پلاٹوں کی سیاست، شہبازشریف کا جواب

ansar-abbasi
دو ہفتہ قبل میں نے وزیراعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو معاشرے کے چند بااثر طبقات کو پلاٹوں کی بندر بانٹ کے حوالے سے ایک خط لکھا جس کا حوصلہ افزا جواب موصول ہوا۔ خط کا متن زیرِ نظر ہے۔
محترم انصار عباسی صاحب
السلام علیکم!
امید ہے آپ بخیریت ہوں گے۔ پنجاب حکومت کی بحالی پر مبارک باد کا شکریہ۔ آپ نے انصاف‘ شفافیت‘ میرٹ‘ قانون کی بالادستی اور اداروں کی تعمیر کے حوالے سے ہماری حکومت سے جن توقعات کا اظہار کیا ہے‘ میں ان پر بھی آپ کا شکرگزار ہوں اور خدائے بزرگ و برتر سے دعاگو ہوں کہ وہ ہمیں ان توقعات پر پورا اترنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ جرنلسٹس ہاؤسنگ سوسائٹی میں الاٹ شدہ پلاٹ کی واپسی اگرچہ آپ کا ذاتی فیصلہ ہے تاہم میں اس فیصلے کے پیچھے کارفرما جذبے کی قدر کرتاہوں۔
آپ کی تحریر میں بیان کا حسن بھی ہے اور دلیل کا وزن بھی۔ یہ حقیقت ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہماری باسٹھ سالہ تاریخ اشرافیہ کے ایک محدود طبقے کے ہاتھوں قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ کا ایک ایسا منظر نامہ پیش کرتی ہے جس کے تصور ہی سے روح کانپ اٹھتی ہے۔ وسائل کی یہی وہ ظالمانہ تقسیم ہے جس کے نتیجے میں رزق حلال پر انحصار کرنے والے پاکستان کے کروڑوں بے وسیلہ عوام پر زندگی تنگ ہوکر رہ گئی ہے اور انہیں حالات کی بند گلی سے نکلنے کا کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ میں یہ بات ایک سے زیادہ مرتبہ کھلے بندوں کہہ چکا ہوں کہ اگر ہمارے معاشرے میں موجود معاشی ناہمواریوں کی یہ ظالمانہ صورتحال اسی طرح قائم رہی تو کوئی بعید نہیں کہ اس نظام کے خلاف عوام کے سینوں میں پلنے والی نفرت کا لاوا پھٹ پڑے اور اپنی رو میں سب کچھ خس وخاشاک کی مانند بہاکر لے جائے۔ ہم اس حقیقت سے آنکھیں نہیں چراسکتے کہ ہمارے قومی وسائل بالائی طبقات کی خواہشات کے تابع ہوکررہ گئے ہیں اور یہ طبقات ان وسائل میں ایک بے وسیلہ پاکستانی کو شریک کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس صورتحال کا سبب کیا ہے اور اس سے کیسے باہر نکلا جاسکتا ہے؟ یہ وہ چبھتے ہوئے سوال ہیں جن کا جواب ہم سب کو اپنی اپنی بساط کے مطابق تلاش کرنا چاہے اور اسی میں ہمارے بہتر مستقبل کا راز مضمر ہے۔
جہاں تک میری ذات اور پاکستان مسلم لیگ کا تعلق ہے‘ معاشرے کے اجتماعی وسائل کو مخصوص طبقات کی دستبرد سے بچانے کے لئے میرٹ‘ ٹرانسپئرنسی اور قانون کی حکمرانی ہمشہ ہمارا مطمع نظر رہی ہے۔ اگر اسے خود ستائی نہ سمجھا جائے تو مسلم لیگ کے سابقہ اور موجودہ دورحکومت کے دوران ہماری فردعمل میں اس دعوے کے ثبوت میں کئی روشن گواہیاں موجود ہیں۔ ہمیں مسلم لیگ کے قائد میاں محمد نواز شریف کی رہنمائی میں 1998ء میں پنجاب اسمبلی میں وہ تاریخ ساز قانون سازی کا اعزاز حاصل ہے جس کے تحت صوبے میں سرکاری اراضی کی صوابدیدی الاٹمنٹ کے تمام اختیارات ختم کردیئے گئے۔ اسی طرح پنجاب بھر میں قبضہ گروپوں سے قیمتی سرکاری زمینوں کی واپسی‘ غریب عوام کو سستی روٹی کی فراہمی کے لئے سرکاری خزانے سے تقریباً 22کروڑ روپے ماہانہ کی فراہمی‘ سرکاری ہسپتالوں میں غریب عوام کے لئے مفت ادویات اور ہونہار اور مستحق طلبہ و طالبات کی وظائف کے ذریعے کفالت‘ یہ اور ان جیسے کئی دوسرے اقدامات معاشرے کے غریب اور پسے ہوئے طبقات کو زندگی کی دوڑ میں شامل کرنے کے لئے ہماری ترجیحات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ حکومت پنجاب نے فوڈ سٹمپ پروگرام کے تحت غریب ترین افراد کی امداد کے لئے اربوں روپے مختص کئے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت صوبے کے 18لاکھ خاندانوں کو ایک ہزار روپے ماہانہ کی امداد فراہم کی جارہی ہے۔ اسی طرح حکومت پنجاب نے ہونہار طلبہ کی پیشہ ورانہ اور دوسری تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے 2ارب روپے کی رقم سے ایک تعلیمی فنڈ قائم کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے دوران اس فنڈ میں 4ارب روپے کی رقم رکھی جا رہی ہے۔ ہم نے ہر برس اس فنڈ میں خاطر خواہ اضافے کا فیصلہ کیا ہے اور انشاء الله آئندہ پانچ برسوں میں فنڈ کی رقم 10ارب روپے ہوجائے گی۔ مجھے یقین ہے کہ ہمارے اس اقدام سے صوبے کا کوئی ہونہار اور مستحق بچہ محض وسائل کی کمی کی وجہ سے مزید تعلیم حاصل کرنے اور ڈاکٹر یا انجینئر بننے سے محروم نہیں رہے گا۔
جہاں تک صحافیوں کے لئے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا تعلق ہے‘ میں پچھلی حکومت کے تحت قائم ہونے والی جرنلسٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کے حسن و قبح میں پڑے بغیر یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ میری ذاتی رائے میں ایک فلاحی معاشرے میں تمام کم وسیلہ طبقات کو زندگی کی بنیادی سہولتوں کی فراہمی‘ جن میں رہائشی سہولتیں بھی شامل ہیں‘ حکومت وقت کی ذمہ داری ہونی چاہئے۔ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک منتخب اور محدود تعداد سے قطع نظر اہل صحافت کا بڑا حصہ انہی معاشی مشکلات اور مسائل کا شکار ہے جن کا سامنا آج ہمارے معاشرے کے دوسرے کم وسیلہ طبقات کے افراد کو کرنا پڑرہا ہے جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں میں جرنلسٹس کالونی میں الاٹ شدہ پلاٹ کی واپسی کے حوالے سے آپ کے جذبات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ تاہم آپ اس امر سے اتفاق کریں گے کہ وقت آگیا ہے کہ معاشرے کے تمام محروم وسائل طبقات‘ جن میں بے وسیلہ اور کم آمدن والے اہل صحافت بھی شامل ہیں‘ کو رہائش سمیت زندگی کی تمام سہولتیں فراہم کرنے کے لئے کوئی موثر اور نتیجہ خیز لائحہ عمل تلاش کیا جائے۔ میں امید رکھتا ہوں کہ مجھے اس کارخیر میں آپ کے مشورے اور عملی رہنمائی حاصل رہے گی۔والسلام
خیر اندیش
(محمد شہباز شریف)
جناب شہباز شریف کو شکریہ کے ساتھ دعا گو ہوں کہ اللہ اس ملک کے حکمرانوں کو اپنے وعدوں کے مطابق غریب اور مستحق طبقات کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔افسوس کا مقام ہے کہ آج تک اس ملک کے وسائل ایک مخصوس بااثرطبقے کو ہی میسر رہے ۔ کون نہیں جانتا ہے کہ جرنیلوں کو تو سب کچھ ملتا ہے لیکن سپاہی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اپنا گھر بنانے کا خواب پورا نہیں کر سکتا۔ یہی حال سول سروس کے چھوٹے طبقے کے ملازمین کا ہے۔ عام غریب ، مزدور ، کسان اور بے گھر کا تو کوئی پرسانِ حال ہی نہیں۔ یہ بات درست ہے کہ صحافیوں کی ایک بڑی تعداد کم آمدن طبقے سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کیا یہ درست نہیں کہ ان پر مہربانی کی وجہ اخبار نویسوں کا خود بااثر ہونا ہے ۔ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے اخبار نویسوں کی طرح بے اثر اور بے آواز محروم طبقوں کا بھی اسی طرح خیال رکھے ۔اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ محروم طبقوں کی اوڑ میں کسی کو یہ موقع نہ ملے کہ وہ ایک سے زیادہ پلاٹ لے لے اور کوئی دوسرا حقدار اپنے حق سے محروم ہو جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں