پاکستان کے کرتارپور سرحد کھولنے کے فیصلے پر بھارت کی توثیق

اسلام آباد: بھارتی حکومت نے پاکستان کی جانب سے کرتارپور کی سرحد کھولنے کی پیشکش کو قبول کرلیا، جبکہ بھارتی کابینہ نے سرحد کھولنے سے متعلق منظوری بھی دے دی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا کہ بھارت کی وفاقی کابینہ نے پاکستانی تجویز کی توثیق کردی۔

کرتارپور کی سرحد سے متعلق بھارتی حکومت کی توثیق کو فواد چوہدری نے دونوں ممالک کے درمیان امن قائم کرنے کی کوششوں میں جیت قرار دیا۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ یہ صحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہے اور ہم امید کرتے ہیں مستقبل میں ایسے مزید قدم اٹھائے جائیں گے، جس سے سرحد کے دونوں جانب امن فضا قائم کرنے میں حوصلہ افزائی ہو۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا۔

وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پہلے ہی بھارتی حکومت بتا دیا تھا کہ وہ گرو نانک صاحب کے 550ویں یومِ پیدائش کے موقع پر کرتارپور سرحد کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم عمران خان 28 نومبر کو کرتارپور کوریڈور کا سنگِ بنیاد رکھیں گے۔

وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے پیغام میں سکھ برادری کو پاکستان میں اس پرمسرت موقع پر مبارکباد بھی دی۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے بھی نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کو خط لکھا اور کرتار پور کوریڈور کو کھولنے سے متعلق حکومتِ پاکستان کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا۔

خط میں کہا گیا کہ بھارتی حکومت ضلع گرداس پور میں ڈیرہ بابا نانک صاحب سے لے کر بین الاقوامی سرحد تک ’کرتار پور کوریڈور‘ قائم کرے گی۔

بھارتی حکومت نے پاکستان سے درخواست کی کہ سکھ برادری کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے سرحد کے دوسری جانب کوریڈور کی تعمیر کرے تاکہ بھارتی یاتریوں کے لیے سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم عمران کی تقریب حلف برداری کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باوجوہ نے تقریب کے لیے آئے ہوئے سابق بھارتی کرکٹر اور ریاست پنجاب کے وزیرِ بلدیات نوجوت سنگھ سدھو سے ملاقات کی تھی۔

ملاقات کے دوران آرمی چیف نوجوت سنگھ سدھو سے بغل گیر ہوئے تھے اور ان سے کہا تھا کہ وہ گرو نناک صاحب کے یوم پیدائش کے موقع پر بھارتی سکھ یاتریوں کے لیے کرتارپور کی سرحد کھولنے سے متلعق بات کریں گے۔

بعدِ ازاں پاکستانی حکومت کی جانب سے بھارتی حکومت کو باقاعدہ طور پر کرتارپور کی سرحد کھولنے سے متعلق پیشکش کی تھی۔

خیال رہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بغل گیر ہونے پر نوجوت سنگھ سدھو کو بھارت میں شدید تنقید کا سامنا تھا، تاہم سدھو نے ہمیشہ تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں پاکستان خالی ہاتھ گیا تھا لیکن واپسی پر کرتار پور کا تحفہ لایا ہوں‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں