نوشتہ دیوار کو پڑھیں

ansar-abbasi
ایک بات طے ہے اگر موجودہ حکمران اپنی طرز حکومت میں واضح تبدیلی نہیں لاتے تو ان کے کل کا کوئی بھروسہ نہیں۔ پانچ سال کیلئے منتخب ہونے والی حکومت نو ماہ میں ہی غیر مقبولیت کی ان حدوں کو چھو رہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر بھی لوگ یہ بات کرتے ہوئے سنائی دیتے ہیں کہ شاید یہ سلسلہ 2009 سے آگے نہ چل سکے۔ درمیانی مدت الیکشن کی باتیں پہلے ہی شروع ہوچکی ہیں جبکہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اپوزیشن پارٹیوں پر کافی دباؤ ہے کہ وہ Pro-active اپوزیشن کا کردار ادا کریں وگرنہ نقصان سب کا ہوسکتا ہے۔ موجودہ حکومت کی غیر مقبولیت ایک حالیہ بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے کئے گئے سروے کے مطابق 88% تک پہنچ چکی ہے۔ اخباروں کو دیکھیں، کالم نگاروں کو پڑھیں، نجی ٹیلی ویژن چینلز پر مذاکرے سنیں یا عوام کی بات کریں آج کے پاکستان کے حالات یقینی طور پر نہایت گھمبیر ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال کے انتخابات میں منتخب ہونے والی مقبول ترین پارٹی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی آج اقتدارمیں اپنی طرز حکومت کی وجہ سے اپنے مستقبل کو بھی داؤ پر لگائے ہوئے ہے۔ لیکن اس سب کے باجود صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سمیت اس پارٹی سے تعلق رکھنے والا حکمرانوں کا ٹولہ ایک عجیب رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ بے حسی، سردمہری اور بے نیازی کا یہ حال ہے کہ صاحب اقتدار نوشتہ دیوار پڑھنے سے قاصر ہیں کجا یہ کہ اپنا قبلہ درست کریں، طرز حکمرانی میں مثبت تبدیلی لائیں تاکہ عوام کے مسائل کا حل تلاش کیا جاسکے۔ قانون کی حکمرانی اور میرٹ کا بول بالا ہو، حکمران اپنے موج میلے میں مصروف ہیں۔ عوام کے نام پر ووٹ لینے والے اپنے کام نکلوانے میں مصروف ہیں اور ایسی ایسی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں کہ بس اللہ کی پناہ۔جس ملک میں ایک بہت بڑی تعداد فکر معاش میں مبتلا ہو اور پڑھے لکھے نوجوان نوکریوں کیلئے دردر کی ٹھوکریں کھارہے ہوں وہاں وفاقی وزراء کااپنے بچوں کیلئے حکومتی اداروں میں میرٹ کے برخلاف دوسروں کے حقوق پر کھلا ڈاکہ ڈالتے ہوئے بھرتیاں کروانا غیر سنجیدگی کی ایک حد ہے۔ کوئی پوچھے امین فہیم جیسے سندھ کے ایک امیرزادے اورگدی نشین کیلئے کیا یہ مناسب ہے کہ وہ اپنی بیٹی کو آئرلینڈ میں فرسٹ سیکرٹری بھرتی کروائیں۔ کیا وزیر اعظم گیلانی نے امین فہیم کی بیٹی جس کا نہ تو سول سروس اور نہ ہی فارن سروس سے تعلق ہے پر یہ نوازش کرتے ہوئے ایک لمحہ کیلئے سوچاکہ وہ ان لوگوں کاحق مار رہے ہیں جو مقابلے کے امتحان میں کامیابی اور میرٹ پر اعلیٰ پوزیشن لینے اور کم از کم گیارہ سال فارن سروس میں تجربے کے بعد اس عہدے کیلئے اہل قرار پائے ہیں۔ فاروق نائیک صاحب کی صاحبزادی کو اسٹیٹ بنک آف پاکستان میں صرف انٹرویو کی بنیادپر افسر بھرتی کر کے پچاس ہزار روپے کی تنخواہ دی جاتی ہے جبکہ اس کے برعکس اشتہار کی بنیاد پر بنائے گئے میرٹ پر آئے صرف چند نوجوانوں کو نوکریاں دی گئیں اور
ان کی تنخواہ 28000روپے مقرر کی گئی۔ ان اور ان جیسے نوجوانوں کو سٹیٹ بنک میں ملازمت پر 6ماہ کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ ایک اور وفاقی وزیر عبدالرزاق تھہیم نے بھی وزیر اعظم کو کہہ کر اپنے بیٹے جواس وقت ابوظبی میں لیبر اتاشی ہے کی واپسی کے پوسٹنگ آرڈر معطل کرادیئے جس سے میرٹ پر اس عہدے کیلئے چنے گئے افسر کو وہاں جانے سے روک دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق منظوروٹو بھی اپنی بیٹی کیلئے ایک پر کشش حکومتی عہدے کیلئے کوشاں ہیں۔ ظلم کی انتہا تو دیکھیں کے میرٹ کی دھجیاں ان لوگوں کے بچوں کیلئے اڑائی جارہی ہیں جو نہ صرف عوام کی خدمت کے وعدے پر حکومت کرتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو دنیا کے بہترین تعلیمی اداروں سے تعلیم بھی دلواتے ہیں۔دوسری طرف حکومتی اداروں میں نوکریاں حکومتی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی سفارش پر دی جارہی ہیں۔ ان حالات میں عام پڑھا لکھا نوجوان کہاں جائے۔ کس سے انصاف مانگے۔ حکمرانوں کی شان بے نیازی کی وجہ سے پہلے ہی ملک میں بیروزگاری میں کمی کی بجائے مزید اضافہ ہورہا ہے۔ اب تو بجلی اور گیس کے ایک دفعہ پھر ابھرنے والے بحرانوں نے ملک کی انڈسٹری کے لئے مزید مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ فیصل آباد میں شروع ہونے والے ہنگامے دوسرے شہروں تک پھیلنے کا خطرہ ہے۔ انڈسٹری کے بند ہونے سے مزید بیروزگاری ہوگی جس کے نتیجے میں مایوسی مزید پھیلے گی۔ ہنگاموں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے پیش نظر اجلاس بلانے والے حکمرانوں کو شاید اندازہ نہیں یا کہ ان کو فکر نہیں کہ بے حس حکومت زیادہ نہیں چل سکتی۔ اگر ان کی سمجھ میں آجائے تو اہل اقتدار کے پاس اپنا اور سیاسی قوتوں کا مستقبل محفوظ بنانے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ ہے صاف اور شفاف حکمرانی کا۔ سنجیدہ رویہ کا۔ میرٹ اور قانون کی حکمرانی کا۔ اداروں کی مضبوطی اور آزاد عدلیہ کا اور ایک ایسے نظام کا جہاں کوئی احتساب سے بالاتر نہ ہو۔

اپنا تبصرہ بھیجیں