javed-chaudhry-columns

ابو عبداللہ محمد کی قبر پر

ڈھائی لاکھ قبروں کے درمیان ایک پرانا‘ شکستہ اور سیلن زدہ کمرہ تھا‘ سریئے کے گیٹ پر زنگ آلود تالا لگا تھا‘ اندر پلاسٹک کی بوتلوں‘ کچرے کی بوریوں اور ٹوٹے گھسے سلیپروں کے درمیان تین قبروں کے نشان تھے‘ درمیانی قبر کے سرہانے دیوار پر عربی زبان کے چند مٹے ہوئے لفظ نظر آ رہے تھے اور بس یہ تھا غرناطہ کے آخری بادشاہ ابوعبداللہ محمد کا مزار‘ تاریخ کا سرا وہاں پہنچ کر ختم ہو گیا تھا۔

قبرستان فیض شہر کے قدیم حصے سے باہر پہاڑی پر تھا‘ شہر کی فصیل اور قبرستان کے درمیان سڑک تھی لیکن قبرستان سے شہر اور شہر سے قبرستان دونوں صاف نظر آتے تھے‘ قبریں بھی آف وائیٹ کلر کی تھیں اور شہر پر بھی آف وائیٹ کلر کی یلغار تھی چنانچہ فاصلے سے قبرستان شہر اور شہر قبرستان دکھائی دیتا تھا‘ میں ابو عبداللہ محمد کے آخری دنوں کی نشانیاں کھوجتا کھوجتا قبرستان پہنچا تھا۔

قبروں کے جنگل کے درمیان بھٹکتا بھٹکتا اس کے مزار غریباں پر آ گیا‘ جنگلے سے اندر جھانک کر دیکھا‘ کچرے کے درمیان قبر کو شناخت کرنے کی کوشش کی اور پھر تھک ہار کر مزار کی بائونڈری وال پر بیٹھ گیا‘ میرے سامنے پہاڑ کی اترائیوں پر قطار در قطار قبریں تھیں اور پشت پر فیض شہر‘ ابوعبداللہ محمد کی آخری منزل‘ فیض شہر۔

ابوعبداللہ محمد یورپ (اسپین) میں آخری مسلم ریاست کا آخری بادشاہ تھا‘ وہ غرناطہ کے طلسماتی محل الحمرا میں 1460ء میں پیدا ہوا‘ 22 سال کی عمر میں والد نے اپنا تخت اس کے حوالے کر دیا‘ وہ ایک سال بعد عیسائیوں کے ہاتھ قید ہو گیا‘ والد مجبوراً دوبارہ بادشاہ بن گیا‘ باپ اور بیٹا دونوں سلطنت کے اہل نہیں تھے‘ خاندان کا صرف ایک شخص سلطنت سنبھال سکتا تھا اور وہ ابوعبداللہ محمد کا چچا عبداللہ الزاغل تھا‘ الزاغل بہادر بھی تھا‘ سمجھ دار بھی اور معاملہ فہم بھی‘ وہ اس وقت مالقا (آج کا مالگا) کا والئی تھا‘ وہ بڑے بھائی کو عیسائیوں کے عزائم اور حالات کی سنگینی کے بارے میں بتاتا رہتا تھا لیکن بڑے بھائی اور بھتیجے دونوں نے اسے اپنا دشمن سمجھ لیا۔
اشتہار



ابو عبداللہ محمد کے والد اور چچا کے درمیان جنگ ہوئی اور چچا نے غرناطہ پر قبضہ کر لیا‘ عیسائی بادشاہ فرڈیننڈ اور ملکہ ازابیلا نے اس لڑائی کا فائدہ اٹھانے کا فیصلہ کیا‘ شہزادے ابوعبداللہ محمد کو رہا کر دیا گیا اور اس نے عیسائی فوجوں کے ساتھ چچا الزاغل پر چڑھائی کر دی‘ چچا بھتیجے کو بار بار سمجھاتا رہا لیکن ابو عبداللہ محمد باز نہ آیا‘ اس نے عیسائی فوج کی مدد سے 1487 میں الزاغل سے غرناطہ واپس لے لیا‘ الزاغل مالگا تک محدود ہو گیا‘ عیسائی فوجوں نے مالگا کا محاصرہ کر لیا‘ ابوعبداللہ محمد نے فرڈیننڈ کو لکھ کر دے دیا وہ چچا الزاغل کی مدد نہیں کرے گا‘ چچا اکیلا ہو گیا۔

یورپ بھر کی فوج نے چڑھائی کی اورالزاغل پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگیایوں18 اگست1487ء کو مالگا پر قبضہ ہو گیا‘ الزاغل مختلف محاذوں پر عیسائیوں سے لڑتا رہا لیکن وہ ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا‘ وہ 1492ء میں سقوط غرناطہ کے بعد مایوس ہو کرشمالی افریقہ کی طرف چلا گیا‘ وہ بھتیجے کو بار بار پیغام دیتا رہا ’’بیٹامیں غرناطہ کی آخری چٹان ہوں‘ میرے بعد تم بھی نہیں بچو گے‘‘ الزاغل 1494ء میں الجیریا کے شہر تلمسان میں انتقال کر گیا‘ الزاغل کی بات سچ ثابت ہوئی‘ 18 اگست 1487ء کو مالگا فتح ہوا اور1491ء میں غرناطہ کا محاصرہ ہو گیا‘ ابوعبداللہ محمد ایک نالائق‘ متلون مزاج اور بزدل انسان تھا‘ وہ عیسائی فوجوں کا دبائو برداشت نہ کر سکا۔

صلح ہوئی اور اس نے دو جنوری 1492ء کو الحمرا کے گیٹ پر غرناطہ کی چابیاں فرڈیننڈ اور ازابیلا کے حوالے کر دیں‘ غرناطہ جنگ کے بغیر عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا‘ آپ آج بھی غرناطہ جائیں یا آپ اسپین کے بڑے شہروں کی سیاحت کریں‘ آپ کو ہر جگہ سقوط غرناطہ کی تصویریں‘ مجسمے اور پینٹنگز ملیں گی‘ آپ ہر پینٹنگز میں ابوعبداللہ محمد کو غرناطہ کی چابیاں فرڈیننڈ کے حوالے کرتے دیکھیں گے اور آپ کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو آ جائیں گے۔

فرڈیننڈ اور ازابیلا نے غرناطہ کے سقوط کے بعد ابوعبداللہ محمد کو سرانویدہ اور میڈٹیرین سی کے درمیان چھوٹی سی جاگیر دے دی‘ وہ الحمراء سے اپنا سامان اور بزرگوں کی ہڈیاں نکال کر جاگیر کی طرف روانہ ہو گیا‘ غرناطہ کی آخری بلند پہاڑی پر پہنچا‘ مڑ کر الحمرا کی طرف دیکھا‘ سبز وادی کے درمیان سرخ اینٹوں کا محل دیکھا اور محل (عربی میں الحمرا کا مطلب سرخ ہوتا ہے‘ الحمرا کو سرخ اینٹوں کی وجہ سے الحمرا کہا گیا تھا) پر عیسائی پرچم دیکھا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا‘ اس کی والدہ عائشہ سمجھ دار خاتون تھیں‘ اس نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور سرگوشی میں کہا ’’بیٹا تم جس سلطنت کی مردوں کی طرح حفاظت نہیں کر سکے اب اس کے لیے عورتوں کی طرح آنسو نہ بہائو‘‘ ملکہ عائشہ کا یہ فقرہ اسپینش‘ عربی اور انگریزی کا محاورہ بن گیا۔

وہ چٹان جہاں ابوعبداللہ محمد نے آنسو بہائے تھے وہ سسپیرو ڈل مورو (Suspiro Del Moro) یعنی مور کی آہ بھرنے کی جگہ بن گئی‘ مجھے اس چٹان پر بھی جانے کا اتفاق ہوا‘ وہاں اب سوئمنگ پول اور چھوٹا سا کلب بن چکا ہے‘ ابوعبداللہ محمد سال بھر خیرات میں ملی جاگیر میں رہا لیکن پھر وہ زیادہ دیر وہاں نہ ٹھہر سکا‘ عیسائی حکومت نے اندلس کے مسلمانوں کو تین آپشن دیے تھے‘ عیسائیت قبول کر لو‘ نقل مکانی کر جائو یا پھر قتل ہونے کے لیے تیار ہو جائو‘ ہزاروں قتل ہو گئے‘ ہزاروں مراکش میں نقل مکانی کر گئے اور لاکھوں عیسائی ہو گئے‘ مراکش میں اس وقت ابو ذکریا محمدالمہدی کی حکومت تھی‘ ابوذکریا نے اندلس سے آنے والے مسلمانوں کو پناہ دے دی۔
اشتہار



یہ لوگ مختلف شہروں میں رہائش پذیر ہو گئے اور ان کے محلے اندلوسیہ کہلانے لگے‘ یہ لوگ اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے اپنے گھروں کی بیرونی دیواروں کے آدھے حصے کو نیلا رنگ کر دیتے تھے‘ یہ روایت آج تک قائم ہے‘ آپ کو آج بھی طنجہ‘ فیض‘ رباط اور کاسا بلانکا سمیت مراکش‘ تیونس اور الجزائز کے زیادہ تر شہروں میں آدھی دیواریں نیلی نظر آتی ہیں‘ یہ دیواریں اندلس کے مہاجروں اور ان کی ہجرت کی نشانی ہیں‘ ابوعبداللہ محمد نے 1493ء میں مراکش کے بادشاہ ابوذکریا محمد المہدی کو خط لکھا‘ اپنے بزرگوں کی زیادتیوں پر معذرت کی اور پناہ کی درخواست کی۔

ابوذکریا کو ابوعبداللہ محمد پر رحم آ گیا چنانچہ اس نے 1493ء میں اپنے 1130 ملازموں اور خاندان کے لوگوں کے ساتھ سمندر پار کیا اور روتا دھوتا ہوا فیض پہنچ گیا‘ بادشاہ نے اسے اندلوسیہ محلے میں شاہانہ مکان الاٹ کر دیا‘ وہ فیض پہنچ کر درویش ہو گیا‘ دن میں ایک روٹی کھاتا تھا‘ فرش پر سوتا تھا اور عام لوگوں جیسے کپڑے پہنتا تھا‘ خاندان اعتراض کرتا تھا تو وہ کہتا تھا’’اللہ کو میری بادشاہی منظور نہیں تھی‘ وہ اگر چاہتا تو میں آج بھی بادشاہ ہوتا‘ وہ مجھے عام شخص دیکھنا چاہتا تھا‘ میں نے اللہ کی رضا پا لی چنانچہ میں عام انسان بن گیا‘‘ وہ متلون مزاج تھا‘ وہ زیادہ عرصہ اندلوسیہ محلے میں بھی نہ ٹک سکا‘ وہ بادشاہ سے ملا اور بادشاہ نے اسے شہر کے بیرونی گیٹ کے قریب مکان دے دیا۔

میں 14 نومبر 2018 کواس کے قدموں کے نشان تلاش کرتا ہوا اس کے آخری مکان تک پہنچ گیا‘ وہ چھوٹی سی تنگ گلیوں کا چھوٹا سا مکان تھا‘ کہاں الحمرا اور کہاں یہ مکان‘ ابوعبداللہ محمد روزانہ ان گلیوں سے گزرتا ہوا مسجد جاتا تھا اور نماز پڑھنے کے بعد اس قبرستان میں عین اس جگہ آ بیٹھتا تھا جہاں اس وقت میں بیٹھا تھا‘ وہ ان گلیوں میں مارا مارا پھرتا رہا یہاں تک کہ وہ بیماری‘ کسمپرسی اور عبرت کا نشان بن کر 1533ء میں انتقال کر گیا‘ غرناطہ کا آخری چراغ بھی بجھ گیا‘ اسے اس کی وصیت کے مطابق اس جگہ خانہ کعبہ کے رخ دفن کر دیا گیا‘ ابوعبداللہ محمد کے بعد اس کی نسل برباد ہو گئی۔

مورخین لکھتے ہیں ابوعبداللہ محمد کے پوتے 1618ء میں فیض کے امراء سے زکوٰۃ اور صدقات لینے پر مجبور ہو گئے‘ وہ اس کے بعد کبھی اپنے قدموں پر کھڑے نہ ہو سکے‘ میں اس وقت برباد سلطنت کے برباد بادشاہ کے برباد مزار کے سامنے بیٹھا تھا‘ قبریں میرے سامنے تھیں اور شہر پشت پر‘ فضا میں ایک اداسی‘ ایک نم ناک گریہ تھا‘ قبرستان میں دو نشئی پھر رہے تھے‘ میں نے ان سے مزار کی چابی کے بارے میں پوچھا‘ پتہ چلا چابی ابوعبداللہ محمد کی نسل کی ایک بوڑھی خاتون کے پاس ہے‘ وہ سارا دن شہر سے کچرہ اکٹھا کرتی ہے‘ وہ صرف جمعہ کے دن مزار پر آتی ہے‘ دروازہ کھولتی ہے‘ دعا کرتی ہے اور واپس چلی جاتی ہے۔

میں نے پوچھا ’’کیا یہاں دعا کے لیے کوئی نہیں آتا‘‘ بتایا گیا ’’ہم نے آج تک آپ کے علاوہ کسی شخص کو یہاں آتے نہیں دیکھا‘‘ میرے تاسف میں اضافہ ہو گیا‘ میں نے موبائل فون نکالا اور دیوار پر بیٹھے بیٹھے ایک چھوٹی سی ویڈیو ریکارڈ کی‘ وہ دیوار‘ ابوعبداللہ محمد کا مزار اور وہ قبرستان دنیا کی سب سے بڑی سچائی تھی‘ بادشاہ آتے ہیں‘ اپنی خدائی کا اعلان کرتے ہیں اور پھر اس خدائی کے ساتھ زمین کا پیوند بن جاتے ہیں‘ مٹی میں مل کر مٹی ہو جاتے ہیں اور ان کی داستان تک داستانوں میں نہیں رہتی‘ میرے پیچھے بھی ایک ایسی ہی داستان سسک رہی تھی۔

غرناطہ اور الحمرا کا آخری مالک‘ وہ شخص جس کے پاس غرناطہ کو بچانے کا وقت تھا تو وہ مرد نہ بن سکا اور جب غرناطہ چلا گیا تو وہ عورت بن کر آنسو بہانے لگا‘ وہ بادشاہ جس نے زندگی کا آخری حصہ درویشی میں گزار دیا‘ وہ جو روز اپنے گھر سے اپنی قبر کی تلاش میں نکلتا تھا اور جب کوئی اس سے پوچھتا تھا ’’چچا کہاں جا رہے ہو‘‘ تو وہ کہتا تھا ’’بھتیجے میرا غرناطہ کھو گیا ہے‘ میں وہ تلاش کر رہا ہوں‘‘ اور وہ جو آخر میں غرناطہ تلاش کرتا تاریخ کی گلیوں میں گم ہو گیا۔

مٹی‘ مٹی میں مل کر مٹی ہو گئی‘ ہم لوگوں کا ماضی‘ حال اور مستقبل تینوں مٹی کے بنے ہوتے ہیں لیکن ہم اس کے باوجود خدا بن جاتے ہیں اور میں اس وقت ایک ایسے ہی ناکام خدا کے مزار کی بائونڈری وال پر بیٹھا تھا‘ ڈھائی لاکھ قبریں میرے سامنے تھیں اور تاریخ کا دریا بہہ رہا تھا۔

اشتہار


ابو عبداللہ محمد کی قبر پر” ایک تبصرہ

  1. javed sahib you never draw the right conclusion.are we not doing the same. we lost half of the country but not single person was punished. are we not doing the same today. you should advise the public in plain words.

اپنا تبصرہ بھیجیں