جمال خاشقجی کا قتل: محمد بن سلمان کی آڈیو ریکارڈنگ سی آئی اے کے پاس ہے، ترک اخبار

ترک اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی فون کال کی ریکارڈنگ امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے پاس ہے جس میں محمد بن سلمان صحافی جمال خاشقجی کو جلد از جلد خاموش کرنے کی ہدایت کررہے ہیں۔

ترک میڈیا کے مطابق سی آئی اے کے پاس جس فون کال کی ریکارڈنگ ہے وہ مبینہ طور پر محمد بن سلمان کی جانب سے اپنے بھائی خالد بن سلمان کو کی گئی تھی جس میں انہوں نے جمال خاشقجی کو جلد از جلد خاموش کرنے کی ہدایت کی۔

اخبار کے مطابق فون کال میں سنا جاسکتا ہے کہ محمد بن سلمان خاشقجی کو جلد از جلد خاموش کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں۔ سی آئی اے کے پاس محمد بن سلمان کی فون کال ریکارڈنگ ہونے کی خبر ترک کالم نویس عبدالقادر سیلوی نے دی۔

خیال رہے کہ چند روز قبل ترکی کے شہر استنبول میں سعودی قونصل خانے کے اندر قتل ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سنسنی خیز آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تھی۔

ترک میڈیا نے ایک آڈیو ریکارڈنگ کی تفصیلات جاری کی تھیں جو مبینہ طور پر جمال خاشقجی اور قاتلوں کی گفتگو پر مبنی تھی۔

ریکارڈنگ میں مبینہ طور پر جمال خاشقجی کہہ رہے ہیں کہ ‘چھوڑو میرا ہاتھ، تمہیں پتہ ہے تم کیا کر رہے ہو؟’

ترک اخبار کے مطابق سعودی قونصل خانے میں خاشقجی کے داخل ہوتے ہی شور، لڑائی جھگڑے کی آوازیں ریکارڈ ہوئیں۔

آڈیو ٹیپ میں ریکارڈ آواز کے مطابق ایک شخص کہہ رہا ہے کہ ‘اُس آدمی کے کپڑے پہنناعجیب ہے جسے ہم نے 20 منٹ پہلے قتل کیا’۔

قتل کے بعد جمال خاشقجی کے کپڑے پہن کر باہر نکلنے والے شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ‘جوتے چھوٹے ہیں، دوسرے پہننے دو’۔

ترک اخبار روزنامہ حریت کے مطابق جوتے چھوٹے ہونے کی شکایت والے شخص کی آواز مصطفےٰ المدنی کی تھی، مصطفےٰ المدنی کو چند گھنٹے بعد خاشقجی کے کپڑے پہنے بلو مسجد کے سامنے سے گزرتے دیکھا گیا تھا۔

خیال رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کیلئے کام کرنے والے جمال خاشقجی 2 اکتوبر کو کاغذات کی تصدیق کیلئے سعودی قونصل خانے گئے تھے تاہم واپس نہیں آئے تھے۔

امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) اپنی تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ترکی میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا تھا۔ سعودی عرب نے جمال خاشقجی کے قتل میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ملوث ہونے کی سختی سے تردید کی ہے۔

گزشتہ روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان سامنے آیا تھا کہ سی آئی اے کے پاس اس قتل میں سعودی ولی عہد کے براہ راست ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود نہیں لہٰذا مفروضوں کی بنیاد پر سعودی عرب سے تعلقات معطل کرکے عالمی معیشت کو خطرے میں نہیں ڈالا جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں