یہ زمانہ بدلے گا

ansar-abbasi
چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی صاحبزادی فرح حمید ڈوگر کی خبر پر ملنے والے زبردست عوامی ردعمل نے میرے اس یقین کو پختہ کر دیا ہے کہ یہاں ظلم، زیادتی اور ناانصافی کا دور زیادہ دیر نہیں چل سکتا۔ لوگ ایک مثبت تبدیلی کے خواہاں ہیں،ایسی تبدیلی جہاں قانون کی حکمرانی ہو، جہاں انصاف سب کیلئے ہو، جہاں ظالم کا ہاتھ روکنے والے موجود ہوں، جہاں زیادتی کی تلافی کی جائے، جہاں عدالتوں اور ان میں بیٹھنے والے منصفوں پر عوام بھروسہ کر سکیں اور جہاں حکومت خالصتاً عوام کی فلاح اور ان کے حقوق کے حصول کیلئے کوشاں ہوں نہ کہ اعلیٰ عہدوں پر بیٹھنے والوں کی غلط کاریوں کا دفاع کرے۔ ان گنت ٹیلی فون کالز، سینکڑوں ای میلز اور موبائل ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے جس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے نے مجھے اور میرے ادارے کو بہت حوصلہ دیااور میری اس امید کو مزید تقویت ملی کہ انشاء اللہ یہ زمانہ بدلے گا، یہ اندھیر نگری ختم ہوگی اور صبح طلوع ہوکر رہے گی۔ مزید آگے چلنے سے پہلے میں یہاں ایسے تمام احباب کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اس موقع پر میری اور میرے ادارے کی ہمت افزائی کی۔ ہمیں بے پناہ دعائیں بھیجیں اور اپنے مکمل ساتھ دینے کا وعدہ کیا۔ یہاں میں دی نیوز اور جنگ کے ان قارئین اور جیو کے ان ناظرین کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہم سے رابطہ تو نہ کرسکے لیکن ہمیں اپنی دعاؤں میں شامل کیا۔ میں ذاتی طور پر میڈیا کے ان تمام احباب کا بھی مشکور ہوں جنہوں نے اس Cause میں ہمارا ساتھ دیا اور ساتھ دینے کا یقین دلایا۔ ڈان اخبار نے اس مسئلہ پر ایک خوبصورت اداریہ لکھ کر دی نیوز کی اس تحقیقاتی صحافت کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ اس کو ذمہ دار صحافت کی ایک مثال گردانا۔ ایک بہت بڑی تعداد نے مجھے محتاط رہنے کا مشورہ دیا جبکہ بہت سوں کے بقول میری زندگی کو خطرہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک صاحب نے جرمنی سے مجھے فون کیا اور مجھے میری فیملی سمیت وہاں آنے کا کہا تاکہ مجھے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے۔ میرے ادارے نے بھی مجھے احتیاطی تدابیر لینے کیلئے کہا۔ ہر طرف سے اس بے پناہ محبت نے کئی مرتبہ میری آنکھوں کو نم کردیا۔ اس تمام تر ردعمل نے ثابت کر دیا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں حکومت، عدلیہ اور دوسرے ریاستی ادارے اپنا اصل کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں وہاں میڈیا ایک بڑی امید بن کر ابھر رہا ہے۔ اخبار نویسوں اور ٹی وی اینکر پرسن اور کالم نگاروں کی ایک بڑی تعداد آج اس ملک میں وہ کام کر رہی ہے جو میری نظر میں ایک ایسا جہاد ہے جس سے ہم اس ملک کو انشاء اللہ تبدیل کر دیں گے ۔ میڈیا کے وہ لوگ جو خلوص نیت سے اس ملک میں اداروں کی مضبوطی اور عوام کے حقوق کی بات کر رہے ہیں ان کو پہلے بھی خطرات کا سامنا تھا اور آج بھی ہے لیکن تمام تر دباؤ اور خطرات کے باوجود وہ اپنا کام ایمانداری کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔ یہاں میں یقینی طور پر اس امر پر بھی فخر محسوس کر رہا ہوں کہ میں جنگ گروپ کا ایک کارکن ہوں۔ جنگ گروپ نے 2007 کے بعد عدلیہ کی آزادی اور اس ملک میں اداروں کے استحکام کیلئے جس جرات اور جواں مردی کا مظاہرہ کیا اس کی شائد کوئی مثال نہیں ملتی۔ 3 نومبر 2007 کی جیو کی بندش کی وجہ سے 2 ارب روپے کے نقصان کے باوجود یہ ادارہ ایسی اطلاعات کی فراہمی میں جھجک محسوس نہیں کرتا جو شاید کوئی دوسرا میڈیا ہاؤس نہیں کرسکتا۔ باوجود تمام تر دباؤ کے چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کی بیٹی کے نمبروں کا سیکنڈل شائع کرنا بلاشبہ اس ادارہ کی ملک کیلئے ایک اہم Service ہے۔ اب جبکہ میڈیا نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے حکومت اس مسئلہ کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ اعلیٰ عدلیہ اس واقعہ کا نوٹس لینے سے گریزاں ہے، حکومت نے تو ابھی تک بڑی کامیابی سے ”خودمختار“ پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس مسئلہ کو زیربحث لانے سے روک دیا۔ ایسے وقت میں جب چیف جسٹس ڈوگر کے استعفیٰ کا مطالبہ عام ہو رہا ہے حکومتی وکیلوں کے ایک چھوٹے سے مفاد پرست ٹولے نے سکینڈل کو بے بنیاد قرار دیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا عوام اس زیادتی کو برداشت کرنے کیلئے تیار ہیں۔ کیاحکومت کی خاموشی سے یہ مسئلہ دب سکتا ہے ۔ کیا یہ اس ملک کا المیہ نہیں کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے اعلیٰ ترین جج کی بیٹی کو انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں اضافی نمبر اس طرح دیئے جائیں جس کا کوئی قانونی جواز نہ ہو۔ ایسا کیونکر ممکن ہوا کہ لاکھوں طلبہ و طالبات میں سے صرف ایک طالبہ کو خصوصی طور پر نوازا جائے صرف اس لئے کہ وہ چیف جسٹس کی بیٹی ہے۔ لوگ سوال کر رہے ہیں کہ یہ کیسی عدالتیں ہیں۔ یہ کیسی حکومت ہے ۔یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کیا یہ سب کچھ اسی طرح چل سکتا ہے کیا یہاں پر بڑے کی ہر غلطی اور ہر جرم پر پردہ ڈالنے کا دستور چلتا رہے گا۔ کیا سزائیں، جرمانے اور قانون صرف غریبوں اور بے آسراؤں کیلئے ہونگے۔ آیا یہی ہمارے مذہب کا درس ہے، کیا یہی ہمارے نبی حضرت محمد کی تعلیمات ہیں۔ ہمارا دین تو برابری کا قائل ہے ۔ ہمارے نبی نے تو کسی امتیاز کو تسلیم نہیں کیا بلکہ ایک دفعہ فرمایا تھا کہ اگر حضرت فاطمہ بھی چوری کریں گی تو ان کے ہاتھ بھی کاٹے جائیں گے۔ حضرت محمد کا فرمان ہے کہ اسلام سے پہلے جاہلیت کے زمانے میں جب کوئی سردار یا کوئی بڑا آدمی جرم کرتا تو اس کو رعایت دی جاتی تھی اس کے برعکس اگر کہیں عام شخص سے جرم سرزد ہوتا تو اس کو سزا دی جاتی تھی۔ اپنے پیارے نبی کے اس فرمان کی روشنی میں اگر ہم اپنے آپ کو آج دیکھیں تو کیا ہم یہ ثابت نہیں کر رہے کہ ہم جاہلیت کے زمانہ میں رہ رہے ہیں اور یہ کہ ہماری زندگیوں میں ہمارے دین کی تعلیمات کا کوئی عمل دخل نہیں۔
بیشتر پاکستانیوں کے لیے پچھلے آٹھ سال کرب میں گزرے۔ لیکن موجودہ جمہوری حکومت کے دور میں جو مذاق اس ملک کے ساتھ ہو رہے ہیں وہ برداشت کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ انڈیا کے وزیراعظم کے طلب کیے جانے پر آئی ایس آئی کے سربراہ کو دہلی بھیجنے کا اعلان وزیراعظم گیلانی کی طرف سے ایک بھیانک مذاق تھا جو اللہ کی مہربانی سے شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں