کراچی: چینی قونصل خانے پر حملہ 7 افراد ہلاک

کراچی کے علاقے کلفٹن میں قائم چینی قونصل خانے کے قریب فائرنگ سے 2 پولیس اہلکار شہید، 2 نامعلوم افراد جاں بحق اور ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا جبکہ جوابی کارروائی میں تینوں حملہ آور مارے گئے۔

چینی قونصل خانے کے قریب حملہ آوروں نے سیکیورٹی گارڈز پر فائرنگ کی تھی اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی، جس کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری طلب کی گئی۔

ڈی آئی جی جنوبی جاوید عالم اوڈھو نے چینی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں 2 پولیس اہلکار شہید اور نجی کمپنی کا ایک سیکیورٹی گارڈ زخمی ہوا۔

ابتدا میں ڈی آئی جی جنوبی کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا، جس کے قبضے سے خودکش جیکٹ اور اسلحہ برآمد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے حملہ آوروں کو قونصل خانے میں داخل نہیں ہونے دیا اور بروقت عمارت کے دروازے بند کرلیے گئے۔

علاوہ ازیں جناح ہسپتال کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے اس بات کی تصدیق کی کہ 2 اہلکاروں کی لاشوں جبکہ ایک زخمی کو ہسپتال لایا گیا۔

ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق شہید پولیس اہلکاروں کی شناخت محمد اشرف اور امیر کے نام سے ہوئی جبکہ زخمی فرد نجی سیکیورٹی گارڈ ہے جس کی شناخت جمعہ کے نام سے ہوئی ہے جو ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 3 حملہ آوروں کی لاشیں بھی ہسپتال منتقل کی گئیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں مزید 2 لاشیں جناح ہسپتال منتقل کی گئیں، جن کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ باپ بیٹا ہیں، جس کے بعد ہسپتال منتقل کی جانے والی لاشوں کی تعداد 7 ہوگئی۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال منتقل کیے جانے والوں کی عمریں 35 سے 65 سال کے درمیان ہیں۔

رپورٹس کے مطابق 3 یا 4 افراد نے کلفٹن کے علاقے میں واقعے چینی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی لیکن سیکیورٹی اہلکاروں نے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق قونصل خانے کے اطراف میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئی تھیں اور وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا۔

رپورٹس کے مطابق قونصل خانے کے قریب ایک سفید رنگ کی مشکوک کار بھی دیکھی گئی اور اس بات کا شبہ ظاہر کیا گیا کہ دہشت گرد اسی گاڑی میں آئے تھے، بعد ازاں پولیس نے مذکورہ گاڑی کو قبضے میں لے کر اس کی تلاشی کا کام شروع کردیا۔

فائرنگ کی اطلاعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں، جن میں پولیس، رینجرز اور خصوصی کمانڈوز اہلکار شامل تھے، نے قونصل خانے کے ساتھ ساتھ اطراف کے علاقے کا محاصرہ کیا جبکہ ٹریفک کی آمد و رفت بھی روک دی گئی۔

دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا اور دونوں رہنماؤں نے چینی قونصل خانے کے قریب فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس سے فوری طور پر رپورٹ طلب کی۔

وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے آئی جی کو ہدایت دی گئیں کہ وہ شہر قائد میں موجود تمام سفارتخانوں اور قونصل خانوں کی سیکیورٹی مزید سخت کرنے کے لیے اقدامات کریں۔

واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ سندھ نے چینی قونصل جنرل سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کیا اور ان سے خیریت دریافت کی۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے ڈی جی رینجرز اور آئی جی پولیس کو ہدایت دی ہیں اور بھرپور آپریشن کیا جائے۔

انہوں نے چینی قونصل جنرل کو یقین دہانی کرائی کہ آپ اطمینان رکھیں، حالات جلد ٹھیک ہوجائیں گے۔

واقعے کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ حملہ پاکستان اور چین کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش ہے کیونکہ دشمن قوتوں کو دونوں ممالک کے قریبی روابط کھٹک رہے ہیں۔

چینی قونصل خانے کی سیکیورٹی کی ذمہ دار نجی کمپنی کے سربراہ اکرام سہگل نے ڈان نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آوروں نے 2 جانب سے حملہ کیا، تاہم پولیس اہلکاروں نے اپنے جان پر کھیل کر اس حملے کو ناکام بنایا جبکہ بروقت قونصل خانے کے دروازوں کو بند کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ قونصل خانے میں موجود چینی عملہ محفوظ ہے لیکن حملہ آوروں کی تعداد سے متعلق فوری طور پر کہنا قبل از وقت ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں