فرح ڈوگرقوم کی special daughter بن سکتی ہے

ansar-abbasi
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پریس سیکریٹری زاہد بشیر کو فارغ کر دیا۔ اس کی وجہ میری چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے ساتھ 21 نومبر کو ہونے والی ملاقات تھی جو زاہد بشیر کے Initiativeپر ہم تینوں کے درمیان تقریباً سوا دو گھنٹے جاری رہی اور جس کے دوران مجھ پر مسلسل یہ دباؤ ڈالا جاتا رہا کہ میں فرح حمید ڈوگر کے متعلق خبر نہ دوں۔ حکومتی اعلان کے مطابق زاہد بشیر کو وزیراعظم کی اجازت کے بغیر چیف جسٹس سے ملاقات کرنے پر فارغ کیا گیا ہے۔ اس وضاحت کے ساتھ کہ میرے دل میں زاہد بشیر صاحب کیلئے کوئی رنجش یا عناد ہے اور نہ کبھی تھا وزیراعظم کا یہ فیصلہ حکومت کی نیک نامی کا سبب بنا۔ ایک ایسی حکومت جس کو عمومی طور پر غیر سنجیدہ سمجھا جاتا ہے اس کی طرف سے اس طرح کا قدم اٹھانا یقیناً قابل تحسین ہے۔ اس فیصلہ پر میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو خاص طور پر مبارکباد کا مستحق ٹھہراتا ہوں کیونکہ زاہد بشیر سے اپنی 24 سالہ پرانی دوستی کے باوجود انہوں نے اپنے دوست کی ایک ایسی غلطی کو معاف نہیں کیا جس سے اس ملک کی عدلیہ کا انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کا تاثر ملتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اسی طرح ہمارے ملک کی حکومتیں میڈیا کی نشاندہی کرنے پر اصلاحی اقدامات لیتی رہیں تو ہمارے ادارے مضبوط ہوں گے قانون کی حکمرانی ہو گی‘ میرٹ کا بول بالا ہو گا اور عوام خوشحال ہوں گے۔ اس طرح حکومت کی بھی نیک نامی ہو گی۔ میڈیا کی کسی حکومت یا شخص سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہوتی بلکہ صحافت بنیادی طور پر حکمرانوں کیلئے آنکھ اور کان کا کردار ادا کرتی ہے اور حکومت کو وہ سب کچھ دکھاتی ہے جو ایوان اقتدار میں بیٹھنے والوں کی نظر سے اکثر اوجھل رہتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ میڈیا حاکم وقت کے غلط فیصلوں اور حکومتی خرابیوں کو بھی اجاگر کرتا ہے تاکہ ان غلطیوں اور خرابیوں کا مداوا کیا جا سکے مگر ہمارا المیہ ہمیشہ یہ رہا کہ تقریباً ماضی کی ہر حکومت نے میڈیا کے اس کردار کو سراہنے کی بجائے تنقید کا نشانہ بنایا۔ ہر حکمران نے میڈیا کو اپنے دشمن کے طور پر لیا اور اسی بنا پر صحافت اور صحافیوں پر ہونے والی زیادتیوں کا سلسلہ کبھی نہ رکا۔ آج کے حاکم بھی میڈیا کے بارے میں کچھ زیادہ اچھے تاثرات نہیں رکھتے جو یقیناً قابل افسوس ہے۔
اب جب کہ وزیراعظم گیلانی نے Good Governance کی طرف مثبت قدم اٹھاتے ہوئے اپنے پرانے دوست کی قربانی دے دی‘ دیکھنا یہ ہے کہ فرح حمید ڈوگر کیس کے مرکزی کردار چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کا کیا مستقبل ہوتا ہے۔ اگر وزیراعظم کے پریس سیکرٹری جو ایک گریڈ 20 کا ملازم تھا کو رات گئے چیف جسٹس سے ملنے پر فارغ کیا جا سکتا ہے تو آیا یہ اس ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے اعلیٰ ترین جج کے منصب کے شایان شان تھا کہ وہ وزیراعظم کے عملہ سے اس نوعیت کے تعلقات رکھیں۔ آیا یہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے code of conductکی خلاف ورزی نہیں۔ پریس سیکرٹری کو تو وزیراعظم نے اسی روز فارغ کر دیا جس دن میں نے دی نیوز اور جنگ میں 21 نومبرکی رات کو چیف جسٹس ڈوگر اور زاہد بشیر سے ہونے والی ملاقات کی کہانی چھاپ دی مگر چیف جسٹس ڈوگر کے متعلق مکمل خاموشی ہے۔ جب سے فرح حمید ڈوگر کا اسکینڈل منظر عام پر آیا چیف جسٹس آف پاکستان یا سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔ حکومت بھی اس معاملہ پر کچھ بولنے سے قاصر ہے لیکن یہ سوال ذہن میں کھٹکتا ہے آیا اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو ان کی مبینہ غلط اقدامات پر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر چیف جسٹس ڈوگر خود اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش نہیں کرتے تو کیا سپریم کورٹ کے دوسرے جج کچھ نہیں کر سکتے۔ آیا حکومت بھی اس واقعہ پر اپنی آنکھیں‘ کان اور منہ بند کئے رکھے گی۔ سپریم جوڈیشل کونسل کس مرض کی دوا ہے۔ جب ہمیں معلوم ہے کہ عدلیہ کے احتساب کا موجودہ آئینی و قانونی طریقہ موثر نہیں ہے تو میثاق
جمہوریت کی روشنی میں تیار کئے گئے سینیٹر رضا ربانی کے آئینی و قانونی مسودہ کو کیوں پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاتا۔ یہ مسودہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرری سے لے کر ان کے احتساب کا ایک بہترین حل پیش کرتا ہے۔ جس طرح پہلے ہی میں زاہد بشیر صاحب کے بارے میں کہا چکا ہوں میری چیف جسٹس ڈوگر سے بھی کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ ان کی بیٹی فرح حمید ڈوگر کیلئے میری دعا ہے کہ اللہ اس بچی کومحفوظ مستقبل دے۔ ہماری جدوجہد ذاتی نہیں بلکہ ناانصافی اور زیادتی کے خلاف ہے۔ اس مسئلہ میں میری تحقیق چیف جسٹس صاحب کو اس سارے واقعے سے بری الذمہ نہیں ٹھہراتی۔ چیف جسٹس سے ملاقات کے دوران کچھ ایسے حقائق بھی میرے سامنے آئے جو نہایت تلخ اور اداس کر دینے والے تھے۔ یاد رہے کہ برطرف کئے گئے وزیراعظم کے پریس سیکرٹری کی طرف سے میرے اور میرے اخبار پر اسی دن سے دباؤ آنا شروع ہو گیا تھا جب میں اس خبر پر کام کرنے کیلئے پہلی دفعہ فیڈرل بوڑد آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کے دفتر گیا۔ چیف جسٹس کی موجودگی میں زاہد بشیر کا یہ کہنا کہ خبر چھپنے کے باوجود نہ حکومت بورڈ کے خلاف کوئی ایکشن لے گی اور نہ ہی سپریم کورٹ کوئی کارروائی کرے گی۔ میرے خیال میں کافی سنگین بات ہے۔ اسی طرح اب جیسے کہ حکومت نے بھی سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ فرح حمید ڈوگر کیلئے کی گئی Re-essesment کا کوئی قانونی جواز نہ تھا چیف جسٹس کا یہ کہنا کہ چیئرمین بورڈ نے یہ Re-essesment قانون اور قائدے کے مطابق کی‘ یقیناً قابل افسوس ہے۔ اسی طرح چیف جسٹس کا اس موقع پر جب فرح حمید ڈوگر کا راولپنڈی کے ایک پرائیویٹ میڈیکل کالج میں اضافہ 20 نمبروں کی وجہ سے داخلہ ہو چکا تھا یہ تاثر دینا کہ ان کی بیٹی بی بی اے میں داخلہ کیلئے کوشاں ہے کیونکہ میڈیکل کالج میں اس کا داخلہ نہیں ہو سکتا‘ پریشان کن حقیقت ہے ۔ کیا یہ سب کچھ قابل معافی ہے۔ مجھے نہیں معلوم چیف جسٹس ڈوگر کیا سوچ رہے ہیں مگر میری فرح حمید ڈوگر سے درخواست ہے کہ وہ اسلامک میڈیکل کالج کے داخلہ سے اپنے آپ کو دستبردار کر دے تاکہ حقدار کو اس کا حق مل سکے۔ پورا پاکستان اس بیٹی کے اس قدم پر دل سے عزت کرے گا اور فرح صحیح معنوں میں اس قوم کی Special daughter بن جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں