قانون کی حکمرانی کو لاحق خطرات اور ہماری ذمہ داری

ansar-abbasi
اعلیٰ عدلیہ کو اپنے فیصلوں پر عملدرآمدکے لیے اب اُس نرم رویے کو ترک کر دینا چاہیے جس کا مظاہرہ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ سال سے کیا جا رہا ہے۔نرمی ایسی بھی نہیں ہونی چاہیے کہ عدالت عظمیٰ تک کے احکامات اور فیصلوں کا کھلے عام مذاق اُڑایا جانے لگے اور خلاف ورزی کرنے والے بلا کسی خوف اور شرم کے ڈھٹائی کے ساتھ الٹا عدلیہ کو کوسنا شروع کر دیں۔ این آر او کے فیصلے کے بعد ہم نے پاکستان پیپلز پارٹی کے بعض اراکین کو عدلیہ کے خلاف بپھرتے ہوے دیکھا ۔ کچھ جیالوں نے تو غیر مہذب انداز میں عدالتوں اور معزز جج حضرات کے خلاف اُول فول بکنا شروع کر دیا۔ ٹی وی ٹاک شوز میں بھی عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے والوں کو خوب مواقعے فراہم کیے گئے۔ بعد ازاں صدر زرداری کے من پسند نیب چیئرمین دیدار شاہ اورکچھ دوسرے حکومتی امور پر عدالتی فیصلے پی پی پی کی اعلیٰ قیادت کو ناگوار گزرے جس کے نتیجے میں اعلیٰ عدلیہ کے خلاف باقاعدہ احتجاج کیا گیا اور ایسی زبان استعمال کی گئی جو کسی بھی مہذب معاشرہ میں کسی صورت قابل قبول نہیں ہو سکتی تھی۔ کچھ ایسے واقعات پر عدالت عظمیٰ کی طرف سے توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی مگر حکومت کی طرف سے عدالتی فیصلوں کا مذاق اُڑانے والوں کی سرزنش کرنے کی بجائے نوازا گیا اور انعام کے طور پر وزارت تک دے دی گئی، اگرچہ چند ایک افراد کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی تو شروع کر دی گئی مگر سپریم کورٹ نے عمومی طور پر درگزر کی پالیسی برقرار رکھی ۔ عدلیہ کی طرف سے اس نرمی کو کمزوری کے طور پر لیا گیا اور حالات اس نہج تک پہنچ گئے کہ حکومتی اتحاد میں حال ہی میں شامل ہونے والی نئی جماعت پاکستان مسلم لیگ ق نے بھی اعلیٰ عدلیہ کے خلاف باقاعدہ مہم چلادی۔این آئی سی ایل کیس میں مونس الٰہی کو عوام کے سامنے معصوم ثابت کرنے اور عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے پرائیویٹ ٹی وی چینلز کے ذریعے عدلیہ کے خلاف بھرپور انداز میں اشتہاربازی کی گئی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ میڈیا نے بھی بلا سوچے سمجھے ایسے اشتہاروں کو چلا دیا جو نہ صرف سریحاًجھوٹ پر مبنی تھے بلکہ کھلے عام توہین عدالت کے زمرے میں آتے تھے۔ مجھے ذاتی طور پر افسوس ہوا کہ عدلیہ کے خلاف اس مہم جوئی کو آزاد عدلیہ کی جنگ کے علمبردار جیو نیوزچینل میں بھی جگہ دی گئی البتہ اس بات پر خوشی محسوس ہوئی کہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے اس معاملہ پر نوٹس لینے پر جیو کی انتظامیہ نے فوری معذرت کی اور اپنی غلطی کو تسلیم کیا، اگرچہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور میڈیا کو بھی اس بات کا احساس دلانے کی کوشش کی پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتامگر ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی شروع نہ کی گئی۔ میرے خیال میں اس اشتہار بازی پر تمام متعلقہ افراد کو عدالت میں طلب کر کے اُن کی سخت پوچھ گچھ کی جانی چاہیے تھی۔ کسی بھی ریاست میں قانون کی حکمرانی اور ریاستی امور کی بہتر طور پر سرانجامی کے لیے عدلیہ کا عزت و احترام اور اس کے فیصلوں پر من و عن عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ جب عدالتوں کا مذاق اڑایا جائے اور عدالتی فیصلوں کو تسلیم کرنے سے انکار کیا جائے اور ایسا کرنے والوں میں حکومت اور حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں پیش پیش ہوں تو ایسے رجحانات پورے ریاستی نظام کے لیے خطرے کا باعث ہوتے ہیں۔ عدالتی فیصلوں پر عملدر آمد کی اصل ذمہ داری حکومت اور حکومتی اداروں کی ہوتی ہے مگر جب عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد کرنے کی بجائے حکومت خوداُن کی کھلے عام خلاف ورزی کرے اور عدالتوں کی توہین کرنے پر اتر آئے تو اس پر دوسروں کو بھی شہ ملتی ہے اور عام لوگ بھی عدالتی فیصلوں کی خلاف ورزی پر اتر آتے ہیں۔ ایسے رجحانات پورے ریاستی نظام کی تباہی کا سبب اور افراتفری کا باعث بن سکتے ہیں۔ ان سنگین نتائج سے بچنے کے لیے عدلیہ، حکومت، سیاسی جماعتوں، میڈیا اور سول سوسائٹی سب پر یہ بنیادی ذ مہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ عدالتی فیصلوں کا احترام کریں اور عدلیہ کا مذاق اڑانے والوں کو کوئی رعایت نہ دیں۔ اس کا شعور عوام میں بیدار کرنے لیے سب سے اہم ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے جس کے لیے یہ کسی طور بھی مناسب نہیں کہ وہ سنگین کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والے ملزموں کے حق میں اشتہارات چلائیں، انہیں ہیرو بنا کر پیش کریں اور محض پیسہ کی خاطر ریاستی اداروں کو کمزور کرنے کی کسی بھی سازش کا کسی بھی طور پر حصہ بنیں۔
گزشتہ ہفتہ پاکستان مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور ایم این اے انجم عقیل نے بھی قانون کی حکمرانی کا کھلے عام مذاق اُڑایا اور پوری دنیا کو اپنے عملی مظاہرہ سے دکھایا کہ پاکستان میں جنگل کا قانون ہے جہاں طاقت اور زور کے سامنے کسی کی نہیں چلتی جس انداز میں اسلام آباد کے ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کیا گیا ، پولیس اہلکاروں کو زدوکوب کر کے اُن کا یونیفارم پھاڑا گیا، سرکاری املاک اور گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور بدترین بدمعاشی کے زور پر کرپشن کیس میں مطلوب انجم عقیل کو چھڑوا کر لیجایا گیا وہ پوری قوم کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔ اسلام آباد پولیس نے اس غنڈہ گردی کے دوسرے ہی دن انجم عقیل اور کئی لیگی سپورٹروں کو گرفتار کر لیا۔ ن لیگ کے قائد نے اس واقعے پر انکوائری کا اعلان کر دیا ہے مگر رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ تھانہ پر حملہ کرنے والوں کا مسلم لیگ سے کوئی تعلق نہیں جو سراسر غلط بیانی ہے۔ اس واقعے پر نہ صرف وفاقی حکومت اور اسلام آباد پولیس کو سخت ترین کارروائی کرکے ملزموں کو قرار واقعی سزا دلوانی چاہیے بلکہ ن لیگ کو اس واقعے میں شامل تمام افراد کو پارٹی سے فوری بے دخل کر دینا چاہیے۔سیاست اور بدمعاشی و غنڈہ گردی کے درمیان ایک واضح فرق رکھنے کی ضرورت ہے۔ ظلم و نا انصافی ، زیادتی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والے کسی فرد کی کسی سیاسی پارٹی میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں