تقسیم ہند اور میوات


ہندوستان کی تقسیم کیوں اور کیسے ہوئی اور پاکستان کن حالات میں وجود میں آیا اس پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے یہ اور بات ہے کہ ان دنوں قیام پاکستان کے دنوں میں دی گئی کچھ مخالف آرا اور متبادل طریقوں کو ان کے اصل تناظر سے جدا کر کے اور توڑ مروڑ کے کچھ اس طرح سے پیش کیا جا رہا ہے جیسے پاکستان بنایا ہی غلط گیا تھا۔ غور سے دیکھا جائے تو چند سنجیدہ اور اپنا ایک ذاتی نقطہ نظر رکھنے والے دانش وروں سے قطع نظر یہ سارا پراپیگنڈہ ان لوگوں اور ان کے حواریوں کا پھیلایا ہوا ہے جن کے ذمے اس نئے ملک کو ٹھیک سے چلانا اور اپنے قدموں پر کھڑا کر کے ایک مثالی‘ روشن خیال اور ہر اعتبار سے ترقی یافتہ ملک بنانا تھا۔
ان سے اپنا کام ٹھیک طرح سے ہو نہیں پایا اور اب وہ اپنی خفت مٹانے اور ذمے داری سے بچنے کے لیے طرح طرح کے نعرے لگا رہے ہیں۔ یہ درست ہے کہ قائداعظم‘ پاکستان کے علیحدہ تشخص کے علاوہ بھی کسی ایسے حل کو ماننے پر آمادہ تھے جس میں ہندوستان کے مسلمانوں کو مناسب تحفظ مل جاتا مگر تاریخ شاہد ہے کہ ایسی ہر کوشش کو کانگریس کے چند لیڈروں کی ضد نے کامیاب نہیں ہونے دیا اور ایک ایسی صورت حال پیدا ہو گئی کہ یا تو ہند کے مسلمان ہندو متعصب اکثریت کے رحم و کرم پر زندہ رہیں یا ان سے علیحدہ ہو کر اس خطہ زمین کو رہنے کے قابل بنائیں جو تقسیم کی صورت میں ان کے حصے میں آ سکتا تھا۔ اس اعتبار سے یہ آئیڈیل کے بجائے ایک ایسا حل تھا جو نسبتاً باقیوں سے بہتر تھا۔
اب چونکہ بدقسمتی سے ان ستر برسوں میں ہونے والے مختلف واقعات‘ حادثات‘ بین الاقوامی سیاست اور ہماری مختلف حکومتوں کی ناکام‘ غلط اور عدم تسلسل کی حامل پالیسیوں کی وجہ سے ہم گوناگوں مسائل کا شکار ہو گئے ہیں اس لیے ان خیالات کو ہوا دی جا رہی ہے کہ یہ ملک بنا ہی غلط تھا، اس ضمن میں مولانا ابوالکلام آزاد کی ایک تقریر کا بہت حوالہ دیا جا رہا ہے جو بلاشبہ بہت مدلل اور ایک خاص وژن کی حامل ہے لیکن کیا ان احباب نے یہ بھی دیکھنے اور جاننے کی کوشش کی ہے کہ خود مولانا کے ساتھ بھارت میں کیا سلوک ہوا اور اب وہاں کے مسلمان کس طرح کی زندگی گزار رہے ہیں؟ میرا مقصد مولانا آزاد کی بات کو غلط ثابت کرنا نہیں بلکہ اس طرف اشارہ کرنا ہے کہ اس وقت جتنے بھی حل تھے سب کے سب مشروط نوعیت کے تھے اور اس وقت کسی کو ٹھیک طرح سے علم اور اندازہ نہیں تھا کہ مستقبل کیا شکل اختیار کرنے والا ہے، سو ایسے میں پاکستان کے قیام کا مسئلہ غلط یا صحیح کے بجائے اچھے اور بہتر کے درمیان انتخاب کا مسئلہ تھا اور میرے خیال میں بلاشبہ ان حالات میں پاکستان کو ایک علیحدہ وطن کی شکل میں بنانے کا فیصلہ باقی آرا سے نسبتاً بہتر تھا۔
یہ سب باتیں کسی نہ کسی شکل میں ہم سب کے علم میں ہیں لیکن اس وقت ان کو تازہ کرنے کا محرک سردار عظیم اللہ خان میو کی کتاب ’’تقسیم ہند اور میوات‘‘ بنی ہے جس میں انھوں نے میوات اور میواتی قوم کی تاریخ اور طرز معاشرت کے ساتھ ساتھ تقسیم کے دنوں میں ہونے والے ان واقعات اور فسادات کا تفصیل سے ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے لاکھوں میواتیوں کو پاکستان کی طرف ہجرت کرنا پڑی اور انھیں اپنی جنم دھرتی کو چھوڑنا پڑا جب کہ یہاں کے لوگ تہذیبی اعتبار سے اسلام سے زیادہ ہندوؤں کے قریب تھے اور اگر قتل و غارت کے ذریعے انھیں اپنے وطن سے دربدر نہ کیا جاتا تو شاید آج بھی ان کی اکثریت بھارت ہی کی شہری ہوتی۔ سردار عظیم اللہ نے بڑی سچائی اور سادگی سے میواتی قوم کی تاریخ معاشرت اور تہذیبی رسوم و رواج کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ میوات کے مسلمان دین اسلام کے دائرے میں آتو گئے تھے مگر عملی طور پر ان کا کلچر ابھی تک ہندو تہذیب سے قریب تر تھا اور انھیں قتل و غارت کا نشانہ صرف ان کے اسلامی ناموں اور قومی تشخص کی وجہ سے بنایا گیا جو اس وقت تک محض برائے نام تھا۔
اس پر مجھے بوسنیا کے ادیب رزاق ہکانووک کی وہ ڈائری بہت یاد آئی جس کا اردو ترجمہ چند برس قبل میں نے حکیم محمد سعید مرحوم اور محترم ایس ایم ظفر صاحب کی فرمائش پر ’’جہنم کی دسویں گہرائی‘‘ کے نام سے کیا تھا کہ اس میں بھی مرکزی کردار صرف نام کا مسلمان تھا جب کہ نسلی‘ معاشرتی‘ تہذیبی اور عملی طور پر وہ اپنے دیگر عیسائی یا لا مذہب لوگوں سے کسی طرح مختلف نہیں تھا اور اس کا طرز حیات بھی بالکل ان جیسا تھا مگر جونہی بوسنیا میں مسلم کش فسادات شروع ہوئے اس کے بچپن کے ساتھیوں‘ دوستوں اور جاننے والوں نے صرف اس کے مسلمان نام کی وجہ سے تین برس تک کس طرح اسے قید و بند میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنایا۔ سردار عظیم اور میو نے بڑی محنت اور تحقیق سے کئی ایسے کرداروں کے انٹرویو بھی جمع کیے ہیں جو ان تمام واقعات کے عینی شاہد اور متاثرین ہیں جو ان کی قوم کے ساتھ روا رکھے گئے۔
کتاب کا بیانیہ بہت رواں‘ معروضی اور حقیقت نگاری کا ایک عمدہ نمونہ ہے، مثال کے طور پر ’’تعارف‘‘ کے عنوان سے لکھے گئے کتاب کے پہلے باب کی چند سطریں دیکھئے۔’’عصر حاضر کی تاریخ میں برصغیر کی تقسیم سے اہم اور چونکا دینے والا واقعہ شاید ہی کوئی اور ہو… وہ علاقے بھی اس وحشت اور بربریت کی زد میں اسی شدت سے آئے جو تبادلہ آبادی کے منصوبے کا حصہ نہ تھا۔ میوات بھی ایسا ہی علاقہ تھا جس کا زیادہ حصہ تبادلہ آبادیات کی اسکیم کے مجوزہ علاقے سے باہر آباد تھا مگر مسلمان میووں پر یہاں ڈھائے گئے مظالم کی داستان اتنی دردناک ہے کہ اسے بیان کرنے کے لیے بھی پتھر کا جگر چاہیے۔یہ ان میووں کے ساتھ کیا گیا جنہوں نے سیکڑوں برس تک مقامی ہندوؤں کے ساتھ مل کر مسلمان حکمرانوں کے خلاف مزاحمت کی تھی۔
یہاں تک کہ 1947 میں میووں کے قتل عام میں ملوث دونوں ریاستیں الور اور بھرت پور تو قائم ہی میووں کی مدد سے ہوئی تھیں، وجہ میووں کا مسلمان ہونا تھا۔ مسلمان حملہ آوروں کے ساتھ سیکڑوں سالہ مزاحمت کے پس منظر کے باوجود ہندوؤں کے لیے میو صرف مسلمان تھے… یہاں یہ سوچنا بالکل غلط ہو گا کہ مسلمانوں پر یہ تباہی مسلم لیگ کو ووٹ دینے کی وجہ سے آئی کیونکہ اس ہنگامے میں کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ کون کانگریسی اور کون مسلم لیگی ہے… چونکہ پاکستان بن چکا تھا اس لیے آزاد بھارت میں کسی مسلمان کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی وہ یا تو پاکستان جائے یا شدھی ہو ورنہ مارا جائے۔ یہ تھا وہ نظریہ جس پر معدودے چند لوگوں کے علاوہ ہندوؤں اور سکھوں نے بحیثیت مجموعی 1947 میں عمل کیا‘‘
اس کتاب میں شامل انٹرویو بھی بے حد چشم کشا اور قابل غور ہیں جن کا مجموعی تاثر یہی بنتا ہے کہ ہندو آبادی کے ایک مختصر مگر انتہا پسند گروہ نے ان بے شمار امن پسند اور پرانی ہمسایہ داری کے قائل ہندوؤں کو بھی بے عمل اور مفلوج کر دیا تھا جو اس قتل و غارت کے شریک اور حامی نہ تھے اور یہ رویہ تب سے اب تک مختلف صورتوں میں جاری و ساری ہے۔ اس طرح کی عمدہ تحقیق پر مبنی کتابیں اس پس منظر اور تناظر کو مزید واضح کرتی ہیں کہ بھارت کے مسلمانوں کے لیے پاکستان بنانا کیوں ضروری ہو گیا تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم باتوں کو خلط ملط کرنے اور تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کے بجائے اپنی ان کمزوریوں اور ناکردہ کاریوں کا جائزہ لیں اور ان کی اصلاح کی کوشش کریں کہ بقول شخصے مرض کی صحیح تشخیص اس کا آدھا علاج ہوتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں