عالمی مرکزقوت واقتدار-اسرائیل؟…..(آخری قسط)

Orya-Maqbool-Jan

orya-maqbool-jan-column
امریکہ، برطانیہ،روس، چین اوریورپی یونین کے طاقت ورممالک فرانس اورجرمنی کے ہوتے ہوئے اسرائیل دنیا کی قوت واقتدارکا مرکز کیسے بن سکتا ہے. 2008ء سے پہلے اگرکوئی شخص یہ سوال کرتا کہ دنیا کی یہ بڑی بڑی معیشتیں بھی ریت کے بنائے گئے گھروندوں کی طرح دھڑام سے گر سکتی ہیں تو لوگ اس کی ہنسی اڑاتے. لیکن 2008ء کے معاشی بحران نے نہ منظر دکھا دیا کہ یہ سارے کا سارا بینکنگ سسٹم جو مصنوعی کاغذ کی دولت “Artificial Credit” کے سہارے کھڑا ہے یہ دنیا کے نقشے پرچند بلبلوں کی صورت میں ہے. ہرملک کی معیشیت ایک بلبلہ ہے اورہرملک کے اندرمختلف معاشی سیکٹر بلبلے ہیں. صرف ایک پراپرٹی سیکٹر کا بلبلہ پھٹا تھا اوردنیا بھرکے بینک دیوالیہ ہونے کے قریب جا پہنچے تھے. دنیا کا معاشی دارلحکومت نیویارک، اس سودی معیشیت کا مرکزوال سٹریٹ کا بلبلہ ایک زورداردھماکے سے ایسا پھٹا کہ ان تمام بینکاروں کو امریکی حکومت سے یہ درخواست کرنا پڑی کہ اگر ہمیں عوام الناس کے سرمایہ سے آٹھ سوارب ڈالرنہ دئے گئےتوامریکی معیشیت کا وجود ختم ہوجائے گا. دبئی جہاں اس مصنوعی کاغذی دولت اورسودی معیشیت نے تازہ تازہ پنجے گاڑے تھے، دنیا کے ہرملک سے لوگ وہاں‌ پراپرٹی میں سرمایہ لگا رہے تھے، ایسا ڈوبا کہ صرف پاکستانیوں کے چھ ارب ڈالراس طوفان میں غرق ہوگئے. صرف ایک بینک کومتحدہ عرب امارات میں اپنےسات ہزار ملازمین فارغ کرنے پڑے. یہ وہ سال تھا جب پوری دنیا کے بینکاروں نے اس مصنوعی کاغذی کرنسی اورسودی نظام کو بچانے کے لیے دنیا بھرکے بینکوں میں سود لینے کا خاتمہ کردیا. صرف ایک فیصد کے قریب سروس چارجز وصول کئے جانے لگے اورآج تک یہی حالت ہے. اس لیے کہ اگر قرض پرسود وصول کیا جاتا رہے تومعیشیت مکمل طورپرتباہ ہوجائے. جاپان نے تومنفی سود کا آغاز کردیا، یعنی آپ بینک میں سرمایہ رکھو گے تووہ آپ سے حفاظت کا کرایہ لے گا. لیکن ابھی اس کاغذی کرنسی اوراس کے زوال کا وقت نہیں آیا تھا. ابھی ڈالرسے بہت سے کام لیا جانا مقصود تھے. مسلمانوں کے تیل کی تجارت اسے پیٹروڈالربناکرعالمی اقتصادی نظام کا مالک بنائے ہوئے ہے. جب تک عرب اورعجم یعنی ایران اورعرب آپس میں‌ لڑکر ایک دوسرے کو تباہ وبرباد نہ کردیں، ڈالر کا استحکام ضروری ہے. جب لیبیا، شام اورعراق کی طرح دیگرملک بھی کھنڈر بن جائیں‌ گے، مصر، تیونس، مراکش، اردن عوامی غیظ وغضب کا شکارہوجائیں گے اسرائیل کتنی آسانی سے ان چھوٹے چھوٹے ممالک کو 1967ء کی طرح ترنوالہ بنا سکے گا. وہ ممالک جو تیل کی دولت سے مالامال ہیں لیکن ان کی آبادی ن ہونے کے برابرہے. جیسے کویت، قطر، بحرین، متحدہ امارات اورمسقط وغیرہ جہاں 80 فیصد سے زیادہ بیرونی ملازمین ہیں‌ جو جنگ چھڑتے ہی سب سے پہلے اپنے اپنے ملکوں‌کوبھاگ جائیں، باقی رہ گئے 15 سے 20 فیصد پرتعیش زندگی گزارنے والے عرب، وہ اسرائیلی فوجی قوت کا کہاں مقابلہ کرسکیں گے.



لیکن اس قبضے سے پہلے عالمی معیشیت کا زوال بہت ضروری ہے. امریکہ، یورپ اوردیگرممالک میں اب کاغذی نوٹ ایک خواب بن کررہ گیا ہے. آپ کے پاس کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ ہے توآپ ہرطرح کی خریدوفروخت کرسکتے ہیں. اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آپ اگرایک ڈالر بھی خرچ کریں تووہ اس دنیا کی معیشیت کوکنٹرول کرنے والوں کی نظروں میں ہو. یہ توصرف اورصرف موجودہ سودی بینکاری نظام کی بنیاد پرکریڈٹ کارڈ یا پلاسٹک دولت تخلیق کی گئی ہے. لیکن 1998ء میں ان معاشی پنڈتوں نے جن میں اکثریت وہ یہودی اورصیہونی ہیں جو دنیا کی معیشیت کوکنٹرول کرتے ہیں، ایک الیکٹرانک دولت “B-Honey” کا تصورپیش کیا اورچند ماہ بعد نک سازبو Nick Sazbo نے ایک B-Gold یعنی الیکٹرانک سکہ ایجاد کرکے دنیا بھرمیں الیکٹرانک کرنسی کا آغاز کردیا. لیکن مارکیٹ میں یہ سکہ جسے آپ صرف کمپیوٹریا سکرین پردیکھ سکتے ہیں 2009ء میں وجود میں آیا. دیکھتے ہی دیکھتے مارکیٹ میں کئی اقسام کے الیکٹرانک سکے شروع ہوگئے. فروری 2014ء جورڈن کیلی Jordan Kelly جسے سب سے کامیاب الیکٹرانک سکے ربوکائن Robo Coin جاری کرنے کا اعزاز حاصل تھا، اس نے اس الیکٹرانک کرنسی کی ATM (اے ٹی ایم) بھی شروع کردی ہے. یوں‌ پوری دنیا کی معیشیت کے بارے میں‌خطرہ محسوس ہونے لگا کہ یہ سب زیرِ زمین چلی جائے گی. آپ نے کمپیوٹرکے ذریعے ایک چیز بیچی، 5 لاکھ الیکٹرانک سکے آپ کے کمپیوٹراکاؤنٹ میں چلے گئے. آپ نے ان سے 50 اشیاء خرید کروہی الیکٹرانک سکے لوگوں‌ کودے دئیے، نہ حکومتوں کوپتہ چلا اورنہ دیگرمعاشی طاقتوں کواس کا علم ہوا. اس وقت دنیا میں تقریباً 15 ارب مالیت کا کاروبار الیکٹرانک سکے کے ذریعے ہورہا ہے اورتقریباً تین ہزار ارب ڈالرکی مارکیٹ میں الیکٹرانک سکے کا راج ہےجس پرنہ کسی حکومت کا اختیار ہے اورنہ ہی کسی عالمی معاشی طاقت کا. سارا کنٹرول ان بینکاروں اوران ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ہے جن کے ذریعے یہ کاروباراب بڑھ رہا ہے. آپ حیران ہوں گے کہ اس وقت دنیا میں پیدا ہونے والی نناوے فیصد خوراک کو صرف دس کمپنیاں کنٹرول کرتی ہیں. یوں یہ کمپنیاں جب چاہیں اس دنیا کو قحط سالی کا شکار کرسکتی ہیں. یہ ہے وہ کیفیت جس میں اس وقت پوری دنیا ان چند افراد کی گرفت میں‌ ہے. جس دن یہ فیصلہ ہوگیا کہ عالمی معاشی ہیڈکوارٹر نیویارک وال سٹریٹ سے یروشلم منتقل ہونا ہے، وہاں‌ دفاتربند ہوجائیں گے اوریروشلم میں کمپیوٹرکھل جائی گے. سارا ریکارڈ توسیٹلائٹ پرموجود ہے. ایک کاغذ بھی منتقل کرنے کی ضرورت نہیں‌ پڑے گی اوراسرائیل اس دنیا کا طاقت ورترین ملک بن جائے گا. لیکن اس سے پہلے وہ ان عالمی طاقتوں کوایک خوفناک جنگ میں جھونکنے کی پوری کوشش کررہا ہے. وہ جنگ جو ایٹمی ہوگی اورتباہ کن ہوگی. جس میں دنیا سکڑکراسرائیل کے اردگرد رہ جائے گی. یہ جنگ وہ ہے جس کوبرپا کرنے کے لیے دنیا کا ہریہودی بے تاب ہے کیونکہ اس کے بعد ان کی عالمی حکومت نے قائم ہونا ہے. اس کے لیے وہ دنیا بھر سے اپنا کاروبار پرتعیش رہاش گاہیں اورپرسکون ماحول چھوڑ کراسرائیل جیسے بے آب و گیاہ علاقے میں 1920ء سے آباد ہونا شروع ہو گئےہیں.
ان عالمی حالات کو سیدالانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے تناظرمیں دیکھیں تو یوں لگتا ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دورفتن کا نقشہ ہماری رہنمائی کے لیے کھول کربیان کردیا. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا “بیت المقدس اس وقت پھل پھول رہا ہوگا جب مدینہ تباہ حال ہوگا. مدینہ کی تباہی جنگ عظیم کے نتیجے میں عمل میں آئےگی. (سنن ابی داؤد). یہودیوں کا ارض مقدس سے نکالنے اورپھرواپس آنے کا واضح اعلان اللہ نے قرآن میں فرمایا “اورہم نے انہیں ٹکرے ٹکرے کر کے مختلف قوموں کا حصہ بنا کر پوری دنیا میں پھیلا دیا. (الاعراف: 168) یہ واقوہ 70ء‌ میں ہو جب رومن افواج نے یروشلم تباہ کیا. اس کے بعد قرآن نے ان کے واپس یروشلم آنے کے بارے میں بتایا “پھرجب آخرت کا وعدہ قریب آجائے گا توہم دنیا کی قوموں سے تمہیں نکال کریہاں لے آئیں گے. (بنی اسرائیل:104). یہ سب لوگ دنیا بھر سےایک جنگ لڑنے کے لیے یہاں‌ جمع ہوئے ہیں اوریہ جنگ صرف اورصرف مسلم امہ کے ساتھ ہونے والی ہے. “تم یقیناَ یہود سے لڑو گے اوریقیناَ انہیں قتل کرو گے، حتیٰ کہ پتھرپکاراٹھیں گے، اے مسلمان میرے پیچھے بھی ایک یہودی کھڑا ہے، آؤ اسے قتل کرو(بخاری، مسلم). وہ تمام پیش گوئیاں جو قرآن و سنت میں درج ہیں آج حرف بحرف سچ ثابت ہورہی ہیں، یہودیوں کا واپس لوٹنا، مصرمیں افراتفری، عراق میں سونے کے پہاڑپرجنگ، شام پرفضائی حملے اورپھرپوری مسلم دنیا میں‌ خرابی. یہ وہ زمانہ ہے جب اسرائیل مکمل تیاری کے ساتھ اس امت کے سامنے آ چکا ہے اورہماری حالت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کے مصداق ہے. “لوگوں پرایک زمانہ ایسا آئے گا جب ان کے پڑھے لکھے لوگ بھی کہیں گے کہ یہ جہاد کا دورنہیں ہے. ایسا دورجس کو ملے وہ جہاد کا بہترین زمانہ ہوگا. صحابہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی مسلمان ایسا بھی کہ سکتا ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا وہ پڑھے لکھے لوگ کہیں گے جن پراللہ کی لعنت، فرشتوں کی لعنت اورتمام انسانوں کی لعنت ہوگی (السنن الواردہ فی الفتن). ہم اس ہی دورمیں زندہ ہیں اورشاید اس تباہی کا نظارہ کرنے والے ہی جو جلد ہم پرنازل ہونے والی ہے. بچاؤکا ایک ہی راستہ ہے کہ جس طرح یہودی خم ٹھونک کرمیدان میں‌ آچکے، ہم بھی آ جائیں، ورنہ اللہ ہمیں نیست ونابود کرکے یہاں‌ کوئی اورنسل آباد کردے گا کہ بیت المقدس کو فتح کرنے والے قافلوں نے تو یہاں سے جانا ہے. یہی فرمایا مخبرصادق صلی اللہ علیہ وسلم نے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں