تاریخ کے گل و گلزار سے


دل و دماغ کو اذیت سے بھر دینے والی خبروں سے ذرا سی دیر کے لیے رخصت لے کر میں آپ کو ایک تصویر دکھاتا ہوں۔ یہ تصویر ایک بوڑھے کی ہے جو تاریخ کے گزرے زمانوں سے نکل کر ہمارے دور کے ایک حکمران کے سامنے اپنی کوئی پرانی بوڑھی یاد لے کر آیا ہے۔ اس کے کپڑے برسہا برس کی پرانی وضع کے ہیں اور اس کے سر پر صدیوں پرانی طرز کی پگڑی لپٹی ہے۔ اس کے ہاتھ میں ایک لاٹھی ہے جو فرش پر ٹکی ہے مگر اس کا دوسرا سرا اس بوڑھے کے قد سے نکلتا ہوا ہے مگر دکھائی نہیں دیتا۔ اس پر اس کے بوڑھے چہرے پر داڑھی اور حکمران کی طرف دیکھنے کا انداز یہ سب کچھ مجھے بہت ہی پرانے زمانوں میں لے گیا جب کیمرے کی ایجاد سے پہلے مصور ایسی تصویریں نقش کیا کرتے تھے۔ ہمارے قریبی عہد کے چغتائی اور استاد اﷲ بخش اور اس سے پہلے اس زمانے تک جب کسی نے پہلے پہل مُو قلم ہاتھ میں لیا تھا۔
اس بوڑھے کی ایک دربار میں حاضری ہمیں یہ بتاتی ہے کہ زمانہ ابھی تک کسی مقام پر ٹھہرا ہوا ہے۔ ہزاروں برس اور صدیاں گزر گئیں مگر یہ بوڑھا‘ اس کا لباس اس کے ہاتھ میں لمبی سی لاٹھی اور دربار میں جھک کر کچھ گزارش کرنے کا انداز وہی قدیم ہے‘ رعایا اور حکمران کی تاریخ بیان کرتا ہوا۔ نہیں معلوم تھا کہ اس دربار سے مراد ملتی ہے یا باہر کھڑا جلاد۔ جب میں عبدالرحمان چغتائی کی تصویریں دیکھتا ہوں تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ ایسی خواتین اور مرد اس مصور کو کہاں نظر آئے تھے وہ جن کو کاغذ پر اتارتا چلا آ رہا ہے اور ان کے نقوش کو دوام بخش رہا ہے۔ بتایا گیا کہ مغل دور کے ایسے لباس اور ان کو زیب تن کرنے والیاں ایسی ہی منقش ہوتی تھیں اور ہمارے مصور کی چشم تصور نے انھیں دیکھ لیا تھا لیکن میں ایک بار حیرت زدہ رہ گیا جب میں نے ایک ایسی زندہ تصویر بخارا کے ریلوے اسٹیشن پر دیکھی۔
وسطی ایشیا کے میرے ایک یادگار سفر کے دوران میں بخارا میں پرانے دور کی یادوں میں کھویا ہوا آوارہ گردی کر رہا تھا کہ ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلتے ہوئے چند خوش پوش لوگ نظر آ ئے جو ظاہر ہے کہ باراتی تھے۔ ان کے ساتھ ایک جوان لڑکی تھی کھلکھلا کر ہنستی ہوئی‘ تاریخ کے گل و گلزار سے نکلتی ہوئی اور بات بات پر قہقہے لگاتی ہوئی۔ میں بے ساختہ اس مختصر سی برات کے قریب چلا گیا اور فارسی میں اپنا تعارف کرایا۔ باراتی بہت خوش ہوئے تب پاکستان کا نام ان نئے آزاد ہونے والے ملکوں میں محبت کا نام تھا۔ وہ لوگ مجھ سے گلے ملے اور جب میں دلہن کے قریب گیا تو وہ ایک لازوال مسکراہٹ اور کانپتے ہاتھوں کے ساتھ ذرا آگے بڑھی اور مصافحہ کیا۔ ایک قریب ہی کھڑی بوڑھی خاتون نے‘ جو غالباً اس کی ساس ہو گی‘ ذرا آگے بڑھ کر دلہن کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے پیار سے آگے کر کے میرے سینے سے لگا دیا اور کہا ’’برادر پاکستانی‘‘ چغتائی کی بنی ہوئی یہ ہوبہو تصویر پتہ نہیں کہاں سے نکل کر میرے سامنے آ گئی اور مجھے بے خود کر گئی۔ بے پناہ خوبصورت اور دلہنوں والا رنگین زرق برق لباس۔ میرے لیے وقت ایک کروٹ لے کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔ بخارا زندہ ہو کر میرے سامنے مسکرا رہا تھا۔ میں نے جیب سے کچھ رقم نکالی اور دلہن کے ہاتھ پر رکھ دی۔ ان کے ہاں بھی ایسا رواج ہوتا ہو گا جس سے وہ سب بہت خوش ہوئے اور اسی بزرگ خاتون نے جس نے مجھے اس دلہن کا بھائی بنا دیا تھا آگے بڑھ کر کچھ رقم یہ کہہ کر رکھ لی کہ یادگار کے طور پر یہی کافی اور شکریہ اب کے دلہن نے خود ہی آگے بڑھ کر میرے ہاتھ پکڑ کر انھیں بوسہ دیا اور ماضی کے ان مرغزاروں سے یہ ملاقات ختم ہوئی۔
میں نے دنیا میں جو منظر بھی دیکھے ہیں ان میں سب سے عام سا منظر پیرس کے لوور عجائب گھر میں دیوار کے ایک طاق میں رکھی ہوئی مونالیزا تھی جس کی حفاظت کے لیے دو سپاہی دائیں بائیں کھڑے تھے۔ پھر چند ایک اور یادگار مناظر میں قاہرہ کے عجائب گھر میں فرعون موسیٰ کی رکھی ہوئی ممی تھی اور جہاز سے ماؤنٹ ایورسٹ کے سب سے اونچے پتھر کا نظارہ جو دنیا کو اس حال میں دیکھ رہا تھا کہ اس پر بندہ تو کجا برف کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا۔ دمشق کی مسجد اُمیہ میں ایک گوشہ دیکھا جسے زاویہ غزالی کہا جاتا ہے جہاں بیٹھ کر ہمارے اس صوفی دانشور نے اپنی شہرہ آفاق کتاب لکھی تھی۔ اس زندگی میں بہت کچھ دیکھا لیکن اکثر کو بس دیکھتا چلا گیا۔ رکنے کی ضرورت نہ ہوئی لیکن مجھے اس دنیا کے پورے خطوں میں جو لطف وسطی ایشیا کو دیکھ کر ملا وہ کہیں اور نصیب نہ ہوا۔ ہم برصغیر کے مسلمانوں کے علوم و فنون اور سلوک و معرفت کی روایتیں اور ذخیرے اسی خطے سے ہندوستان پہنچے۔ حدیث کی سب سے بڑی کتاب کے مصنف امام بخاری کے مزار پر حاضری کے دوران میری چیخیں نکل گئیں۔ میں کلام پاک کے بعد دوسری بڑی کتاب کو مرتب کرنے والے کا شکوہ برداشت نہ کر سکا۔ نقشبندی مسلک کے امام اول حضرت بہاء الحق نقشبندی کا پرسکون مزار۔ میں تیمور اور بابر کی یادگاروں اور مزاروں کا ذکر نہیں کرتا‘ تاشقند کے قریب وہ وادی جس میں بابر کی پرورش ہوئی اور سمرقند میں تیمور کا مزار جس کے سامنے ریگستان نامی مقام پر تین یادگاری عمارتیں کھڑی ہیں ان کے قریب کے سبزہ زار میں ایک مجسمہ کھڑا ہے جس کے ہاتھ میں کتاب ہے۔ مولانا عبدالرحمان جامی کا مجسمہ۔
تاریخ کی یادگاروں کے اس ذکر میں تو میں اس تصویر کو بھول رہا ہوں جس کے ذکر سے یہ کالم شروع ہوا تھا۔ وہ پاکستانی بوڑھا جو اپنے اجداد کے پڑوس سے نکل کر آج ظہور پذیر ہوا ہے اور بہت ہی پرانی داستان بیان کر رہا ہے۔ حاکم و رعایا کی وہ داستان ہے جس کے کردار بدلتے ہیں مگر داستان وہی رہتی ہے۔ یہ داستان تاریخ میں چند برس بدلی تھی جب اس کا ایک کردار حکمرانی سے تھک ہار کر کنکریوں پر لیٹ کر کہتا تھا کہ یا اﷲ میری ہڈیاں بوڑھی ہو گئی ہیں‘ سلطنت بہت پھیل گئی ہے‘ مجھ سے اب یہ بوجھ نہیں اٹھایا جاتا‘ اپنی مغفرت کے ساتھ مجھے اب اٹھا لے۔ اس کے بعد آج تک کسی بادشاہ حکمران اور صاحب اقتدار نے یہ الفاظ نہیں کہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں