بشیر قریشی


میری ان سے پہلی ملاقات ایک مشہور پریس کانفرنس میں ہوئی۔ اقتدار سے قبل لیکن متوقع اقتدار کے نشے میں سرشار جناب ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت کے لاہور کے اکلوتے بڑے ہوٹل میں پریس کانفرنس کی۔ اس میں پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق جب کانفرنس کے دوران ایک رپورٹر بشیر قریشی نے ان سے کوئی سوال کیا تو اس کا جواب دینے کے بجائے انھوں نے اپنا وہ مشہور جملہ کہا ’میں تمہیں درست کر دوں گا‘۔ یہ جملہ انگریزی میں تھا اور اس میں ’فکس اپ‘ کا لفظ استعمال ہوا تھا جو بعد میں مدتوں تک بھٹو صاحب کے نام سے منسوب چلتا رہا۔ اس جملے کے اولین مخاطب قریشی صاحب تھے پی پی آئی کے لاہور میں بیوروچیف۔ نام کبھی کبھی بھول جاتے ہیں، بھٹو صاحب اس نیوز ایجنسی کے مالک مقیم لندن سے ناراض تھے اور یہ غصہ انھوں نے قریشی صاحب پر بھی نکال دیا۔
یاد پڑتا ہے کہ قریشی صاحب اس تلخ جملے کے بعد کانفرنس سے باہر چلے گئے۔ اپنے عہد کے اس نظریاتی صحافی کا 95 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا ہے جو ہمارے دوست سرمد بشیر کے والد تھے۔ اس واقعہ کے بعد میں قریشی صاحب سے ملنے ان کے دفتر گیا۔ سوائے اس واقعہ کے بہت باتیں ہوئیں۔ بات بڑی آسان سیدھی سادی اور عام سی تھی کہ قریشی صاحب زندگی کے نظریات کے اسیر تھے اور ان پر سمجھوتہ کرنے پر کبھی تیار نہ ہوئے تھے اور یہی بات آسان نہیں مشکل ترین تھی۔ آج تو خیر کسی فرسودہ پرانی نظریاتی صحافت کا نام لینا بھی آسان نہیں رہا اس زمانے میں بھی جب روایات ابھی زندہ تھیں نظریات پر ڈٹے رہنا آسان نہیں تھا۔ پھر سمجھوتوں کا زمانہ شروع ہو گیا تھا مگر بشیر قریشی جیسے صحافیوں نے اس زمانے سے مفاہمت سے انکار کر دیا تھا۔
قریشی صاحب سے بعد میں مسلسل ملاقاتیں ہوتی رہیں، وہ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر عبور رکھنے والے صحافی تھے۔ انگریزی صحافت میں بھی ایک عمر گزار دی۔ اردو میں بھی یہ کام کرتے رہے اور میری خوش قسمتی کہ میں نے جب اپنے اردو ہفتہ روزہ کے ساتھ انگریزی ہفتہ روزہ کا پروگرام بھی بنایا تو قریشی صاحب سے اس کی ادارت کی درخواست کی، وہ میرے دفتر تشریف لائے اور مجھے انگریزی زبان پر ایک لیکچر دیا، یہ جانتے ہوئے کہ میں اس زبان میں معمولی سی شُدبُد رکھتا ہوں، بتایا کہ کوئنز انگلش کیا ہوتی ہے اور مروجہ انگریزی کیا ہے، دونوں میں فرق کیا ہے۔ اس ہفت روزہ کی ڈمی بھی تیار ہوئی مگر اندازہ ہوا کہ اس کے لیے زیادہ رقم درکار ہے، قریشی صاحب اس سلسلے میں بالکل نابلد تھے اور میں ابھی اس نئی دنیا میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا تھا چنانچہ ہم دونوں نے یہ بھاری پتھر چومے بغیر ہی چھوڑ دیا۔
جناب قریشی صاحب ایک نیوز ایجنسی کے نمایندے تھے، اس لیے ان کی خبر ہر جگہ جاتی تھی۔ پی پی آئی اگرچہ سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی سے نمبر2 ایجنسی تھی لیکن اس کی خبر کو زیادہ مستند اور قابل اعتبار سمجھا جاتا تھا۔ اپوزیشن اپنی خبریں اس ایجنسی کو دیا کرتی تھی اور یہ ایجنسی کئی سخت خبروں کا رسک بھی لے لیتی تھی۔ قریشی صاحب نوابزادہ نصراللہ خان کے قابل اعتماد رپورٹر تھے۔ ایک بار کسی بڑے لیڈر نے قریشی صاحب کو کوئی خبر دی لیکن انھوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ لیڈر قدرے برہم ہوئے لیکن بعد میں میری موجودگی میں نواب صاحب نے اس لیڈر سے کہا کہ بشیر قریشی کو مجبور نہیں کیا جا سکتا‘ اس کی کمٹ منٹ بہت سخت ہے۔
ایک تو سیاسی تربیت ان لوگوں سے پائی جن کا کوئی دین ایمان تھا کیونکہ اس زمانے میں کرپشن کا کوئی تصور نہ تھا دوسرے قریشی صاحب جیسے سینئر مل گئے جنہوں نے رہی سہی کسر نکال دی۔ وہ کہتے تھے کہ آپ نہ جانے کتنے لاکھوں لوگوں تک یہ خبر پہنچا رہے ہیں جو آپ پر اعتماد کر رہے ہیں، یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنے لوگوں سے دھوکا کریں۔
مجھے ان کے ساتھ کام کرنے کی سعادت کبھی حاصل نہیں ہوئی لیکن میں نے ان کو ہمیشہ اپنا استاد مانا۔ ایک ایسا استاد جو فنی تعلیم ہی نہیں دیتا تھا نظریاتی تعلیم کو اولیت دیتا تھا۔ ایسے ہی لوگوں کا نظریاتی شوق تھا جو ہمیں بھی بے کار کر گیا۔ نہ گھر کے نہ گھاٹ کے۔ یہ کام کرنا ہے یہ نہیں کرنا، یہ لیڈر درست ہے اور یہ غلط ہے، دوغلہ ہے، اپنی بات سے مکر جاتا ہے اور بات سے مکر جانے والے سیاسی لیڈر سے نفرت کی جاتی تھی۔ لیکن یہ سب پرانے زمانے کی باتیں ہیں اب جب قومی سطح پر دوہری شہریت کی بات ہو رہی تھی اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت ایسا قانون بنا رہی ہے تو ایسے میں کوئی کس کا گلہ کر سکتا ہے۔ بعض لیڈر سیاسی طور پر بدنام تھے لیکن مالی معاملات میں وہ صاف اور نہایت ایماندار تھے جیسے میاں ممتاز دولتانہ۔ اس قبیل کے لوگ زمینیں بیچ کر سیاست کرتے تھے، زمینیں سمیٹ کر سیاست نہیں کرتے تھے۔ اپنے نوابزادہ صاحب جب اپنی ساہی وال کی فروخت شدہ زمینوں کا ذکر کرتے تو دکھی ہو جاتے تھے۔
یہ وہ مبارک زمانہ تھا جب سیاست کے لیے قربانی دی جاتی تھی، اس سے قربانی لی نہیں جاتی تھی۔ قدریں ہی بدل گئی ہیں، نیکی بدی اور بدی نیکی بن گئی ہے۔رشوت خور اور رشوت دہندگان ہمارے ملک کے وی وی آئی پی ہیں۔ حکومت ان کی جان کی حفاظت کرتی ہے، مال کی حفاظت کرنا وہ خود سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ اعلیٰ ترین عدالتیں ان کے منہ پر کہتی ہیں کہ رشوت دینے اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں لیکن اس ملک کے کئی بااثر مسلمان ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کے ’مقروض‘ بھی ہیں۔ شکر ہے کہ بشیر قریشی محترم اس عبرت ناک دور سے پہلے صحافت سے ریٹائر ہو گئے اور اب زندگی بھی اپنی پوری آب تاب کے ساتھ اس زمین کے سپرد کر دی۔ میں ان کو رحمتہ اللہ علیہ لکھوں گا کیونکہ یہ میرے دیکھے ہوئے پارسا اور متقی تھے۔ سچ سوچا، سچ بولا اور سچ لکھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں