقوں کی ترقی کی بات ہونے لگی ہے تو لاہور کی بیوروکریسی کہتی ہے ہمارے پاس تو پیسہ نہیں ہے۔ کسی کنٹریکٹر سے پیسے پکڑ کر بنوا لو اور وہ ٹھیکیدار اگلے پچاس سال تک اس کی ریکوری کرتا رہے گا‘ جبکہ اسی بیوروکریسی نے شہباز شریف کے حکم پر چین سے پونے دو ارب ڈالرز کا قرضہ لے کر صرف چھبیس کلومیٹر ٹرین بنا دی ’لیکن جنوب کے لیے کہتے ہیں‘ پیسے نہیں ہیں۔

اس دوران میرا سوال تھا :پنجاب میں ایک نیا کھیل شروع ہوگیا ہے ’روز افسران تعینات ہوتے ہیں اور چوبیس گھنٹوں بعد جب وہ مبارکبادیں وصول کرچکے ہوتے ہیں تو لاہور سے حکم جاری ہوتا ہے‘ جناب واپس آجائیں ’آپ کی جگہ کوئی اور لگ گیا ہے۔ میں نے آر پی او سہیل تاجک کی مثال دی کہ ایک اچھا افسر بہاولپور میں لگا تھا‘ اسے راتوں رات ہٹا دیا گیا۔ کیا آپ کے نوٹس میں یہ ہوتا ہے یا آپ کو بھی ہماری طرح خبروں سے پتا چلتا ہے؟

اس پر ایک اور سوال ان سے کیا گیا پولیس ریفارمز کا تو اللہ ہی حافظ ہے ’کیونکہ آئی جی درانی نے بھی حکومت کی وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا؛ اگر آپ لوگوں نے بھی شہباز شریف دور کی طرح پنجاب چلانا ہے‘ تو پھر اتنی امیدیں دلانے کی کیا ضرورت تھی؟ بزدار صاحب بولے : انہوں نے پوسٹنگ سے پہلے افسران کے انٹرویوز خودکیے تھے۔ سہیل تاجک کو وہ ذاتی طور پرجانتے ہیں ’وہ ڈیرہ غازی خان کے آر پی او تھے اور ان کی کارگردگی اچھی تھی‘ تاہم بہاولپور سے ہٹانے کی کچھ وجوہات تھیں۔ انہیں وہاں مسائل کا سامنا ہوتا ’اس لیے انہیں ہٹایا۔
ناصر درانی کے استعفیٰ پر بولے : جو خود چھوڑ کر جانا چاہے‘ اسے کون روکے۔ یہ جواب کچھ حیران کرگیا ’کیونکہ اسی ناصر درانی کا نام بیچ کر پی ٹی آئی نے پنجاب میں الیکشن جیتا تھا اور اب درانی کی ضرورت نہیں تھی۔ مطلب اقتدار مل گیا‘ اب کوئی رہے یا جائے ہمارا سر درد نہیں۔ میں نے کہا: بزدار صاحب جیسے آپ پنجاب میں کررہے ہیں کہ دن کو آپ کسی کو آر پی او ’کمشنر‘ ڈپٹی کمشنر یا ڈی پی او کو لگاتے ہیں اور رات کو آرڈر بدل دیے جاتے ہیں۔

آپ کو کیسے لگتا؛ اگر عمران خان نے آپ کے ساتھ یہی کیا ہوتا؟ خان نے آپ کوبنی گالا بلایا ’ایسی پوسٹ دی‘ جو آپ نے خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔ آپ نے باہر نکل کر خاندان ’دوستوں یاروں اور ساتھی ایم پی اے کو فون کر کے بتایا میں پنجاب کا وزیراعلیٰ رہا ہوں۔ آپ نے یہ سوچنا شروع کردیا کہ لوگوں کی خدمت کرنی ہے‘ عام انسان کی زندگی بدلنی ہے۔ آپ رات دیر تک یہ پلاننگ کرتے سوتے اور صبح آپ ٹی وی کھولتے تو بریکنگ خبر چل رہی ہوتی کہ عمران خان نے آپ کی جگہ کسی اور کو پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا دیا۔ آپ کو کیسا محسوس ہوتا؟ بزدار صاحب چند لمحے گہری سوچ میں ڈوبے رہے۔ آخر میری طرف دیکھا اور بولے : یہ تو پھر عمران خان کی مرضی تھی!

سب ہنس پڑے۔

تو وہی سوال۔ کیا تین ماہ بعد بزدار بدل گیا ہے ’جس کی پیش گوئی وزیراعظم عمران خان نے کی تھی؟ کل پنجاب حکومت کے سرکاری افسر کا میسج تھا: یار یہ تصویر دیکھو‘ یہ کبھی شہباز شریف کا پرسنل سٹاف افسر تھا ’جسے اب گورنر سرور نے بزدار صاحب کے ساتھ لگوایا ہوا ہے۔ وہ افسر ایسے ایکٹنگ کرتا ہے‘ جیسے وہی سب کا باس ہو۔ سب اس سے تنگ ہیں۔ میں نے کہا :بزدار صاحب اسے ہٹا دیں ’اگر وہ تنگ ہیں؟ کہنے لگے : کیا کریں بزدار صاحب مروت کا شکار ہیں۔

میں نے کہا: اگر بزدار صاحب اپنے سٹاف کا افسر بھی گورنر سرور کی ناراضی کے خوف سے نہیں بدل سکتے تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں خود کتنے تبدیل ہوسکیں گے‘ جس کا دعویٰ عمران خان نے کر رکھا ہے۔ اس نے کہا تو پھر کیا کریں؟ میں نے کہا: بزدار صاحب کو میل گبسن کی فلم Brave Heart دکھائیں اور اس کا وہ سین ’جس میں انگلینڈ کا بادشاہ ایڈورڈ اپنے بیٹے میں بادشاہوں والی خوبیاں نہ پا کر اپنے بیٹے کے نالائق مشیر کو محل کی کھڑکی سے نیچے پھینک کر شدید مایوسی کے عالم میں اپنے بیٹے پر چلاتا ہے :One day you will be King، at least try to act like one ”ایک دن تم نے بادشاہ بننا ہے۔ اور کچھ نہیں تو بادشاہوں والی اداکاری ہی کرلو“۔ (ختم)

اشتہار


اپنا تبصرہ بھیجیں