Orya-Maqbool-Jan

برتھ کنٹرول اور انسانی زوال‌ (2)

آبادی کو کنٹرول کرنے کی انقلابی تحریک چلانے کا خواب ہمارے سادہ لوح اور عالمی سازشوں کی تاریخ کے مطالعہ سے تہی نابلد اصحاب عدل و انصاف نے ایسے نہیں دیکھ لیا اس کے پیچھے گزشتہ پچاس سالوں کا پراپیگنڈہ ہے۔ ایک خوف ہے جو دنیا بھر کے غریب اور پسماندہ ممالک پر مسلط کیا گیا ہے۔ برتھ کنٹرول کے اس پروگرام نے ساٹھ سالوں کے بعد جو حالات اب پیدا کئے ہیں۔ اس نے اس خوف کو ترقی یافتہ امریکہ اور یورپ کی جانب لوٹا دیا ہے جہاں اس وقت آبادی میں ہونے والی تیز رفتار کمی نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں کہ اگلی چند دہائیوں میں اس عظیم ترقی کے امین شہروں کے نظام کو چلانے کے لئے افراد موجود نہیں ہوں گے، کارخانوں میں مزدوروں کی شدید قلت ہو جائے گی، ان کے کھیت کھلیان انسانی محنت نہ ہونے کی وجہ سے اجڑ جائیں گے اور ان ملکوں میں بوڑھوں کی ایک وسیع آبادی ہو گی جن کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نوجوان موجود نہ ہو گا۔ اس بدترین صورت حال کا آغاز گزشتہ دس سالوں سے تقریباً 50کے قریب ممالک میں عموماً اور بیس ممالک میں خصوصا ہو چکا ہے۔ دنیا میں اس وقت اڑتیس ممالک ایسے ہیں جہاں آبادی بڑھنے سے رکی ہی نہیں بلکہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ ظاہر بات ہے یہ آبادی بوڑھوں کو مارنے سے کم نہیں ہوئی بلکہ نئی نسل کو دنیا میں آنے سے روکنے سے کم ہو ئی ہے۔ یوں ہر سال ایسے لاکھوں لوگ اس تعداد میں شامل ہو رہے ہیں جو کام کاج کرنے کے قابل ہی نہیں اور ان کی جگہ لینے کوئی بچہ اس دنیا میں نہیں آ رہا۔ ان اڑتیس ممالک میں سب سے اوپر سلواکیہ ہے جس کی آبادی میں سالانہ 0.1فیصد کمی ہو رہی ہے اور سب سے نیچے کک آئی لینڈ ہے جس کی آبادی میں سالانہ 2.79فیصد کمی واقع ہو رہی ہے۔ بحران کا شکار ان ممالک میں جرمنی‘ جاپان‘ روس ‘ یونان‘ پولینڈ‘ ہنگری‘ گرین لینڈ شامل ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جہاں اگر افریقہ اور ایشیا سے لوگ نہ بلائے جائیں تو کاروبار زندگی رک جائے۔اسی طرح پچاس ایسے ممالک کی فہرست بھی ہے جہاں آبادی ایک فیصد سے کم کی شرح سے بڑھ رہی ہے یہ بھی اس خطرناک انسانی زوال کی طرف گامزن ہیں۔ ان میں برطانیہ‘ فرانس‘ ہالینڈ‘ سپین‘ ڈنمارک‘ پرتگال اور دیگر ترقی یافتہ ملک شامل ہیں۔ دوسری جانب وہ ممالک ہیں جہاں آبادی بڑھنے کی رفتار دو فیصد سالانہ سے زیادہ ہے۔ کیونکہ کسی بھی معاشرے کو قائم رکھنے کے لئے سالانہ دو فیصد شرح پیدائش میں اضافہ ضروری ہے۔ یہ 45ممالک ہیں جن کی اکثریت افریقہ میں واقع ہے جبکہ پاکستان کی آبادی بڑھنے کی شرح 1.43فیصد ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ بنیادی طور پر برتھ کنٹرول پاپولیشن پلاننگ اور اس جیسے دیگر پروگرام شروع ہی افریقہ کے لئے کئے گئے تھے اور ان پروگراموں کے آغاز کی منظوری امریکی سکیورٹی کونسل کے اجلاس نمبر 365میں دی گئی جو 8مئی 1958ء کو منعقد ہوا۔ اس کا میمورنڈم 1960ء کے Foriegn Relationرسالے میں شائع ہوا۔ اس اجلاس میں سیکرٹری آف سٹیٹ یعنی امریکی وزیر خارجہ جان فاسٹر ڈلس کی یاداشت بڑھتی ہوئی آبادی کے پیچھے اصل خطرے کی نشاندہی کرتی ہے’’سیاہ فام افریقیوں کے لئے اسلام کی اپیل قدرتی ہے۔ اسلام کا نظم مواخواۃ حقیقی ہے۔ یہ افریقی عادات و رسوم اور توہمات میں ڈھل سکتا ہے اور یہ سفید فام یورپیوں کا مذہب نہیں ہے۔ مغربی افریقہ کے سبزہ زاروں اور صحرائی علاقوں میں محمڈن ازم کا ایک بہت بڑا جتھہ موجود ہے۔ موریطانیہ ‘ سینی گال اور فرانسیسی سوڈان میں سو فیصد مسلمان ہیں۔ جبکہ دوسرے علاقوں کے شمالی حصے بیشتر مسلمان ہیں۔ مثلاً نائجیریاکی کل 36ملین آبادی میں سے 16ملین مسلمان ہیں اور مغربی افریقہ کے ساحلی نیگروں کی روز افزوں تعداد اسلام قبول کر رہی ہے۔ آخر میں اس رپورٹ میں جس خوف کا اظہار کیا گیا ہے۔ اسی کی وجہ سے افریقہ اور ایشیا میں اقوام متحدہ کے ذریعے آبادی کم کرنے کے پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ رپورٹ تنبیہ کرتے ہوئے کہی ہے’’ہمیں ایک اور سیاہ فام مہدی کے ظہور کے متعلق چوکنا رہنا چاہیے جس کا ایک اسلامی قومی حکومت میں یہ لوگ ابتاع کریں گے۔
اشتہار



یہ 30ملین جنگجو لوگ ہیں اگر ایسی کوئی تحریک سامنے آتی ہے تو یہ موریطانیہ سے کانگو تک سارے مغربی ساحل کے سیاسی ڈھانچے کو اتھل پتھل کر کے رکھ سکتی ہے۔ اب ذرا سی آئی اے کے ان کلاسیفائڈ دستاویزات کے مارچ 1979ء کی اس رپورٹ کا ملاحظہ کریں’’دنیا کی شرح آبادی میں اضافے کا ان مقامی پر تشدد واقعات اور بین الاقوامی لڑائیوں میں براہ راست حصہ ہو گا جو امریکی مفادات کو بری طرح متاثر کریں گی‘‘ اس کے بعد ورلڈ بنک آئی ایم ایف‘ یو ایس ایڈ اور دیگر ادارے میں تمام قرضوں اور امداد کو ایک شرط کے ساتھ منسلک کر دیا گیا کہ تمام ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک اپنی آبادی میں کمی کس حد تک اور کیسے کرتے ہیں۔ جنوبی امریکہ‘ افریقہ اور ایشیا ممالک میں یہ پروگرام انتہائی زور شور اور جانفشانی سے چلایا گیا۔ پچاس سال تک اس پروگرام پر ان تمام ممالک کا ایک روپیہ بھی خرچ نہ ہوا تمام تر سرمایہ اس ’’زمین کو تباہی سے بچانے‘‘ کے نام پر امریکہ اور اس کے حواریوں نے اقوام متحدہ کے ذریعے یا پھر عالمی فورم اور این جی اوز کے ذریعے فراہم کیا۔ یہ غریب ملک تو جوں کے توں رہے بلکہ وہ افریقہ جس کے وسائل پر قبضہ کرنے کے لئے اس پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا تاکہ کم آبادی کی وجہ سے ہم آسانی سے لیتھیم سے لے کر کوبالٹ اور سونے سے لے کر تیل تک کے سب ذخائر پر قابض ہوں گے، وہ افریقہ تو آج بھی آبادی بڑھنے کے معاملے میں تیز رفتار ہے لیکن یورپ اور امریکہ نے اس برتھ کنٹرول کے حوالے سے جو بھگتا ہے وہ معاشی طور پر خطرناک تو ہے‘ اخلاقی اور خاندانی طور پر خوفناک ہے۔ خاندانی نظام تو مانع حمل ادویات کے بازار میں آنے کے ساتھ ہی تباہ ہونا شروع ہو گیا تھا۔1951ء میں ڈاکٹر اوسوالڈ شوازOswald sehwayzنے اپنی مشہور کتاب جنسی نفسیات میں بتایا کہ 1946ء میں ہر آٹھ میں سے ایک بچہ ناجائز پیدا ہوتا تھا اور ایک لاکھ عورتیں نکاح کے بغیر ماں بنتی تھیں لیکن آج صرف ایک ملک امریکہ میں ان کی تعداد دس لاکھ ناجائز بچے سالانہ ہو چکی ہے یہ اخلاقی زوال یوں آیا کہ پہلے خاندان ٹوٹے‘ پھر مانع حمل ادویات نے جنسی بے راہ روی کا راستہ دکھایا اور آخر میں نوجوانوں کی بے احتیاطیوں نے یہ دن دکھائے۔ ہر عورت میں ماں بننے کا یہ فطری جذبہ ہوتا ہے اس کو روکا گیا تو اس نے دوسرے راستے اختیار کر لئے آبادی کم کرنے کے ہزاروں جتن کئے گئے کم عمری کی شادی پر پابندی محتاط جنسی تعلقات کا نعرہ لگایا گیا یعنی ناجائز تعلقات تو جتنے چاہے رکھو لیکن مانع حمل اشیاء استعمال کرتے رہو۔ آزادی سے ملنے والی ان ادویات خصوصاً کھانے والی یا ٹیکے والی ادویات نے اخلاقی زوال کا ایک ایسا آغاز کیا جس کے ذلت آمیز گڑھے میں آج یورپ پڑا ہوا ہے۔ برتھ کنٹرول سے عالم یہ ہے کہ اگلی چند دہائیوں میں ان کے بوڑھوں کی لاشوں کو دفن کرنے والے بھی افریقہ اور ایشیا سے آئیں گے اور اخلاقی انحطاط کا عالم یہ ہے کہ اکثریت ایسی ہو گی جن کے خانہ ولدیت میں باپ کا نام نظر نہیں آئے گا۔ تھوڑا سوچ لیں نعرہ بلند کرنے سے پہلے۔ (ختم شد)
اشتہار


برتھ کنٹرول اور انسانی زوال‌ (2)” ایک تبصرہ

  1. جو لوگ قدرت کے کاموں میں عمل داخل کرتے ہیں وہ خود ذلیل ہوتے ہیں اور اپنے پیچھے ایک نہ ختم ہونے والا صدقہ جاریہ بھی عبرت کے لیے چھوڑ جاتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں