خادم رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ

حکومت پاکستان کا کہنا ہے تحریک لبیک پاکستان کے سربراہ خادم حسین رضوی سمیت دیگر رہنماؤں کے خلاف احتجاج کے دوران کروڑوں روپے کی مالیت کی سرکاری اور غیرسرکاری املاک کو نقصان پہنچانے پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

سنیچر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات چوہدری فواد حسین نے کہا کہ تحریک لبیک کے سربراہ خادم حسین رضوی کے خلاف لاہور میں بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

چوہدری فواد حسین کے مطابق پیر افضل قادری کے خلاف بھی اسی نوعیت کا مقدمہ گجرات میں درج کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تحریک لبیک نے جس طرز کی سیاست کا آغاز کیا وہ نہ صرف پاکستانی قانون کے خلاف تھی بلکہ آئین پاکستان کو بھی للکارا گیا۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے املاک کو نقصان پہنچانے، گاڑیوں کو نذر آتش کرنے اور خواتین و بچوں سمیت لوگوں سے بدتمیزی کرنے والے تحریک لبیک کے تمام کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمات چلائے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ لوگ جو احتجاج میں موجود تھے لیکن کسی توڑپھوڑ میں ملوث نہیں تھے انھیں بھاری جرمانوں اور ضمانتوں کے بعد رہا کیا جائے گا۔

چوہدری فواد حسین کا کہنا تھا کہ تمام افراد کو عدالتوں میں پیش کیا جائے گا اور انھیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

اس حوالے سے ان کا مزید کہنا تھا کہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر پولیس نے ایک بڑی کارروائی کی تھی اور اس کارروائی سے قبل حزب اختلاف کی تمام بڑی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔

2 تبصرے “خادم رضوی کے خلاف بغاوت اور دہشت گردی کا مقدمہ

  1. Ye Islam k sath ziadti ha k ulma Karam ko jeelo me band Kar kgustakho ko ful shoot di ja rahi ha. Sab sy bary gustakh qadyanion Hain . Hakumat waqat estime full qadyanion ko sport lar rahi ha .
    Ye ashanaho ha
    Ye mulak Islam ki bunyad pa banany ha .
    Sari dunya k kafir hamary mulak k peshy lagy huwy hn
    Kyun ?
    Esliye k yahan ashiq RasoolAllah ka fars Diya jata ha .

اپنا تبصرہ بھیجیں