کیا زرداری احتجاجاً دورہٴ امریکا منسوخ کر سکتے ہیں؟

ansar-abbasi
ہمیں،اپنی حکومت سے ہزار گلہ سہی مگر امریکا کی طرف سے اِس پر کی جانے والی حالیہ تنقید ناقابل برداشت اور ہر پاکستانی کے لیے باعثِ توہین ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے صدر آصف علی زرداری امریکا کا دورہ کرنے والے ہیں امریکی اعلیٰ حکام کی طرف سے ایسے لغویات کا آنا انکل سام کی اُس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت وہ پاکستان کو ایک آزاد اور خودمختار ملک کی بجائے اپنا غلام سمجھتا ہے۔ امریکی صدر بارک حسین اوباما نے گزشتہ جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کو سب سے زیادہ تشویش زرداری حکومت کی کم زوری پر ہے جو کہ لوگوں کو بنیادی سہولتیں دینے میں ناکام ہو گئی ہے اور اِس طرح عوام کی وفاداری حاصل نہیں کر پا رہی۔ اوباما کا فرمان تھا کہ پاکستان کی سویلین حکومت کم زور ہے جو عوام کو تعلیم صحت اور انصاف جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے سے قاصر ہے۔ پاکستان آرمی پر اپنا اعتماد ظاہر کرتے ہوئے اوباما نے کہا پاک فوج کو احساس ہے کہ اُس کا اصل دشمن انڈیا نہیں بلکہ اندرون ملک پائے جانے والے انتہا پسند ہیں۔ جمعرات کے ہی دن امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے کہا کہ آئندہ دو ہفتے یہ دیکھنے کے لیے انتہائی اہم ہیں کہ آیا پاکستان کی حکومت بچ پائے گی یا نہیں…!! اِن بیانات کو پڑھ کر دِل جل اُٹھا اور ایک خواہش اُبھری کہ کاش صدر آصف علی زرداری اپنا آئندہ امریکا کا سرکاری دورہ احتجاجاً منسوخ کر دیں، شاید اِس سے ہم پاکستانیوں کی کھوئی ہوئی عزّت نفس بحال ہو سکے۔ اِس کالم کے لکھے جانے تک تو ایسا نہیں ہوا اور شاید اِس کی کوئی زیادہ اُمید بھی نہیں۔ صدر زرداری کی طرف سے ابھی تک کوئی احتجاجی بیان بھی سامنے نہیں آیا اگرچہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بجاطور پر کہا کہ امریکا کی طرف سے مشرّف کی 9سالہ آمریت کی حمایت کی وجہ سے اُن کی سول حکومت کم زور ہوئی۔ مختلف جماعتوں کے رہنماؤں اور سیاسی قائدین نے بھی امریکا کے اِن بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا جو یقیناً ایک خراجِ تحسین امر ہے۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے بھی کہاکہ صدر اوباما کا بیان افسوسناک ہی نہیں بلکہ ہماری آزادی اور خودمختاری کے لیے بھی تشویشناک ہے۔ اِن حالات میں اگر صدر آصف علی زرداری اپنا دورہ منسوخ نہیں کر سکتے تو کم از کم یہ موزوں ہو گا کہ واشنگٹن میں اوباما انتظامیہ سے اِس مسئلہ پر سخت احتجاج کریں اور امریکی میڈیا کے سامنے بھی اِن بیانات پر اپنا سخت ردّعمل ظاہر کریں۔ ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو ایک بات سمجھ لینی چاہئے کہ ہمیں اپنے قول و فعل سے یہ ثابت کرنا ہے کہ ہم ایک خوددار قوم ہیں ورنہ تذلیل ہمارامقدّر ہو گی۔ یقیناً آج کی ہماری بے توقیری کی وجہ جنرل پرویز مشرف کی آمریت کا 9سالہ دور تھا، جس میں پاکستان کو امریکا کی ایک کالونی بنا دیا گیا ہماری عزّت نفس کی دھجیاں اُڑا دی گئیں پاکستان کی خودمختاری کو داؤ پر لگا دیا گیا امریکا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہم اِس حد تک گر گئے کہ ڈالروں کے عوض ہم نے اپنے شہریوں کو امریکا کے حوالے کیا اور یہاں تک کہ اپنے ملک کی ایک بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی عالمی دہشت گرد کے سپرد کر دیا۔ مشرف دور کی امریکا کی غلامی ہی کی وجہ سے آج پاکستان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ ہم اپنے مستقبل کے بارے میں پریشان ہیں۔ دہشت گردی انتہا پسندی اور طالبانائزیشن مشرف کے ذریعے امریکا کی طرف سے پاکستان کو دیئے گئے تحفے ہیں۔ آج ڈالروں کا لالچ دے کر امریکا ہمیں مجبورکر رہا ہے کہ ہم امریکا کی نام نہاد دہشت گردی کے خلاف جنگ کو پاکستان کی اپنی جنگ قرار دیں تاکہ اِس ملک میں ہر طرف خانہ جنگی کو پھیلایا جا سکے اور ایک ایسا جواز پیدا کیا جا سکے کہ عالمی قوّتیں اقوام متحدہ کے ذریعے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کر سکیں۔ اِن اندیشوں کا اظہار نہ صرف ہمارے کئی سیاستدان سابقہ جرنیل اور دانش ور کر چکے ہیں بلکہ حال ہی میں ایک وفاقی وزیر اعظم خان سواتی ببانگِ دہل کہہ چکے ہیں کہ امریکا، پاکستان کو غیرمستحکم کرکے اِس کے جوہری ہتھیاروں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ کاش اِس موقع پر ہی ہمارے حکمرانوں کی آنکھیں کُھل جائیں تاکہ ہم اپنے دوست اور دُشمن کے درمیان تفریق کر سکیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہماری حالت شاید افغانستان اور عراق سے مختلف نہ ہوگی۔
جمہوریت اور انسانی حقوق کے چمپین امریکا نے ہمیشہ پاکستان میں فوجی آمروں کی پشت پناہی کی اور ان کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ جمہوری اور عوامی حکومتوں کو امریکا کی طرف سے کبھی ایسا تعاون میسر نہ ہوا بلکہ کچھ جمہوری حکومتوں کے اُلٹنے میں امریکا کا اہم کردار رہا۔ ایسی حکومتوں میں ذوالفقار علی بھٹو حکومت کی مثال سرِفہرست ہے۔ آج پھر امریکا پاکستان کی جمہوری حکومت کی نفی کرتے ہوئے، پاکستان کی فوج کی تعریف کر رہاہے جو یقیناً ایک سازش ہو سکتی ہے، جس کے ذریعے ہماری حکومت کو مجبور کیا جائے کہ وہ رائے عامہ کے برعکس امریکا کی اُسی طرح خدمت کرتی رہے، جس کا مظاہرہ جنرل مشرف نے اپنے 9سالہ دور میں کیا۔ مجھے قوی اُمید ہے کہ ہماری عسکری قیادت بھی امریکا کی اِس سازش سے بہ خوبی واقف ہو گی اور ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھائے گی، جس سے پاکستان کو کم زور کرنے کی عالمی سازش کو تقویت ملے۔ آج ہم سب کو مل کر پاکستان کو اندرونی اور بیرونی مشکلات سے نکالنا ہے، جس کے لیے آئین و قانون کی بالادستی میرٹ جلد اور سستے انصاف کی فراہمی اور ہر پاکستانی کے حق کا تحفظ ضروری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستانی فوج، اوباما کے اِس بیان کہ پاک فوج کی قیادت کو احساس ہے کہ اُس کا اصل دشمن انڈیا نہیں بلکہ اندرون ملک پائے جانے والے عسکریت پسند ہیں، کو ضرور رَد کرے گی۔ ہماری فوج اور خفیہ اداروں سے زیادہ کون جانتا ہے کہ سوات بلوچستان اور فاٹا میں دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے پیچھے کون کون ہے ..؟

اپنا تبصرہ بھیجیں