کیا ہم امریکی کالونی ہیں


عالمی جنگ سے نڈھال برطانیہ عظمیٰ نے اپنی مقبوضات خصوصاً سونے کی چڑیا ہندستان سے ہاتھ اٹھانے کا فیصلہ کر لیا اگرچہ اس دور کے ایک جید انگریز سر ونسٹن چرچل نے اصرار کیا کہ وہ ابھی پچاس برس تک یہاں اپنی عملداری قائم رکھ سکتے ہیں لیکن برطانیہ کی لیبر حکومت نے اپنی مقبوضات کو آزاد کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ اس فیصلے پر عمل ہوا۔ انگریز کے محکوم سابقہ ممالک آزاد ہو گئے۔
ان نو آزاد ملکوں میں ایک ملک ایسا بھی تھا جو پہلے سے موجود نہیں تھا۔ انگریز حکمرانوں نے اس نئے ملک کی سرحدوں میں کچھ ردوبدل کرنے کے بعد اسے پاکستان کے نام سے ایک نئے ملک کے طور پر تسلیم کر لیا۔ دنیا کی تاریخ میں یہ ملک کسی سیاسی عمل کی تب تک پہلی تخلیق تھی کیونکہ اس نام کا کوئی ملک موجود نہیں تھا، اسی طرح اسلامی دنیا کی تاریخ میں بھی یہ ایک نیا اضافہ تھا اور اس لحاظ سے منفرد کہ یہ اسلامی نظریات کا علم بلند کر کے وجود میں آیا۔
برطانوی سامراج نے دنیا کے ایک حصے پر ڈیڑھ دو سو برس تک حکومت کی اور اب جب اس نے حقیقت پسندی کے ساتھ اسے ختم کرنا چاہا تو یہ خلا پُر کرنے کے لیے اس نے نئی عالمی طاقت کا انتخاب کیا بلکہ خود برطانیہ عظمیٰ بھی اپنی حکمرانہ نخوت ترک کر کے امریکا کے زیردست ایک ملک بن گیا اور اس کا آزاد کردہ پاکستان بھی بہت جلد ہی برطانیہ کی طرح امریکا کی نوآبادی بن گیا۔ یہ کشمکش اب تک جاری ہے کہ پاکستان امریکا کی ایک نو آبادی ہے یا نہیں لیکن آج کے حالات ثابت کرتے ہیں کہ پاکستان امریکا کے زیر اثر ہی نہیں اس کے تابع فرمان ایک ملک ہے۔ تازہ ترین نیٹو کی رسد کھولنے کا واقعہ ہو یا اس سے پہلے کے واقعات ہم نے برطانیہ کی جگہ امریکا کو اپنا آقا تسلیم کر لیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنے ایک تازہ کالم میں امریکا کی اس حکمرانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کے عوام جو البرادعی جیسے مستند امریکی ایجنٹ کی ریشہ دوانیوں سے آزاد ہو گئے ہیں، آیندہ کسی امریکی ایجنٹ کو اپنے اوپر مسلط نہیں ہونے دیں گے۔ مصریوں کو ہماری حالت زار سے سبق حاصل کرنا چاہیے کہ جب جنرل مشرف کی افادیت ختم ہو گئی تو امریکا نے اسے مکمل اعزاز کے ساتھ رخصت کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے ہمارے یہاں ایک ایسی تبدیلی کا بندوبست کیا کہ نئے حکمرانوں نے غلامی میں مشرف کو بھی مات کر دیا۔ ہم تو کوئی تیرہ برسوں سے اپنی محکومیت کا وقت گزار رہے ہیں اور امریکا کی کالونی بنے ہوئے ہیں۔گالیاں سنتے ہیں، دھمکیاں سنتے ہیں، اپنی سرزمین پر جارحیت قبول کرتے ہیں لیکن کھلے ہاتھوں ان لوگوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور مسکرا مسکرا کر ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔
امریکا کا ذکر آیا ہے تو ایک مستند صحافی کی بات بھی سن لیجیے۔ یہ صحافی پاکستان میں حالات کو اپنے لیے ناساز گار پا کر امریکا چلا گیا۔ وہاں پانچ چھ برس بسر کیے۔ انھوں نے امریکیوں اور ان کی جبلت اور نسل کا جائزہ لیا۔ یہ صحافی عباس اطہر ہیں ہمارے گروپ ایڈیٹر جن کا کالم ایکسپریس میں چھپ چکا ہے، میں اس میں سے صرف چند القاب نقل کرتا ہوں جو انھوں نے اپنے مشاہدے اور تجربے کے مطابق امریکیوں کے کردار کو بیان کرنے کے لیے منتخب کیے ہیں۔ ’’امریکا نے قتل و غارت گری، دغا بازی اور بے رحمی کی نئی روایات قائم کی ہیں‘‘ اگر ہم پاکستانیوں میں سوچ سمجھ کی ذرا سی بھی روشنی باقی ہے تو ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس قاتل و غارت گر، دغاباز اور بے رحم امریکا کو مسلسل دیکھ رہے ہیں اور حیرت ہے ہماری بے غیرتی کی کہ امریکا کے ہر ظلم پر دانت نکال کر ہنستے ہیں۔ ہمارے ہاں ٹیلی وژن پر امریکا کے علانیہ برخوردار اور تابع فرمان رواں رہتے ہیں۔
میں انھیں برخوردار اس لیے لکھ رہا ہوں کہ ایجنٹ ہونا ان کی اوقات سے بڑا ہے۔ ایک مدت ہوئی جماعت اسلامی کے ایک اخبار نے ہم تین چار صحافیوں کو امریکا کی سی آئی اے کا ایجنٹ لکھ دیا جب کہ یہ تینوں صحافی جماعت کے ’ایجنٹ‘ مشہور تھے۔ یہاں لاہور میں امریکی دفتر اطلاعات کے سربراہ سے ملاقات ہوئی تو اس نے ہمیں ’سر‘ کہہ کر مخاطب کیا کہ آپ ہم ملازمین سے بہت بڑے ہیں اور ایجنٹ ہیں۔ جماعت کی ایسی حماقتوں کی تاریخ پرانی ہے۔ جملہ معترضہ کہ ان دنوں میں نے جماعت کے اس اخبار جسارت کو جماعت کا ’مساوات‘ لکھ دیا جس پر جماعت کے لوگوں نے بھی مجھے داد دی تھی۔ ہمارے میڈیا میں اس وقت بہت بڑی تعداد امریکا کی ترجمان بنی ہوئی ہے۔ مجھے جب کوئی ان میں سے مل جاتا ہے تو میں اتنا عرض کرتا ہوں کہ یار کچھ ملتا بھی ہے یا ایک پنجابی مثل کے مطابق سوئے ہوئے پتر کو چومتے رہتے ہو‘ صرف رضاکار ہو‘ ہماری حکومت نے ہماری بے عزتی کرانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی چنانچہ غیر تربیت یافتہ نو آموز صحافی بھی ایک ڈگر پر بلا سوچے سمجھے چل نکلتے ہیں اور حیرت تو سیاستدانوں پر ہوتی ہے کہ وہ وزیر بن کر اپنے امریکی وزیر کی طرف سے مسلسل بے عزتی وصول کرتے ہیں۔ امریکی صدر ہمارے صدر سے نہیں ملتا اور امریکی وزیر خارجہ ہماری وزیر خارجہ کو اہمیت نہیں دیتیں اور تو اور اب بھارت بھی ہمارے سر چڑھ رہا ہے بلکہ چڑھ چکا ہے۔ اپنی حالت کیا بیان کریں کہ دنیا بھر میں کرپشن میں نمبر ایک ملک بن چکے ہیں‘ ملک نہیں قوم کیونکہ اس میں ملک کا کوئی قصور نہیں ہے، حکمرانوں کا ہے۔ اس ملک میں وہ سب کچھ ہے جو کسی بھی ملک میں ہو سکتا ہے سوائے اس ملک کے لائق ایک قوم کے، الحمدﷲان دنوں امریکا کے خلاف ایک تحریک برپا ہے۔ مولوی حضرات کی تحریک کیونکہ غیر مولوی تو امریکا کی خدمت میں مصروف ہیں۔ دفاع پاکستان والے یہ علماء اور ان کے ساتھی کچھ بھی ہو کرپٹ نہیں ہیں، ان کے اندر یہ اہلیت ہی نہیں ہے۔ کرپشن ایک ہنر ہی نہیں اس کے لیے بے ایمانی بھی درکار ہوتی ہے اور مولوی کسی نہ کسی مرحلے پر ڈر جاتا ہے۔ معمولی سی نذر و نیاز کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ پاکستان میں شروع دن سے ہی اگر کوئی طبقہ اور گروہ غیر ملکی مداخلت خصوصاً غیر مسلموں کی مداخلت کے خلاف ہے تو وہ انھی علماء کا ہے۔ اس سلسلے میں مزید عرض نہیں کیا جا سکتا۔ دعا ہے کہ دفاع پاکستان مارچ والے حکمران کی ساحری سے محفوظ رہیں۔ مختصراً عرض ہے کہ ملک بچانا ہے تو امریکا سے بچ کر رہنا ہے، اس کے ساتھ جنگ نہیں حکمت عملی کے ساتھ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں