غداری کا مرتکب کون؟

ansar-abbasi
ایم کیو ایم کے رکن مرکزی رابطہ کمیٹی اور انچارج مرکزی میڈیا سیل کے انچارچ محترم مصطفی عزیز آبادی نے 10فروری 2009ء کو روز نامہ جنگ میں شائع ہونے والے اپنے کالم بعنوان ”ترادل توہے صنم آشنا“میں ججوں کی بحالی میثاق جمہوریت کے تناظر میں کے موضوع پر شروع ہونے والی بحث کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے کہیں کے کہیں چلے گئے اور میرے کندھوں کو استعمال کرتے ہوئے اپنے سیاسی حریفوں بالخصوص جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بنایا اور آزاد عدلیہ کی بحالی کے لئے سرگرم وکلاء برادری پر اپنا غصہ نکالا۔ یہ تو ان پارٹیوں اور وکلاء پر ہے کہ آیا وہ ایم کیو ایم کو ان نکات کا جواب دیتے ہیں یا نہیں میری دانست میں جناب مصطفی عزیز آبادی اپنے خوبصورت طرز بیاں اور لفاظی کو استعمال میں لاتے ہوئے بڑی مہارت سے اصل موضوع کو چھوڑ کر کہیں اور بھاگ گئے اور ایک ایسی بحث شروع کرنے کی کوشش کی جس کی نہ کوئی حد ہے اور شاید نہ کوئی مقصد لیکن میں یہاں ایک بار پھر اس بات کا اعتراف کروں گا کہ ایم کیو ایم نے اپنے روایتی ردعمل کے برعکس نہایت شائستگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بحث میں حصہ لیا اور اپنانکتہ نظر بیان کیا اور میری رائے کا احترام کیا جس کی مجھے دلی خوشی ہوئی۔ مجھے یقین ہے اس قسم کے صحتمند بحث و مباحثہ سے ہمیں ایک دوسرے کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملے گا اور معاشرے میں پائے جانیوالے لسانی اور مذہبی تفرقہ بازیوں کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ہم سب کو مل کر پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے اور یہاں کے عوام کی زندگیوں میں خوشحالی لانا ہے جس کے لئے انصاف ایک بنیادی ضرورت ہے۔ ججوں کی بحالی کے لئے وکلاء کی تحریک اسی سمت میں ایک اہم اقدام ہے اور میری نظر میں میثاق جمہوریت پرعملدرآمد سے ہی ہم اس تحریک کے objectives کو حاصل کرسکتے ہیں۔ ایم کیو ایم یا کسی بھی سیاسی پارٹی اور فرد کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اس سے اتفاق کرے یااختلاف مگر اس بات سے کوئی انکار نہیں ہوسکتا کہ ہمیں ناانصافیوں کی بنیاد پر کھڑے ہوئے اس معاشرہ کو انصاف کے حصول کے لئے آزاد اور خود مختار عدلیہ کی اشد ضرورت ہے۔ اگر ایم کیو ایم جسٹس افتخار سے خائف ہے یا وکلاء کی جدوجہد کو سیاست کا نام دے رہی ہے تو کیا الطاف بھائی جو سندھ کی ایک بڑی پارٹی کے رہنما ہیں اور خود وہ اور ان کی پارٹی عدالتی ناانصافیوں کاشکاررہے ہیں کی یہ بنیادی ذمہ داری نہیں کہ وہ آزاد عدلیہ جس پر قوم بھروسہ کرسکے اس کے لئے کوئی اپنا فارمولا پیش کریں۔ حکومت میں شامل ہونے کی وجہ سے ایم کیو ایم کی یہ قومی زمہ داری ہے کہ وہ آصف علی زرداری اور اپنے دوسرے حکومتی حلیفوں کے ساتھ مل کر آزاد اور خود مختار عدلیہ کا خواب شرمندہ تعبیر کرکے ماضی میں اپنے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کا ازالہ کریں۔ موجودہ عدلیہ حکومت اور حکومتی پارٹیوں کے لئے تو فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے مگر عوام کو اس سے انصاف کی کوئی توقع نہیں۔ کل جب موجودہ حکمران بشمول آصف علی زرداری اور الطاف حسین اپوزیشن میں بیٹھے ہوں گے تو آزاد عدلیہ کی سب سے زیادہ ضرورت شاید انہی کو ہوگی۔
جہاں تک چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے 2000کے PCOکے تحت حلف اٹھانے کے جس ”ناقابل معافی“جرم کا تعلق ہے تو میری یادداشت کے مطابق اکتوبر1999ء کے جنرل مشرف کے غیر آئینی اور غیر قانونی مارشل لاء کو بلا شبہ اس وقت کی سپریم کورٹ جس کا افتخار چوہدری حصہ تھے نے عدالتی تحفظ دیا لیکن17ویں ترمیم کے ذریعے اس غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کو آئینی تحفظ دینے والوں میں ایم کیو ایم ، ایم ایم اے اور پاکستان مسلم لیگ (ق)پیش پیش تھے۔ اس کے بعد3نومبر 2007ء کے جنرل پرویز مشرف کے ایک اور غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام کی پشت پناہی اور بعد ازاں اس وقت کی پارلیمنٹ میں پاس کی جانیوالی ایک قرارداد کے ذریعے اس کی مکمل حمایت کرنیوالوں میں ایم کیو ایم اور پاکستان مسلم لیگ ق نمایاں تھے۔اس کے برعکس چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور ان کے6دوسرے ساتھی ججوں نے 3نومبر2007ء کو جنرل مشرف کی طرف سے لگائے گئے PCOکو پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غیر آئینی قرار دیا۔ تاریخ یہ فیصلہ کرے گی کہ آیا افتخار محمد چوہدری اور ان کے دوسرے ساتھیوں نے اس فیصلے سے اپنی2000ء والی غلطی کا کفارہ ادا کیا یا نہیں ۔مگر یہاں ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ق) کی طرح ایم کیو ایم اسی جرم کی دوبارہ مرتکب ہوئی جو اس سے پہلے سرزد ہوا۔ کیا یہاں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اکتوبر1999ء کے بعد مشرف کے غیر آئینی اقدامات کا ساتھ دینے کی پاداشت میں کون hi-treasonکا زیادہ مرتکب ہوا ۔ آئین اور قانون کی روح سے تو 17ویں ترمیم نے2004ء تک ہونے والے مشرف کے تمام غیر آئینی اور غیر قانونی اقدامات کو آئینی تحفظ دے دیا اور اب اس ضمن میں کسی سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوسکتی جس کے لئے مشرف ہمیشہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)اور ایم ایم اے کا مرہون منت رہے گا مگر 3نومبر2007ء کے غیر آئینی اقدامات کو ابھی تک موجودہ پارلیمنٹ نے آئینی تحفظ نہیں دیا اگرچہ چیف جسٹس عبد الحمید ڈوگر اور دوسرے PCOجج ان غیر آئینی اقدام کو عدالتی تحفظ دے چکے ہیں ۔ ان حالات میں جنرل مشرف کے علاوہ وہ تمام افراد جو اس ڈکٹیٹر کے ساتھ 3نومبر2007ء کے غیر آئینی اقدام میں شامل تھے آئین کے آرٹیکل 6کے تحت hi- treasonکے مقدمے کا سامنا کسی بھی وقت کرسکتے ہیں۔
جناب مصطفی عزیز آبادی کی اس اطلاع پر کہ PCOکے تحت حلف اٹھانے سے انکار کرنے والے ججوں کو دراصل PCOکے تحت حلف کی دعوت ہی نہیں دی گئی تھی میں بڑی معذرت سے اختلاف کروں گا ۔ اسلام آباد میں مقیم ہونے کی وجہ سے میں مشرف حکومت کی ان بہت سی کوششوں سے آگاہ ہوں جن کا مقصد تقریباً60جج صاحبان نے 3نومبر کو PCOپر حلف اٹھانے سے انکار کیا تھا ان کو PCOکے تحت حلف اٹھانے کے لئے راضی کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن اس وقت کی حکومت ان کوششوں میں عمومی طور پر ناکام رہی۔ محترم عزیز آبادی نے مشرف کی تعریف کی کہ اس نے چیف جسٹس افتخار چوہدری کی بحالی کے20جولائی2007ء کے فیصلے کو دل سے قبول کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایم کیو ایم اور اس کے محبوب ڈکٹیٹر مشرف نے وہ فیصلہ دل سے قبول کرلیا تھا تو پھر آج دن تک جسٹس افتخار چوہدری کے بارے میں لگائے گئے 9مارچ2007ء کے الزامات کو کیوں دہرایا جارہا ہے۔ جسٹس افتخار چوہدری کی 20جولائی 2007ء کی بحالی NROیا کسی اور ڈیل کے مرہون منت نہ تھی بلکہ اس کا سہرا اس وقت کی 13رکنی سپریم کورٹ جس کی صدارت جسٹس خلیل الرحمن رمدے صاحب کررہے تھے کو جاتا ہے جس نے ایک ملٹری ڈکٹیٹر کی موجودگی میں ایک تاریخی فیصلہ دیا لیکن اس تمام بحث کے باوجود میں محترم عزیز آبادی سے اتفاق کرتا ہوں کہ اپنی غلطیوں پر پشیماں ہونے پر معافی مانگنا بڑائی کی بات ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری بھی اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں گے اور اس کے نتیجے میں الطاف بھائی اور ان کی پارٹی عدلیہ کی بحالی کی جدوجہد میں نہ صرف جسٹس چوہدری کے ساتھ ہوں گے بلکہ آنیوالے لانگ مارچ میں بھی حصہ لیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں