پلاٹوں کی سیاست

ansar-abbasi
گزشتہ ہفتہ وزیر اعلٰی پنجاب کو میری جانب سے لکھے جانے والے خط کا اردو ترجمہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد ایک ایسی بحث کا آغاز کرنا ہے، جس کے ذریعے اس بات کا جائزہ لینا ہے کہ آیا یہاں ملکی وسائل کی تقسیم غیر منصفانہ نہیں اور کیا حکومت کی طرف سے دیے گئے پلاٹوں پرمعاشرہ کے صرف با اثر طبقات کا حق ہے۔ میرے اس عمل کا مقصد کسی فرد یاطبقہ کوتنقید کا نشانہ بنانا یا اپنی ذات کی تشہیر کرنا نہیں۔ یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ریاست کے وہ وسائل یا خزانے جو اللہ تعالٰی کا عطیہ ہیں اور جن پر پاکستان کے 16 کڑور عوام کا حق ہے، انہیں کسی صوابدید، قانون یا ضابطہ کے تحت ایسے طبقوں کی نظر نہیں کیا جا سکتا، جو معاشرہ میں کسی طرح کی طاقت رکھتے ہیں۔ اسی جذبے کے تحت میں نے یہ معروضات وزیر اعلٰی پنجاب کی خدمت میں پیش کیں اور اس کالم کی نظر کر رہا ہوں۔
جناب وزیر اعلٰی
حکومتِ پنجاب
امید کرتا ہوں کہ میری یہ تحریر آپ کو ایسے عالم میں ملے گی کہ بھرپور صحت مند اور خوش وخرم ہوں گے۔سب سے پہلے تو مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو آپ کی حکومت کی بحالی پر مبارکباد پیش کروں جو کہ سپریم کورٹ کی مداخلت سے بحال ہوئی۔ میں آپ کی حکومت سے یہی توقع کر تا ہوں کہ وہ انصاف، شفافیت، میرٹ ، قانون کی بالادستی اور اداروں کی تعمیر سے لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کیلئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریگی۔
میری اس تحریر کا مقصد ایک ایسے ذاتی معاملے پر بات کرنا ہے جسکی نہ صرف ایک اجتماعی جہت ہے بلکہ اسکا تعلق اس مفادِ عامہ سے بھی ہے، جس کے ہرقیمت پر تحفظ کا آپ نے حلف اٹھا رکھا ہے۔تاہم مجھ سمیت چند افراد کے فائدے کیلئے زیر نظر کیس میں ایسا لگتا ہے، جیسے آپ نے عظیم تر عوامی مفاد کو نظر انداز کیاہو۔
جنابِ عالی: میں راولپنڈی کی لوئی بھیر کی صحافیوں کی کالونی میں رہائشی پلاٹ حاصل کرنے والوں میں سے ایک ہوں۔پنجاب کے چند دیگر شہروں کی طرح یہ کالونی بھی میڈیا سے وابستہ لوگوں کیلئے بنائی گئی تھی اور پنجاب جرنلسٹ فاؤنڈیشن کے ایک حصے کے طور پر یہاں ترقیاتی کام جاری ہیں۔اگرچہ پلاٹ حاصل کرنے والا سوسائٹی کا ہرشخص اپنے پلاٹ کیلئے چند لاکھ کی ادائیگی کرنے کا مکلّف ہوگالیکن مجھے پتہ چلا ہے کہ حکومت پنجاب نے اس مقصدکیلئے تین ارب روپے کی ریاستی اراضی مفت دی ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ صوبائی حکومت نے ترقیاتی کاموں کیلئے ایک ارب روپے سے زائد رقم بھی دی ہے۔
امرِ واقعہ یہ ہے کہ نہ صرف راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے ہر صحافی کو اس سوسائٹی میں پلاٹ دیا گیا ہے بلکہ متعدد دیگر سرکاری عہدیداروں اور ” جعلی“ صحافیوں کو بھی یہ دعوت اڑانے کا موقع دیا گیا ہے۔
اسلام آباد کے ایک صحافی کی حیثیت سے ، مجھے وفاقی دارالحکومت میں ایک پلاٹ حاصل کرنے کا استحقاق ہے۔ سینکڑوں صحافی پہلے ہی اس اسکیم سے فائدہ اٹھا چکے ہیں، جبکہ حالیہ ہفتوں اور مہینوں میں بھی متعدد صحافیوں کو پلاٹ الاٹ کئے گئے ہیں۔
سرِدست معاملہ یہ ہے کہ مجھے ایک پلاٹ کی پیشکش کی گئی لیکن میں اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق کا شکرگزار ہوں، جس نے مجھے یہ پیشکش مسترد کرنے کا حوصلہ دیا اور جس نے مجھے یہ احساس دیا کہ یہ سب کچھ غلط اور ریاستی وسائل کی نا انصافی پر مبنی تقسیم یا کم سے کم بھی کہیں تو ادارہ جاتی بدعنوانی ہے۔مجھے یہ یقین دہانی کرانے کی اجازت دیجئے کہ اگر آپ کسی خودمختار ادارے سے صحافیوں کو پلاٹوں کی الاٹمنٹس کے معاملے کی تحقیقات کرائیں توآپ کو پتہ چلے گا کہ کیسے حکومتیں سرکاری اراضی میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو بطور رشوت دیتی رہی ہیں۔ میں ذاتی طور پر ایسے متعدد صحافیوں کو جانتاہوں جو پلاٹوں کے حصول کیلئے اپنے سیاسی آقاؤں کے جوتے چاٹتے رہے ہیں ، اس کے باوجود اپنے آزاد ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور اپنے کالموں میں اصولوں کی باتیں بھی کرتے ہیں۔مزید برآں میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ حکومتیں کیوں اربوں روپے کے تجارتی پلاٹ بلا قیمت ایسے میڈیا مالکان کو دیتی ہیں، جن میں سے زیادہ تر انتہائی امیر ہیں۔ عزیزی وزیر اعلیٰ ، میں یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہوں کہ بھلاکیوں فوجی افسروں، سول افسروں ، ججوں ، صحافیوں اور( مخصوص کیسوں میں)پارلیمنٹرینزپر مشتمل چنیدہ طبقات کو ہی ریاستی اراضی کوڑیوں کے مول دی جاتی ہے۔ ان طبقات میں سے ہر ایک طبقہ بااثر بھی ہے اور اچھی طرح مربو ط بھی ہے، اسکا مطلب یہ ہواکہ پالیسی سازوں اور پاکستان کے اندر موجود حکومتوں نے اپنی توجہ غریبوں اور محتاجوں کے بجائے محض چند مخصوص بااثر طبقات پر مرکوز کر رکھی ہے جبکہ مستحقین (غریبوں اور محتاجوں) کیلئے محض زبانی جمع خرچ کیاجاتا ہے۔
اسلام آباد میں پہلے ہی وفاقی سیکرٹری یا گریڈ 22 کا ہر افسر دو رہائشی پلاٹوں اور ایک مکان کے حصول کا ”اہل “ ہے جبکہ بہت سے تو ایسے ہیں، جنہوں نے اس سے بھی کہیں زیادہ پلاٹ حاصل کئے ۔سپریم کورٹ کا ہر جج بھی دوپلاٹ حاصل کرنے کا مجاز ہے جبکہ صحافی ایک پلاٹ حاصل کر سکتا ہے۔ماضی میں ارکانِ پارلیمنٹ کو وفاقی دارالحکومت میں رہائشی پلاٹ الاٹ کئے گئے اور اب ہم نے سنا ہے کہ اسلام آباد میں ارکان پارلیمنٹ کیلئے ایک اور رہائشی کالونی کا منصوبہ شروع کیاجارہا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں جی ایچ کیو کو جو ریاستی اراضی منتقل کی جاتی رہی ہے، اس سے بڑا فائدہ اٹھانے والے جنرل ہی ہیں۔
پلاٹوں کی سیاست کا رحجان ظاہر کرتا ہے کہ جو جتنا بارسوخ اور طاقت ورہے، اتنا ہی زیادہ اسے ملتا ہے۔ آپ کا تعلق خواہ فوجی بیوروکریسی سے ہو، سویلین بیوروکریسی سے یا عدلیہ سے، جوں جوں آپ سینئر اور بااثر ہوتے جاتے ہیں، آپ کو زیادہ سے زیادہ مراعات ملتی چلی جاتی ہیں جبکہ جو جتنا جونیئر ہوتا ہے، اسے کم سے کم رعایات ملتی ہیں،زیادہ ترکو تو کچھ بھی نہیں ملتا۔
میں نے پلاٹوں کی اس سیاست پر اپنے اخبار میں بہت کچھ لکھا ہے، جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ سرکاری پالیسی سازوں نے ہمیشہ اس ملک میں اپنی توجہ معاشرے کے بااثراور طاقت ور طبقات کی فلاح و بہبود پر مرکوز رکھی ہے۔ہم صحافیوں سے سے توقع کی جاتی ہے کہ ہم عظیم تر عوامی مفاد اور سرکاری رقوم کے تحفظ کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کے نقائص کی نشاندہی کریں۔ لیکن مجھے تعجب ہے کہ اگر ہم نے بھی اپنے آپ کو پلاٹوں کی گندی سیاست میں ملوث کر لیا توعظیم تر مفادِ عامہ اور ان کروڑوں بے گھر، بیروزگار ، غریبوں اور محتاجوں کے مفادات کا تحفظ کون کریگا جو ان لوگوں سے کہیں زیادہ اس مہربانی کے مستحق ہیں، جن پر ٹیکس دہندگان کی رقم پر مشتمل خزانوں کے دہانے کھول دیے جاتے ہیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ آپ مجھ سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں لیکن راولپنڈی کی جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی میں پلاٹ حاصل کرنے کے معاملے پر آپ کے سامنے اپنی دیانت دارانہ رائے پیش کروں تو میں اسے اپنے ضمیر پر بوجھ تصوّر کرتا ہوں، چنانچہ میں فاؤنڈیشن کو اپنا پلاٹ واپس کرتاہوں اور آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ حکام سے کہیں کہ وہ مجھے میری جمع کرائی گئی رقم واپس کردیں۔ میں اس کا اختتام اپنی اس خواہش کے ساتھ کرتاہوں کہ کاش پلاٹوں کی سیاست معاشرے کے امیر اور طاقت ور طبقات کے بجائے غریب اور محتاج کے فائدے کیلئے تبدیل ہوجائے۔اگر میں ”کھیلن کو چاند نہیں مانگ رہا“ اور اگر آپ کوڑیوں کے دام کی گئی تمام الاٹمنٹس منسوخ کرنے کا حکم صادر کرنے کی جرأت کریں تو یہ بہت بڑی بات ہوگی۔
میں اس خط کی ایک نقل اس امید کے ساتھ وفاقی وزیر اطلاعات قمرالزماں کائرہ کو ارسال کر رہاہوں کہ وفاقی حکومت بھی ریاستی وسائل کی اس ادارہ جاتی بدعنوانی اور لوٹ مار کی روک تھام کیلئے کچھ کرے،بالخصوص کائرہ صاحب کی اپنی وزارت جو کہ وفاقی ہاؤسنگ فاؤنڈیشن میں ”خواب ناک“ پلاٹوں کی چند مخصوص صحافیوں کو الاٹمنٹ کیلئے لا تعداد سفارشات کئے جارہی ہے۔
دعاوٴں کے ساتھ
انصار عباسی

اپنا تبصرہ بھیجیں