ماں

ansar-abbasi
گزشتہ کالم” اللہ سے مانگ کر کے تو دیکھو”لکھتے وقت میں بہت خوش اور مطمئن تھا کہ میری والدہ دماغ کے ایک بڑے آپریشن کے بعدحیران کن انداز میں بہت اچھی ریکوری کے آثار دکھا رہی تھیں مگر اگلے ہی روز (گزشتہ پیر ) والدہ محترمہ کی حالت خراب ہو گئی اور اُن کو انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں شفٹ کر دیا گیا جہاں وہ اس وقت بھی موجود ہیں ۔ بیماری کی نوعیت اور کیس ہسٹری کی بجائے میں اپنے کچھ اُن احساسات اور تجربات کے بارے میں یہاں بات کرنا چاہوں گا جن کا عمومی طور پر ہم سب کی زندگیوں سے تعلق ہے۔” ماں” ویسے بھی ایک ایسا موضوع ہے جس میں ہم سب کی دلچسپی ہے ۔ اگرچہ میرا گزشتہ کالم میری ماں کی بیماری، میری دعا اور اللہ تعالٰی کے میری والدہ پر آپریشن سے پیشترایک خاص احسان کے متعلق تھا مگر قارئین کی ایک بڑی تعداد نے اپنے ردعمل میں نہ صرف میرے احساسات کو کسی نہ کسی طور اپنے اور اپنی ماوٴں کے ساتھ منسلک کیا بلکہ میری والدہ محترمہ کی صحت یابی کے لیے دعائیں بھی کیں جس کی یقیناً اُن کو اشد ضرورت ہے اور جس پر میں ایسے تمام حضرات کا ممنون ہوں اور اپنے رب سے دعا کرتاہوں کہ ان کو جزائے خیرعطا فرمائے۔ میرے اللہ کے احسان اور میڈیکل کیئر کی صورت میں موجود وسیلے کی وجہ سے تشویشناک صورتحال کے باوجودمیری ماں اس تکلیف سے بے نیاز ہیں جس کا عام حالت میں کسی ایسے مریض کو سامنا ہو سکتا ہے۔ مگر یہ صورتحال ایسے مریض کے قریبی عزیز و اقارب کے لیے انتہائی پریشان کن ہوتی ہے۔ جب مسئلہ ماں کا ہو تو اولاد کے لیے یہ ساری صورتحال انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے اور کچھ ایسے ہی حالات کا ان دنوں ہمیں سامنا ہے۔ ایسے حالات میں کیا کیا جائے، کس انداز میں اپنا ردعمل ظاہر کیا جائے اور کیسے اپنے آپ کو سنبھالا جائے، یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب مجھے ذاتی طور پر مل چکا اور بہت آسان ہے۔ والدہ کی بیماری کی سنگینی کے باعث پہلے دو دن ہم بہن بھائیوں میں سے کوئی چھپ چھپ کر رویا کوئی سامنے۔ پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی انتہائی غم زدہ اور افسردہ تھے۔ نماز اور دعاوٴں کا سلسلہ جاری رہا مگر شاید صبر کے اُس لیول کی کمی تھی جس کا ہم سے ہمارا دین ایسی صورتحال میں تقاضا کرتا ہے۔ ایسے میں مجھے ایک موبائل پیغام موصول ہوا جس نے اس ساری صورتحال کو ایک بہترین انداز میں سمجھنے کے لیے ایک سبب کا کام کیا۔ اس موبائیل پیغام کو یہاں بیان کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ قارئین اس صورتحال کو اپنے سامنے رکھیں جس کا ہمیں سامنا تھا اور جس میں ہماری عزیز ترین ماں انتہائی تشویشناک حالت میں تھیں، معالج ان کی صحت یابی کے لیے کوئی زیادہ پرامید نہ تھے اور ہم انتہائی پریشان ۔ ایسے میں مجھے ایک پیغام ملتا ہے جو کہتا ہے، ” اگر دنیا میں صرف سکون ہوتا تو لوگ اللہ کو بھول جاتے۔ سکون تو صرف اُن لوگوں کے پاس ہے جو اللہ کی رضا کواپنی رضا سمجھتے ہیں…… ہمیشہ دعا مانگتے رہو کیوں کہ ممکن اور ناممکن صرف ہماری سوچ میں ہے۔ اللہ کے لیے تو کچھ بھی ناممکن نہیں۔ بیشک وہ بہت رحم کرنے والا ہے۔” اس آزمائش کے موقع پر اس پیغام نے ہمیں ایک دم پرسکون کر دیا اوراس اصول کی بروقت یادہانی کرا دی جس کی حقیقت سے کوئی انکار نہیں ہو سکتا اور جو ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔آج ہم اپنی والدہ کی صحت یابی کے لیے دعا گو بھی ہیں اور اس بابرکت مہینے میں اللہ کی رحمتوں کے طالب بھی۔ ہم ہر ممکنہ علاج معالجہ کی کوشش میں بھی ہیں اور انشااللہ آگے بھی رہیں گے مگر دنیاوی رشتوں سے اپنی تمام تر محبت اور قربت کے باوجود ہماری اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اُسی بات پر راضی ہوں جس میں میرے رب العزت کی رضا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ میری ماں کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پرقائم رکھے۔ والدین اور خصوصاً ماں جو کچھ اپنی اولاد کے لیے کرتے ہیں اس کا بدلہ اولاد کچھ بھی کر لے دے ہی نہیں سکتی۔ مجھے ہمیشہ یہ گمان رہا کہ میں اپنی ماں سے بہت محبت کرتا ہوں مگر اس گزشتہ ہفتہ میں مجھے بار بار احساس ہوا کہ میری محبت کا اس محبت سے کوئی مقابلہ نہیں جو ایک ماں اپنی اولاد سے کرتی ہے۔ میری ماں نے تو ویسے بھی مجھے یا میرے دوسرے بہن بھائیوں کو کسی خدمت کا اب تک موقع ہی نہیں دیا۔ ایک رات میں اپنی والدہ کو انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں دیکھ کر باہر نکلا کہ اب گھر جا کر آرام کر لوں۔ وارڈ کے باہر اسپتال کے برآمدے میں نسبتاً اندھیرے والی سائڈ پر ایک خاتون فرش پر تکیہ رکھے لیٹی تھی۔ میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیا کر رہی ہیں جس پر اس خاتون کا کہنا تھا کہ ان کی 13-14 سالہ بیٹی بھی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخل ہے جس کے لیے وہ وہیں رات گزارے گی۔ دوسری طرف میں اپنی ماں کے لیے تمام تر محبت کے باوجودگھر میںآ کر آرام دہ کمرہ میں سوتا ہوں۔گھر میں سب سے چھوٹا ہونے کہ وجہ سے میں اپنے والدین کے بہت قریب رہا۔ میرے والد (اللہ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین) تقریباً تیس برس قبل اللہ کو پیارے ہو ئے مگر میں آج بھی ان کی محبت کی کمی محسوس کرتا ہوں۔ ماں کی تو بات ہی کچھ اور ہے۔ماں کی عظمت ، محبت ، دعا اور قربانی کے بارے میں تو ہم میں سے ہر کوئی جانتا ہے مگر مجھے اس گزشتہ ہفتہ میں یہ شدید احساس ہوا ہے کہ ماں کی اہمیت اُس سے کہیں زیادہ ہے جس کا ہمیں ان کی زندگی اور صحت یابی کے دوران اندازہ ہوتا ہے۔یہاں میں قارئین سے درخواست کرتا ہوں کہ میری ماں کی صحت یابی کے لیے دعا کریں اور اپنی ماوٴں کی خدمت میں کوئی کسر نہ چھوڑیں ورنہ بعد میں ماسوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں رہتا۔ اللہ ہم سب کو اپنے والدین کی خدمت کا حق ادا کرنے کی توفیق ادا فرمائے اور اس عمل کو ہمارے لیے جنت کمانے کا وسیلہ بنا دے ۔ آمین.

اپنا تبصرہ بھیجیں