آگ پر تیل نہیں۔ پانی ڈالیں

ansar-abbasi
اگر کوئی مجھ سے یہ امید رکھے کہ میں لوگوں کی واہ واہ کے لیے ایسی بات کروں گا جس پر میں یقین نہیں رکھتا تو معذرت کے ساتھ یہ کام میں نہیں کرسکتا۔ چاہے دنیا جو مرضی کرے میں کیسے ایک ایسی ویڈیو فلم جس کی سچائی کے بارے میں شدید شبہات پائے جاتے ہوں آنکھیں بند کرکے یقین کرلوں اور اس پروپیگنڈہ کا حصہ بن جاؤں جس کا مقصد سوات امن معاہدہ کو سبوتاژ کرنے کے علاوہ شرعی اور قرآنی سزاؤں کو تنقید کا نشانہ بنانا ہے۔ نجی ٹی ویژن چینلز نے breaking news کی دوڑ میں پہلے ہی معاملہ کافی خراب کردیا ہے لیکن کچھ مخصوص سیاسی جماعتیں ‘NGOs‘ انسانی حقوق کے علمبردار اور آزاد خیال اس مشتبہ ویڈیو کی بنیاد پر مظاہرے کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ سوات میں مولانا صوفی محمد کے ساتھ کیا گیا معاہدہ ختم کیا جائے اور وہاں طالبان کو ملیہ میٹ کردیا جائے۔ میں کسی ایسے پاگل پن کا حصہ نہیں بن سکتا۔ پہلے ہی بندوق‘ میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے امن قائم کرنے والوں نے پاکستان بھر میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کی آگ کو پھیلا دیا ہے۔ ایسے حالات پیدا کردیئے گئے ہیں کہ مسلمان مسلمان کو مار رہا ہے اور خودکش حملے اور بم دھماکے روز کا معمول بن گئے ہیں۔ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے اور بات چیت کے ذریعے ان مسائل کے حل کرنے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کی جارہی ہیں۔ اے این پی اور اس کے قائد اسفند یار ولی کو بالخصوص تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ ان کی حکومت نے طالبان کے ساتھ سوات امن معاہدہ کیوں کیا۔ اس بات کا خیال کئے بغیر کہ امن معاہدے سے پہلے اور بعد کے حالات میں کتنا فرق ہے۔ ایک ایسی فلم جس کی سچائی انتہائی مشکوک ہے کو بنیاد بنا کر سوات کے لوگوں کو دوبارہ آگ میں دھکیلنے کی کوشش کی جارہی ہے کچھ روز قبل اسفند یار ولی نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میرے مطابق میں بہت اچھی بات کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سوات میں ملٹری آپریشن جاری تھا اور معصوم لوگ‘بچے‘ عورتیں فضل اللہ کے طالبان اور فوج کی لڑائی میں کچلے جارہے تھے تو ہرطرف شور تھا کہ مسئلہ کا بات چیت کے ذریعے حل تلاش کیا جائے ۔لیکن اب جب پرامن حل کی طرف قدم بڑھایا گیا اور سوات میں امن قائم ہو رہا ہے ، بچیوں کے اسکول کھلنا شروع ہوگئے اور بازاروں میں کاروبار کی رونقیں لوٹنا شروع ہوگئیں تو ہرطرف شور اٹھ کھڑا ہوا کہ مولانا صوفی محمد کے ساتھ معاہدہ کیونکر کیا گیا اور یہ کہ سوات کو طالبان کے ہاتھ surrender کردیا گیا ہے۔ اسفند یار نے تنقید کرنے والوں کو ایک سوال کیا کہ ان کی حکومت صوفی محمد کے ساتھ معاہدہ ختم کرنے کے لیے تیار ہے اگر اس کے جواب میں کوئی حل دیا جائے جس سے سوات میں امن لایا جاسکے۔ اسی طرح وزیراعلیٰ سرحد امیرحیدر ہوتی نے کچھ دن قبل مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سب دنیا اے این پی کی سیاسی سوچ اور نظریہ کو جانتی ہے جو یقیناً طالبان کی سوچ اور نظریہ سے مختلف ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی بقا اور سوات میں قیام امن کے لیے انہوں نے اس معاہدے کو تسلیم کیا جو سوات کے لوگوں کا مطالبہ تھا اور اے این پی کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ میری نظر میں اے این پی نے یقیناً وسعت نظری کا ثبوت دیتے ہوئے سوات کے لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کی خاطر اپنے نظریات کی قربانی دی جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
جیسا کہ اسفند یار ولی نے کہا کیا سوات معاہدہ کے مخالفوں کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل موجود ہے۔ اگر نہیں تو کیوں وہ وہاں کے لوگوں کو دوبارہ قتل وغارت اور لوٹ مار کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ سوات معاہدے سے پہلے وہاں لوگوں کی گردنیں کاٹی جاتی تھیں‘ انہیں اغواء کرکے بھاری تاوان وصول کیا جاتا تھا‘ بچیوں کے اسکولوں کو تباہ کیا جاتا تھا‘ علاقہ مکمل طور پر فضل اللہ اور اس کی پرائیویٹ ملیشیا کے کنٹرول میں تھا اور حکومت کی وہاں کوئی رٹ نہیں تھی۔ مولانا صوفی محمد جن کی تحریک ہمیشہ پرامن رہی نے اس معاہدے میں نفاذِ نظام عدل کے جواب میں سوات میں امن کے قیام اور حکومت کی رٹ کی بحالی میں مدد کرنے کا وعدہ کیا۔ 26 جنوری سرحد حکومت اور صوفی محمد میں معاہدہ کے بعد سوات کی صورتحال میں ایک نمایاں تبدیلی ہوئی۔ قتل وغارت اور لوٹ مار کے واقعات تقریباً ختم ہوگئے‘بچیوں کے اسکول کھلنا شروع ہوگئے‘ پولیس نے تھانوں میں بیٹھنا شروع کردیا‘ طالبان اور فوج کے مورچے ختم ہونا شروع ہوگئے اور کاروبارِ زندگی کی معمول کی طرف واپسی شروع ہوگئی۔ یقیناً وہاں موجودہ صورتحال مکمل طور پر نارمل نہیں ہوگی مگر کیا جو کچھ اب تک حاصل ہوا ہے وہ اطمینان بخش نہیں۔ آیا حکومت کے پاس یہ موقع نہیں کہ وہ امن معاہدہ کی روح کے مطابق اپنی رٹ کو ایک ایسے علاقہ میں آہستہ آہستہ مکمل طور پر قائم کرے جہاں 26جنوری سے پہلے حکومت نام کی کوئی چیز ہی نہ تھی۔ ایک مشکوک ویڈیو کی وجہ سے کیا یہ سب کچھ reverse کردینا چاہیے۔ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اگر اس ویڈیو کو صحیح مان بھی لیا جائے تو سوات امن معاہدہ کو قائم رہنا چاہیے تاکہ علاقہ میں دیرپا امن قائم ہوسکے اور حکومت اپنا کنٹرول مستحکم کرسکے۔ آخر میں شریعت کے نام سے چڑنے والے لبرل فاشسٹوں اور مغرب زدہ confuseds سے ایک گزارش ہے کہ امریکا کی ایماء پر لگائی جانے والی آگ کو مزید نہ بھڑکائیں۔میری دعا ہے کہ اللہ تعالٰی اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ہمیشہ قائم رکھے اور اسے اپنے قیام کے مقاصد کی طرف بڑھائے۔آمین۔

اپنا تبصرہ بھیجیں