یعنی آگے چلیں گے دم لے کر

موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس سے کس طرح مفر ممکن نہیں ہر کوئی اس سے آنکھیں چرانا چاہتا ہے اور مختلف بہانوں سے اس کی کوئی ایسی تاویل ڈھونڈتا رہتا ہے کہ جو ’’فنا‘‘ کے تصور پر غالب آ جائے۔ دنیا بھر کے ادب اور فلسفے میں اس کوشش کے رنگ بکھرے پڑے ہیں۔ البتہ جن معاشروں میں حیات بعد الموت ایک عقیدے کی شکل میں ہے وہاں صورت حال قدرے مختلف ہے۔ دور کیوں جائیے ہماری اردو شاعری میں ہی اس عقیدے کی وجہ سے موت کے ساتھ سمجھوتے کے نئے نئے روپ دیکھے جا سکتے ہیں۔
موت اک ماندگی کا وقفہ ہے
یعنی آگے چلیں گے دم لے کر (میرؔ)
سب کہاں کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں
خاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں (غالبؔ)
کشاد در دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں (اقبالؔ)
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا (احمد ندیمؔ قاسمی)
اس طرح کے بے شمار شعروں کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی ’’وجود کے تسلسل‘‘ کے حوالے سے سوچنے والوں نے بھی نئی سے نئی اختراعات کی ہیں مگر امر واقعہ یہی ہے کہ جب کوئی بہت قریبی خون کا رشتہ یا جذباتی حوالے سے گہرے تعلق کا حامل شخص سفر آخرت اختیار کرتا ہے تو کچھ دیر کے لیے یہ سارے فلسفے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں ۔
گزشتہ دنوں میرا چھوٹا بھائی محسن اسلام مختصر سی علالت کے بعد ہم سے بچھڑ گیا تو اس کی یادوں کی معرفت کئی بند دریچے پھر سے روشن ہو گئے۔ ابھی چند ماہ قبل 22 فروری 2016ء کو ہمارے والد صاحب جب اس دنیا سے گئے تو پہلی بار احساس ہوا کہ کس قدر تیز دھوپ تھی جو ایک سائبان کی طرح انھوں نے روک رکھی تھی اور کس قدر گھمبیر مسائل تھے جنھیں وہ حل کرتے چلے جاتے تھے اور ان کا سایا بھی ہم پر نہیں پڑنے دیتے تھے۔
بھائیوں میں بڑا ہونے کے باعث محسن اور احسن کی نسبت یہ وراثت ہمارے معاشرتی نظام کے مطابق میرے حصے میں زیادہ آئی اور ابھی میں اس کو سمجھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا کہ اس سائبان کا وہ حصہ بھی موت کی اس آندھی کی نذر ہو گیا جسے محسن نے سنبھال رکھا تھا۔ اسی کیفیت میں ایک نظم چہرہ کشا ہوئی ہے۔ آپ سے اس لیے شیئر کر رہا ہوں کہ کرداروں کے فرق سے قطع نظر یہ ہم سب کی مشترکہ کہانی ہے۔
محسن کے لیے ایک نظم
موت برحق سہی، موت لازم سہی
پھر بھی اپنے کسی رشتۂ درد کو ٹوٹتے دیکھنا
عمر بھر کی شناسا محبت بھری
دو چمک دار آنکھوں کو بجھتے ہوئے دیکھنا
اور ہاتھوں میں تھامے ہوئے ہاتھ کی نبض کو
ایک بے رنگ لمحے کے پاتال میں ڈوبتے دیکھنا
کتنا سنگین ہے، کتنا دشوار ہے!
اس کا اظہار لفظوں میں ممکن نہیں ہے
کہ یہ تجربہ، موت سے بھی زیادہ پراسرار ہے
میں نے دیکھا اُسے
موت کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے
ریزہ ریزہ عدم میں بکھرتے ہوئے
جب ابھی اس کی آنکھوں میں پہچان تھی
دل میں دھڑکن بھی تھی
بات سننے سمجھنے کے آثار بھی اس کے چہرے پہ تھے!
پھر بھی کوئی کہیں سے مسلسل یہ کانوں میں
سرگوشیاں سی کیے جا رہا تھا
’’کہ وہ اب نہیں ہے‘‘
کسی پیارے رشتے کے بارے میں یہ سوچنا بھی
کہ اب اس کی معیاد پوری ہوئی
ایسا احساس ہے
جس کی تفہیم تو دور کی بات ہے
جس سے آنکھیں ملانا بھی ممکن نہیں
مٹھیوں سے پھسلتی ہوئی ریت کو جس طرح
ہاتھ میں روک لینا بھی ممکن نہیں
یوں تو کہنے کو وہ اس ملاقات کے بعد بھی
اگلے دن کی سحر تک رہا ہوش میں
سانس لیتا رہا اور زندہ رہا
پر حقیقت یہی ہے کہ وہ اس عدم زاد لمحے سے ہی
برسر راہ تھا
کہ جب اس نے میرے بلانے پہ بھی آنکھ کھولی نہیں
میری آواز کو ان سنا کر دیا
موت برحق بھی ہے موت لازم بھی ہے
کون اس سے کہے اور کیسے کہے!
’’ہم کو تسلیم ہے وادیٔ ہست کے اس خم و پیچ میں
جو بھی کچھ ہے وہ سب ہے امانت تری
جو بھی آیا یہاں اس کو جانا تو ہے
اس میں بھی شک نہیں
ہم بھی سب کی طرح اپنی باری پہ اک دن چلے جائیں گے
یہ حقیقت بھی ہم سب کو معلوم ہے
جو بھی موجود ہیں اور وہ جو ابھی آنے والوں میں ہیں
اس سراب زمانہ سے قطع نظر
اصل میں سب کے سب ’’رفتگاں‘‘ یہی تو ہیں
لوٹنا ہے سبھی کو اسی کی طرف
جس نے پیدا کیے یہ زمان و مکاں
جس کے ’’کُن‘‘ کا تسلسل ہیں سارے جہاں
مسئلہ جو بھی ہے صرف اتنا سا ہے
جن کے چاروں طرف اپنے پیاروں کی یادوں کا گرداب ہے
یہ جو دلدل سی ہے یہ جو سیلاب ہے
اس میں کیسے جئیں، کیسے زندہ رہیں
اس جدائی کا غم کس طرح سے سہیں؟
کیا کریں!!‘‘

اپنا تبصرہ بھیجیں