پرتشدد مظاہرے، فرانس میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے کا امکان

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف ’یلو ویسٹ‘ موومنٹ کے زیر اہتمام لگاتار تیسرے ہفتے کے اختتام پر کیے گئے مظاہروں میں شدت آنے کے بعد حکومت نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے پر غور شروع کردیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی ٹیکس عائد کیے جانے پر عوام شدید غم و غصہ کا شکار ہیں اور یلو وسٹ موومنٹ کا دائرہ کار ملک بھر میں پھیلتا جارہا ہے۔

اے بی سی نیوز کے مطابق فرانسیسی حکومت کے ترجمان بینجمن گریووکس نے بتایا کہ صدر ایمانوئیل میکرون نے ایک اہم اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں وزیراعظم اور وزیرداخلہ کے ساتھ بیٹھ کر مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔

بینجمن گریووکس نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے سے متعلق سوال پر کہا کہ ایمرجنسی کا نفاذ مختلف آپشن میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ملک میں امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے ہر آپشن پر غور کریں گے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 17 نومبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیموں میں اضافے کے خلاف پیرس میں مظاہروں کا آغاز ہوا تھا، جو دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا۔

اتوار کو بھی پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کا آغاز اس وقت ہوا جب عوام کی بڑی تعداد آرک ڈی ٹرائیومپف پر جمع ہونا شروع ہوئی جنہیں روکنے کے لیے پولیس کی جانب سے واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔

پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے درجنوں گاڑیوں کو آگ لگائی گئی، رکاوٹوں کے باجود درجنوں مظاہرین کو شناختی کارڈ دکھانے اور تلاشی کے بعد جانے کی اجازت دی گئی تھی جبکہ دیگر افراد جن میں اکثر نے گیس ماسک پہنے ہوئے تھے انہوں نے متعدد بار آنسو گیس برسائےجانے پر پولیس کا مقابلہ کیا۔

مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور رنگ پھینکا جس کے بعد بعض پولیس افسران کو پیلے رنگ میں رنگے دیکھا گیا تھا۔

وزیراعظم ایڈورڈ فلپ نے پیرس میں قائم پولیس کمانڈ سینٹر کا دورہ کیا تھا ان کا کہنا تھا کہ اندازاً ساڑھے 5 ہزار مظاہرین میں کم از کم ایک سو 7 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پیرس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف مظاہروں میں8 ہزار افراد نے حصہ لیا تھا۔

جونیئر وزیر داخلہ لارینٹ نونیز نے بی ایف ایم ٹیلی ویژن کو بتایا تھا کہ پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں 10 افراد زخمی ہوئے جن میں پیرس میں تعینات 5 ہزار پولیس افسران میں سے 3 شامل تھے۔

پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں آنسو گیس کی چبھتی ہوئی بدبو اور جلائی گئی گاڑیوں اور کچرے دانوں کے دھوئیں سے علاقے کی فضا بھر گئی تھی۔

معروف مقام پر واقع اسٹورز اور ریسٹورنٹ اور اردگرد کا علاقہ گزتشہ ہفتے کے بعد سے ہونے والے جھڑوں کی عکاسی کررہا تھا جسے صدر ایمانوئیل میکرون نے ’ جنگی مناظر‘ سے تشبیہ دی تھی۔

دوسری جانب نیوز چینلز نے اکثر سڑکوں پر رکاوٹوں کو جلتے ہوئے اور مظاہرین کو پولس پر پتھر اور دیگر اشیا پھینکتے ہوئےدکھایا تھا۔

رواں برس پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف پر امن مظاہروں میں ملک بھر سے تقریباً 36 ہزار افراد نے حصہ لیا تھا۔

اشتہار


[]).push({});

اپنا تبصرہ بھیجیں