عکس در عکس

بعض اوقات کوئی شعری دلیل اتنی برجستہ اور برمحل ہوتی ہے کہ عقل و دانش اور منطق کے سارے پیمانے دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور لطف کی بات یہ ہے کہ قدرے گہرائی میں جانے پر یہ تضاد ایک غیر محسوس طریقے سے ختم ہونے لگتا ہے اور ایک ایسی نئی منطق ظہور کرتی ہے جس میں دونوں متضاد دلیلیں ایک اکائی کی شکل اختیار کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ اس عمل کا ایک عنصر کسی مخصوص زبان، لہجے یا طرز ادا کا کمال بھی ہوتا ہے جسے کسی دوسری زبان میں مکمل طور پر ڈھالنا اگر ناممکن نہیں تو بے حد مشکل ضرور ہوتا ہے۔ بالخصوص شاعری کے ترجمے میں یہ صورت حال زیادہ گھمبیر ہو جاتی ہے جیسے مثال کے طور پر قاسمی صاحب کا یہ شعر کہ
میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
مرے ہمراہ دریا جا رہا ہے
یہ بات میرے ذہن میں ایک بار پھر اس وقت آئی جب میں مجاہد عیشائی صاحب کی احمد ندیم قاسمی کے افسانوں، مضامین اور کالموں کے انگریزی تراجم پر مشتمل کتاب Thoughtful Musings کی ورق گردانی کر رہا تھا کہ مجھے اس کی ادارہ پلاک میں ہونے والی تقریب رونمائی میں اظہار خیال کرنا تھا۔ قاسمی صاحب کے بعض افسانوں کے دنیا کی کئی زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں جن میں چند برس قبل ان کے چند منتخب افسانوں کے پروفیسر سجاد شیخ کے کیے ہوئے تراجم اس لیے بھی زیادہ اہم ہیں کہ اردو اور انگریزی دونوں زبانیں ہم میں سے بیشتر لوگوں کی معقول دسترس میں ہیں جب کہ جرمن، رشین، فرنچ، چینی، جاپانی، ترکش یا ہسپانوی وغیرہ میں کیے گئے تراجم کا اصل متن سے موازنہ بہت ہی کم احباب کر سکتے ہیں۔
مجاہد عیشائی صاحب اس سے قبل منٹو کے افسانوں پر اسی طرح کا کام کر چکے ہیں اور زیر نظر کتاب کے ساتھ بھی انھوں نے More Minto کے عنوان سے ایک نئی کتاب پیش کی ہے اور یہ تینوں کتابیں سنگ میل پبلی کیشنز نے شایع کی ہیں جس کے لیے وہ داد کے مستحق ہیں کہ موجودہ حالات میں اس نوع کی کتابیں چھاپنا کاروباری اعتبار سے سراسر گھاٹے کا سودا ہیں کہ اب تو بیسٹ سیلر اردو کتابوں کا بھی کسی ایک سال میں دوسرا ایڈیشن ایک غیر معمولی خبر بن کر رہ گیا ہے اور واضح رہے کہ تقریباً بیس کروڑ کی آبادی کے حامل وطن عزیز میں شاید ہی کسی کتاب کا کوئی ایڈیشن ایک ہزار کی تعداد سے زیادہ چھپتا ہو۔
دوسری زبانوں سے اردو میں اور اردو سے کسی اور زبان میں ترجمے کی اشاعت کا حال اس سے بھی پتلا ہے کہ دونوں صورتوں میں صرف انگریزی زبان ہی پل کا کام دے رہی ہے۔ سو ایسے میں جو بھی مترجم ذمے داری کے ساتھ اس بے حد اہم مگر مالی طور پر تقریباً بے فیض کام میں اپنا وقت صرف کر رہا ہے وہ لائق تحسین و تعظیم ہے۔
مجھے دنیا کے کئی ممالک کی یونیورسٹیوں اور دیگر اداروں کی لائبریریوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے آپ کو ہر ملک اور زبان کے ادب سے ترجمہ شدہ کتابوں سے بھری ہوئی الماریاں نظر آتی ہیں مگر اردو (جو تقریباً ایک ارب لوگ کسی نہ کسی حد تک بولتے اور سمجھتے ہیں) اور ہماری دیگر قومی اور بڑی زبانوں کے تراجم خال خال ہی کہیں نظر آئیں گے اور یوں پوری دنیا صرف ہمارے اسی امیج سے آشنا ہے جو میڈیا کے ذریعے اس تک پہنچ رہا ہے اس غلط امیج کو درست کرنے اور ہمارے اصل اور صحیح امیج کو واضح کرنے کے لیے سب سے ضروری اور مؤثر راستہ تراجم ہی کا ہے۔
مجاہد عیشائی صاحب نے اس کتاب میں قاسمی صاحب کے مشہور افسانے ’’پرمیشر سنگھ‘‘ کا ترجمہ بھی شامل کیا ہے۔ اگر یہ تحریر دنیا کے اہل نظر کی نگاہ سے ان کی اپنی زبان میں گزرے تو مجھے یقین ہے کہ برصغیر کی تاریخ، تہذیب اور تقسیم کے بارے میں ان کی سوچ یکسر بدل سکتی ہے۔ اس طرح رئیس خانہ (The Rest House) اور سناٹا (Silence) کو دنیا کی بہترین کہانیوں میں جگہ مل سکتی ہے۔ مجاہد عیشائی صاحب نے اس تقریب میں اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں کئی نثری اقتباسات بڑے ماہرانہ اور عمدہ انداز میں پیش کیے۔
معلوم ہوا کہ موصوف ایک چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ نوجوانی میں ایکٹنگ اور صدا کاری سے بھی متعلق رہے ہیں۔ اتفاق کی بات ہے کہ چند برس قبل مجھے پی ٹی وی کی ڈرامہ سیریز ’’قاسمی کہانی‘‘ میں قاسمی صاحب کے جن افسانوں کی ڈرامائی تشکیل کا موقع ملا ان میں ’’سناٹا‘‘ بھی شامل ہے جس کا مرکزی کردار کلثوم ایک ایسی اسکول ٹیچر ہے جو اپنے گھرکا واحد کماؤ فرد ہے اور جس کا ’’عورت پن‘‘ اس مسلسل دباؤ کی وجہ سے ایک نفسیاتی بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اس کہانی میں اس کے بعض جملے ایسے تھے جنھیں فیملی چینل کے حوالے سے قابل قبول بنانے میں مجھے خاصی محنت کرنا پڑی تھی لیکن جس خوبصورتی اور بھر پور تاثر کے ساتھ انھیں مجاہد صاحب نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے اس کی داد نہ دینا زیادتی ہوگی کہ کلچر کے بہت واضح فرق کے باعث مشرق و مغرب کے بعض تصورات کو اپنی اصل قوت اور پس منظر کے ساتھ ترجمہ کرنا بے حد مشکل ہو جاتا ہے۔
اتفاق سے چند دن بعد پلاک کے اسی ہال میں معروف افسانہ نگار فرحت پروین نے ادارہ ’’بیاض‘‘ کے ساتھ مل کر قاسمی صاحب کی یاد میں ایک خصوصی مشاعرے کا اہتمام کیا۔ جس کی صدارت قاسمی صاحب کی صاحبزادی اور ’’فنون‘‘ کی ایڈیٹر ڈاکٹر ناہید قاسمی نے کی۔ اس مشاعرے میں تقریباً 25 شعرا نے قاسمی صاحب کی تصویروں اور اشعار کے جھرمٹ میں اپنا کلام سنایا۔ اسٹیج سیکریٹری کے فرائض اعجاز رضوی نے نبھائے اور اپنے دلچسپ جملوں سے محفل کو ہمہ وقت گرمائے رکھا۔
یہ بڑی خوش آیند بات ہے کہ اب مختلف مشاہیر کے حوالے سے ان کو یاد کرنے کے لیے تسلسل سے محفلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جو بوجوہ زبان و ادب سے دور جاتی ہوئی ہماری نئی نسل کے ساتھ ساتھ ادب سے متعلق احباب کو ایک جگہ پر جمع کرنے کا ایک ذریعہ بن رہی ہیں لیکن اصل بات پھر وہی ہے کہ مجاہد عیشائی جیسے ادب سے کمٹڈ اور ایک سے زیادہ زبانوں کے ماہر احباب کو ڈھونڈا اور ان کو آگے لایا جائے اور ان کے کام کی تحسین کر کے ایک ایسی فضا پیدا کی جائے کہ ہمارا ادب ترجمے کی صورت میں ہم عصر دنیا تک پہنچ سکے اور وہ لوگ جان سکیں کہ ہمارا معاشرہ کیسی بے مثال تخلیقی قوت سے نہ صرف لبالب ہے بلکہ دنیا کو کیا کچھ دینے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ بات قاسمی صاحب کے تراجم سے چلی تھی سو اسے ختم بھی انھی کے ایک شعر پر کرتے ہیں کہ
وہ اعتماد ہے مجھ کو سرشت انساں پر
کسی بھی شہر میں جاؤں، غریب شہر نہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں