اس حمام میں سب ننگے ہیں

ansar-abbasi
امریکہ کی نیشنل انٹیلیجنس کونسل نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں جہاں اور بہت کچھ کہا ہے جس میں امریکہ کی دنیا پر حکمرانی کے سورج کی 2025ء تک غروب ہونے کی نویدبھی شامل ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اس عرصے میں یہ نہ صرف انتہائی خطرناک ممالک کی صف میں شامل ہو گا بلکہ ناکام ریاست بھی بن سکتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عسکریت پسندی اور معاشی بدحالی پاکستان کے لیے دو بنیادی خطرات ثابت ہوں گے جبکہ فاٹا اور اس سے ملحقہ افغان پشتون علا قے آپس میں مل سکتے ہیں۔ پاکستان کے بارے میں پہلے ہی ایک امریکی تھنک ٹینک اس سے بھی خطرناک مستقبل کا نقشہ کھینچ چکا ہے جس نے 2015تک پاکستان (خدانخواستہ) کو حصوں بخروں میں منقسم دکھایا تھا۔ میری اپنے اللہ رب ا لعزت سے دعا ہے کہ یہ ملک ہمیشہ قائم و دائم رہے مگر شاید بحیثیت قوم مجموعی طور پر جوآج ہمارا کردار ہے اور جو کچھ اس وقت ہم کر رہے ہیں وہ کچھ زیادہ امید افزا نہیں۔ حکومت ہو یا اپوزیشن، چاہے افسرشاہی کی بات کریں یا فوج کو دیکھیں، عام آدمی پر نظر دوڑائیں یا سیاستدانوں کے کردار کا جائزہ لیں, سچ تو یہ ہے کہ ہماری کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہمارا ایک وفاقی وزیر کھلے عام بجلی چوری کرتے ہو ئے پکڑا گیا لیکن اس پر اس کی کوئی باز پرس نہ کی گئی نہ ہی کوئی مقدمہ قائم کیا گیا۔ اپوزیشن پارٹیاں بھی خاموش رہیں ، اعلٰی عدلیہ نے بھی کوئی نوٹس نہیں لیا جبکہ پارلیمنٹ نے محض آنکھیں بند کر لیں۔ یہی رویہ ہر طرف سے رہا جب ایک اور وزیر صاحب کی پی ایچ ڈی کی ڈگری جعلی نکلی۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ وزیر صاحب اب بھی اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹرکیوں کر لکھ رہا ہے۔ ایک سرکاری مکان کو خالی کرانے پر ایک وزیر مملکت نے اسلام آباد میں اسٹیٹ آفس کے اہلکاروں کی سرعام پٹائی کر دی ۔ لیکن اس پر بھی ہر طرف خاموشی رہی۔ حال ہی میں مولانا فضل الرحمن کے متعلق فوجی اراضی اور صوبائی حکومت کی ملکیتی زمین کی الاٹمنٹ اسکینڈل پر بھی ماسوائے میڈیا کے ہر طرف خاموشی طاری ہے۔ حکومت کاخاموش رہنا کچھ سمجھ میںآ نے والی بات ہے مگر اپوزیشن نے اس مسئلہ پر اپنے ہونٹ کیوں سی رکھے ہیں۔ چوہدری نثار علی خان اور ان کے قائد میاں نواز شریف نے بھی اس مسئلے پر چپ کا روزہ کس مصلحت کی بنیاد پر رکھا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے اس مسئلے پر ابھی تک صوبائی اسمبلی میں کیوں بات نہ کی۔ جی ایچ کیو نے یہ تو کہہ دیا کہ مولانا کے قریبی لوگوں کو اس وقت کی حکومت کی سفارش پر یہ الاٹمنٹ کی گئی تھی جو قانوناً ممکن نہیں تھی۔ سوال یہ ہے کہ محض یہ کہہ دینا کافی ہے؟ فوج کے موجودہ سربراہ اس غیرقانونی الاٹمنٹ کی تنسیخ کیوں نہیں کرتے۔اس حقیقت کو تسلیم کیوں نہیں کیا جاتا کہ قانون کی خلاف ورزی جی ایچ کیو نے بھی کی اور اس کی ذمہ داری جنرل مشرف پر آتی ہے۔ جماعت اسلامی جو اسلام کے نام پر سیاست کرتی ہے اس معاملہ میں مکمل خاموش کیوں ہے۔ آف دی ریکارڈ گفتگو میں اس حقیقت کو تسلیم کرنے والے حق بات برملا کرنے سے کیوں کتراتے ہیں۔ کیا سیاست میں حق بات اسی وقت کی جاتی ہے جب وہ مخالفین کو زیر کرے۔ جماعت کی اطلاع کے لیے سورة البقرہ کی آیت نمبر42 میں اللہ تعالٰی نے مسلمانوں سے فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ ہی حق کو چھپاثو جس کا تمہیں علم ہے۔ میڈیاکے لوگوں پر e-mails اور messages SMS کے ذریعے دباؤ ڈالنے والے وہ جماعت کے لوگ جو ہم سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم ایم کیو ایم کے ناظم کی Foreign Policy Magazine میں اس حقیقت کے متعلق کیوں نہیں لکھتے کہ ایم کیو ایم کے اس دعویٰ میں کوئی صداقت نہیں، اپنی اعلٰی قیادت سے مولانا کے متعلق اسکینڈل پرخاموشی پر سوال کیوں نہیں کرتے۔ میڈیا کے کندھے پربندوق رکھ کر اپنے مقاصد حاصل کرنا کہاں کاانصاف ہے۔ اسلام کے نام پر سیاست کرنے والوں کی سیاست میں ایک واضح فرق نظر آنا چاہیے لیکن جو ہمیں دیکھنے کو مل رہا ہے وہ اس کے بلکل برعکس ہے۔
ایسے حالات میں جہاں ہر کوئی محض اپنے مفادات کی سیاست کر رہا ہو قانون کی حکمرانی فقط نعرہ بن کر رہ جائے، سزائیں صرف کمزور اورغریب کے نصیب میں ہوں جبکہ اشرافیہ اور حکمران کی ہر غلطی کو نظرانداز کیا جائے، انصاف ایک خواب بن کر رہ جائے ، کرپشن اور بدعنوانی باعث شرمندگی نہ رہے تو پاکستان کا مستقبل کیسے محفوظ ہوسکتا ہے۔ اندرونی طور پرہم انتہائی بدنظمی کاشکار ہوچکے ہیں جبکہ خارجی طور پر تو ہم نے اپنے آپ کو مکمل طور پر امریکہ کا غلام بنا چھوڑا ہے۔ کس مزے اور بے فکری سے امریکی افواج ہمارے علاقوں میں میزائل سے آئے دن حملے کر رہی ہیں اور ہمارے لوگوں کا بے رحمی سے قتل کیا جا رہا ہے۔ ان حملوں کے خلاف ہماری حکومت کا احتجاج کرنا محض ایک مذاق بن چکا ہے اور امریکی میڈیا کی اطلاعات کہ یہ حملے پاکستان کی مرضی سے ہو رہے ہیں نے ہمارا رہا سہا اعتبار بھی حکومت پر سے اٹھا دیا ہے۔ ان حالات میں جہاں حکومت کو اپنی کھوئی ہوئی ساکھ کی بحالی اور ملک کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی حکمرانی کے اصولوں کو بدلنا ہو گا وہیں اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ بے شک اس کے لیے ان کو اپنے سیاسی مفادات کی قربانی دینی پڑے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں