کوپن ہیگن براستہ اسٹاک ہوم

اسٹاک ہوم کا پہلا اور واحد سفر 1994ء میں اس وقت ہوا جب عدنان سمیع خاں کے والد اور زیبا بختیار کے سابق سسر ارشد سمیع خاں وہاں پاکستان کے سفیر تھے جب کہ تقریب کے میزبان برادر عزیز جمیل احسن تھے جن کا تعلق ملتان کے مشہور خطاط گھرانے سے ہے۔ وہ حال ہی میں انتقال کرنے والے ابن کلیم صاحب کے بھائی اور عزیزی مختار علی کے چچا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوش گو شاعر اور بہت محبتی انسان بھی ہیں اور اس مرتبہ بھی ان سے مختصر مگر بھر پور ملاقات رہی۔
سفیر پاکستان طارق ضمیر جلسہ گاہ میں ہم سے پہلے موجود تھے جب کہ برسلز (بلجیئم) سے آئے ہوئے پرویز اقبال توسر بھی ہمارے ساتھ مہمانان خصوصی میں شامل تھے۔ تقریب تین حصوں پر مشتمل تھی۔ ابتدا میں 23 مارچ کے حوالے سے کچھ احباب نے مختصر تقاریر کیں۔ پھر ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کے بارے میں اپنے مخصوص، دلکش اور مؤثر انداز میں حاضرین سے گفتگو کی جو بے حد پر اثر رہی اور آخر میں مجھے اور انور مسعود کو دعوت کلام دی گئی جسے فیس بک پر براہ راست بھی دکھایا گیا جس کا پتہ مجھے اگلے روز اٹلی سے آنے والے برادرم نصیر کے فون سے چلا۔
بعد میں ڈاکٹر امجد ثاقب نے بتایا کہ طارق ضمیر صاحب نے سویڈن کی پاکستانی کمیونٹی کے حوالے سے انھیں 13 اگست کو اخوت یونیورسٹی کی فنڈ ریزنگ کے لیے خصوصی دعوت دی ہے۔ یہ بڑی خوش آیند بات ہے کہ دنیا بھر میں ہمارے تارکین وطن پاکستانی بھائی ہمیشہ اپنے وطن کی ترقی اور سلامتی کے لیے دامے درمے پیش پیش رہتے ہیں۔
کوپن ہیگن کی مرکزی تقریب کا وقت شام چار سے آٹھ بجے تک کا تھا مگر صورتحال یہ تھی کہ پورا ہال نہ صرف کھچا کھچ بھرا ہوا تھا بلکہ اگلا دن ورکنگ ڈے ہونے کے باوجود لوگ نہ صرف دس بجے تک بیٹھے رہے بلکہ ابھی مزید رکنے کو تیار تھے۔ جیسا کہ میں نے گزشتہ کالم میں بتایا تھا کہ یہ تقریب ایک نو قائم شدہ مقامی تنظیم Helping Humanity کی طرف سے اخوت کے انداز میں غریب اور بے وسیلہ لوگوں کو بلا سود چھوٹے قرضے جاری کرنے کے بارے میں تھی اور Charity Begins at Home کے اصول کے مطابق اس کا آغاز گجرات اور سیالکوٹ سے کیا جارہا تھا کہ اس تنظیم کے بیشتر ارکان کا تعلق انھی علاقوں سے تھا۔
میزبان مہمانوں کو ان کی مقررہ سیٹوں پر بٹھا رہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ پروگرام کے آغاز سے چند منٹ بعد عمیر اعجاز ڈار اور تقریب کے صدر ثاقب تسنیم کسی صاحب کو ان کی سیٹوں کی طرف لانے کے لیے اصرار کررہے ہیں مگر وہ صاحب جلدی سے اسٹیج سے قدرے فاصلے پر ایک طرف ہوکر خاموشی سے بیٹھ گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ ڈنمارک میں پاکستان کے سفیر مسرور جونیجو صاحب تھے جو نہیں چاہتے تھے کہ ان کی وجہ سے پروگرام کو روکا جائے۔ ان کی یہ ادا ہم تینوں کے دل میںگھر کرگئی کہ عام طور پر ایسی تہذیب اور انکسار اب وی آئی پی کہلانے والے لوگوں میں کم کم ہی نظر آتے ہیں۔
دوسری اچھی بات یہ تھی کہ تنظیم سے متعلق بہت سی خواتین مردوں سے بھی زیادہ تیزی توجہ اور ذمے داری سے ہر طرف کام کرتی نظر آرہی تھیں۔ معلوم ہوا کہ اس ہال کے مالک شیخ خرم صاحب نے اس نیک کام میں حصہ ڈالنے کے حوالے سے منتظمین کو بہت ہی خاص رعایت دی ہے۔ ہال اور اسٹیج کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا اور بہت دنوں کے بعد میں نے کھانے کے وقت اپنی کمیونٹی کو نظم و ضبط کی پابندی کرتے اور اپنی باری کا تحمل سے انتظار کرتے دیکھا جو بہت اچھا لگا۔
اس تقریب کے آخری دو حصے تو اسٹاک ہوم والی تقریب کی طرح ہی تھے مگر پہلے حصے میں یوم پاکستان پر تقاریر کے بجائے فنڈ ریزنگ کو موضوع بنایا گیا تھا۔ جس میں کم و بیش ہال میں موجود چار سو سے زیادہ لوگوں نے بھر پور حصہ لیا۔ یہاں بھی مرکز توجہ ڈاکٹر امجد ثاقب ہی رہے جنہوں نے نہ صرف اس تنظیم اور اس کے پروگرام کے بارے میں بہت متاثر کن باتیں بھی کیں بلکہ یہ بھی اعلان کیا کہ آج یہاں جتنی رقم مقامی عطیات سے جمع ہوگی اتنی ہی رقم وہ اخوت کی طرف سے بطور عطیہ دیں گے کہ اصل مقصد تو دونوں کا ایک ہی ہے۔
پہلے دورے کے میزبان برادرم اقبال اختر تو وہاں موجود تھے مگر گزشتہ سفر کے دوستوں بالخصوص صدف مرزا اور سلطان محمود کی کمی بہت محسوس ہوئی، البتہ نصر ملک شروع سے آخر تک موجود رہے۔ فلیمنگ روڈ کے پرانے محلے دار طاہر سے بھی ملاقات رہی۔ معلوم ہوا کہ اس کی اور نصر ملک کی بیگمات آپس میں کزنز ہیں۔
عبدالسلام ساقی اور کامران اعظم نے بھی بالترتیب جوش صاحب کا اور اپنا کلام سنایا جب کہ اقبال اختر نے کچھ قرآنی آیات کے منظوم تراجم پیش کیے، البتہ نصر ملک کی شاعری کا رنگ ان کی مستقل مزاجی کا آئینہ دار تھا۔ حاضرین کی بھر پور توجہ اور اصرار کے باعث مجھے اور انور مسعود کو تقریباً چالیس چالیس منٹ پڑھنا پڑا۔
27 مارچ کا دن اس چار روزہ دورے کا واحد دن تھا جس کا کوئی پروگرام پہلے سے طے شدہ نہیں تھا۔ سو عزیزی عمیر اعجاز ڈار پہلے تو ہمیں ایک بار پھر سویڈن کے شہر مالمو کے ایک بہت ہی بڑے ڈپارٹمنٹل اسٹور میں لے گیا۔ اس سفر کا بنیادی مقصد ہمیں سمندر پر استوار اس پل کی سیر کرانا تھا جو چار میل سمندر کے نیچے اور سات میل اس کے اوپر بنایا گیا ہے جس پر سفر کرتے ہوئے بحرین اور دمام کے درمیان کا ایسا ہی کازوے نامی سمندری پل بہت یاد آیا۔
ڈاکٹر امجد ثاقب کی فرمائش تھی کہ کوپن ہیگن کے قبرستان میں واقع نوبل انعام یافتہ اور اٹامک تھیوری کے خالق مشہور سائنس دان نیل بوہر کی قبر کو بھی ایک نظر دیکھا جائے کہ جدید فزکس میں آئن سٹائن کے بعد اسی کا نام سب سے معتبر ہے۔ برادرم تسنیم ثاقب اور وسیم بیگ نے ہماری آسانی کے لیے پہلے سے قبر کی نشاندہی حاصل کرلی تھی یہ اور بات ہے کہ اس جگہ کو قبرستان کہنے یا سمجھنے کے لیے اس لیے مشکل پڑتی ہے کہ اس کا ماحول کسی بھی خوبصورت باغ سے کسی طرح کم نہیں تھا۔ دو بجے سفیر صاحب نے ایمبیسی میں چائے پر بلا رکھا تھا جو ایک مختصر محفل کی شکل اختیار کرگئی۔
مسرور جونیجو صاحب کی سادگی، محبت اور علم دوستی کا اندازہ تو گزشتہ رات مرکزی تقریب کے دوران ہی ہوگیا تھا مگر اس محفل میں ان کے جوہر اور بھی خوب صورتی اور تفصیل سے کھلے جو ایک بہت خوشگوار تجربہ تھا۔ رات کو ایک پاکستانی ریستوران میں میزبانوں کی طرف سے الوداعی کھانا تھا جس کا اختتام تنظیم کے صدر برادرم ثاقب تسنیم کے گھر چائے کی دعوت پر ہوا۔ دونوں جگہوں پر بہت سے احباب سے ملاقات اور بات ہوئی اور یہ جان کر بے حد خوشی ہوئی کہ یہ سب لوگ نہ صرف وطن کے بارے میں اچھا سوچتے ہیں بلکہ یہاں بھی اس کی یادوں کو تازہ رکھے ہوئے ہیں۔
عمیر اعجاز ڈار کی بیگم ایک فیملی شادی کی وجہ سے پاکستان میں تھیں لیکن اس نوجوان نے Helping Humanity کی اس تقریب کی وجہ سے اس میں شرکت سے معذرت کرلی اور اب اس کی تلافی کے لیے ہمارے ساتھ اسی فلائٹ میں پاکستان آرہا ہے جس میں میں اس چار روزہ سفر کی وہ روداد لکھ رہا ہوں جو اس وقت آپ کے زیر مطالعہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں