سرزمین فراعنہ کی نئی کہانی


یورپ پر فرانس کی ثقافتی برتری کو ایک کہاوت میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ پیرس کو جب چھینک آتی ہے تو یورپ کو زکام ہو جاتا ہے۔ عرب دنیا پر مصر کی برتری کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ قاہرہ سے جب کوئی نئی آواز بلند ہوتی ہے تو وہ پوری عرب دنیا میں سنی جاتی ہے۔ عربوں کی دنیا میں قاہرہ کو علوم‘ فنون اور ادب و ثقافت کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ نوبل پرائز تک قاہرہ کے حصے میں آیا ہے اور مورخوں‘ دانشوروں، انشا پردازوں اور شاعروں کا ایک ہجوم ہے جو اس شہر پر ضوفشاں ہے۔ یہ بحث الگ کہ قاہرہ کے مفکروں کے خیالات صحیح ہیں یا غلط‘ مکمل ہیں یا نامکمل‘ قابل قبول ہیں یا نہیں، کچھ بھی ہے ان کے اعلیٰ معیار سے انکار ناممکن ہے۔
انھوں نے جدید عربی زبان کو نئی زندگی دی اور تحریر کے نئے اسلوب ایجاد کیے۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے سامنے عربی زبان کی ایک مستند تحریر کلام پاک کی صورت میں موجود ہے جسے جدید و قدیم تمام عرب انشاء پرداز اپنا حتمی معیار سمجھتے ہیں۔ تجدد کے ایک امام ڈاکٹر طٰہٰ حسین نے تسلیم کیا ہے کہ عرب زبان کا معیار اور نمونہ طے شدہ ہے چنانچہ اس انشاء پرداز کی تحریروں کو پڑھیں تو انھیں قرآن کی جدید زبان کہا جا سکتا ہے۔
جدید عربی زبان کی شکل و صورت صرف ڈاکٹر طٰہٰ حسین تک محدود نہیں ہے لیکن میں نے چونکہ ان کی آسان زبان پڑھنے کی کوشش کی ہے اور ان کے اسلوب کو دل و دماغ میں اتارنے کی سعی کی ہے، اس لیے میں ان کا ذکر کر رہا ہوں، ویسے ڈاکٹر صاحب عرب قومیت کے قائل ہیں جو مجھے منظور نہیں لیکن میں جو عرض کرنا چاہتا تھا بات اس سے دوسری طرف نکل گئی۔ طٰہٰ حسین کے ہم فکر لوگ گزشتہ دنوں قاہرہ کے میدان تحریر میں شکست کھا گئے اور ان کی عمر بھر کی کمائی قدامت پسند مولویوں کی جدوجہد کی نذر ہو گئی۔
ایک عرصہ سے خون اور شہادتوں کی ایک کہکشاں جدید مصری تہذیب پر چمکتی رہی اور ہزاروں برس کی تہذیب و تمدن کا اہرام اس کی روشنی میں گم ہو گیا۔ یوں مغربی دنیا کی عرب دنیا کو تتربتر کرنے کی کل کی کامیاب کوشش آج ایک خواب بن گئی کسی کو یاد نہیں کہ برطانیہ کے سر ونسٹن چرچل نے مشرق وسطیٰ کی ریت پر جو لکیریں کھینچی تھیں اور عربوں کو کئی ٹکڑوں ملکوں اور ریاستوں میں بانٹ دیا تھا وہ لکیریں ماضی کی ایک ناگوار اور عبرت ناک یاد بن گئیں۔ درست کہ خلافت عثمانیہ ختم ہو گئی اور برطانیہ نے اسے کئی حصوں میں بانٹ دیا کئی ملک بنا دیے مگر عرب اس سانحہ کو نہیں بھولے ان کے ہاں عرب قومیت نے گو عروج دیکھا اور قاہرہ اس کا مرکز رہا لیکن آج اس عروج کا زوال بھی قاہرہ ہی دیکھ رہا ہے۔
عرب اپنی اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں عرب قومیت کا جذبہ اب ایک آزاد عرب دنیا کی صورت میں سامنے آنے کی کوشش کر رہا ہے اس کوشش کو عمل کا رنگ مصر کی ایک اسلامی تحریک نے دیا ہے۔ اخوان المسلمون کے بانی حضرت حسن البناء نے پاکستان کی تحریک اسلامی سے روشنی حاصل کی اور عرب دنیا میں اس تحریک کو اس وقت منظم کیا جب سیکولرازم اور عرب ازم کا طوفان اٹھا ہوا تھا۔ کتنے ہی چوٹی کے اخوان رہنما شہید ہو گئے لیکن وہ تحریر چوک کو اپنے دمکتے خون سے روشن کر گئے۔ امریکا اور مغربی دنیا سرتوڑ کوشش کر رہی ہے کہ وہ عرب دنیا کے ثقافتی علمی اور سیاسی مرکز قاہرہ کو اخوان تحریک سے بچا لیں لیکن سروں کو ہتھیلیوں پر رکھ کر انھیں راستے کا چراغ بنا کر چلنے والوں کی کمی نہیں وہ بیان پر بیان جاری نہیں کرتے بلکہ اپنی گھن گرج سے آمریت کے محل کو ریزہ ریزہ کر دیتے ہیں۔
خاتون اول کہتی ہے میں تو کوئی خاتون اول وغیرہ نہیں ہوں مصر کی ایک عام سی بیٹی ہوں اور صدر مصر اپنی روزمرہ کی زندگی اور رہن سہن میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں آنے دیتے اور پہلی فرصت میں بیت اﷲ حاضری دے کر وہاں اپنے رب کے حضور میں صدارت کا حلف اٹھاتے ہیں یا یوں کہیں کہ وہ اپنے پرانے حلف کی تجدید کرتے ہیں جو انھوں نے تحریک اسلامی میں شامل ہو کر اٹھایا تھا۔ انھوں نے پہلے الفاظ جو اپنی صدارتی زبان سے نکالے وہ عین وہی تھے جو حضرت ابوبکر صدیق نے امیرالمومنین بننے کے بعد مسجد میں مسلمانوں سے کہے تھے۔ ہم انشاء اﷲ دیکھیں گے کہ ان کی صدارتی زندگی بھی پہلے خلیفۃ المسلمین کی طرح کی ہو گی۔ درست کہ اس زندگی کی عظمت تک شاید کوئی دوسرا نہ پہنچ سکے مگر کوشش اور اس میں برکت کی خواہش تو حق ہے اور ہر مسلمان حکمران کا فرض ہے۔
آج اسلامی دنیا میں مصر کے صدر کا جو احترام ہے اس کا عشر عشیر بھی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کسی بھی حکمران کے پاس نہیں ہے۔ ہمارے حکمران قطعاً غیر اسلامی زندگی بسر کرتے ہیں بلکہ وہ تو مغرب کے کافر حکمرانوں کے برابر بھی نہیں ہیں جو ذرا ذرا سی بات پر عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں۔ الحمدﷲکہ مصر کے انقلاب نے ہمارے سامنے ایک دوسری اور اصل اسلامی یا اسلام کے قریب تر مثال قائم کر دی ہے کہ ہم بھی کسی کا حوالہ دینے کے قابل ہو گئے ہیں ورنہ ہمیں بار بار نکو بنایا جاتا تھا کہ آج کی بات کرو کس پرانے زمانے کے قصے لے بیٹھے ہو۔ وہ وقت گزر گیا، اب زمانہ بدل گیا ہے، نئے تقاضوں کے ساتھ۔ اونٹ پر نہیں موٹر کار پر گھومو پھرو۔ ان موٹر کاروں پر گھومنے پھرنے والوں نے عوام کی آمدنی اور مال کی جو درگت بنائی ہے اسے جس بے رحمی کے ساتھ استعمال کیا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے اس کا حساب کتاب جب کبھی پیش ہو گا تو ان کی ہڈیوں سے کون وصول کرے گا بہرکیف آج کی جدید ترین دنیا میں جو انسانی تاریخ کی ناقابل تصور حد تک ترقی یافتہ دنیا ہے اس میں بے نفسی، قربانی اور ایثار کی مثالیں پیش کر کے ہم گئے گزرے مسلمانوں نے مغرب کو بھی شرمندہ کر دیا ہے۔ یہ اﷲ کی نعمت ہے ایک انعام ہے وہ جسے بھی عطا کر دے۔
میں مصر کی اخوان المسلمون کی قیادت پر فخر بھی کرتا ہوں کہ ایک مسلمان رنگ و نسل اور جغرافیائی حدود سے بالاتر ہوا کرتا ہے لیکن شرمندہ بھی ہوں کہ پاکستان کی صورت جس تحریک کا علم بلند ہوا تھا وہ زمانہ ساز قیادت کے پاس بوقت ضرورت صرف لہرانے کے لیے رہ گیا، اقبال اور جناح کا پاکستان ایک اسلامی معجزہ تھا۔ اب یہ صرف تاریخ کی کتابوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ شکر ہے کہ مصر کے مسلمانوں کو توفیق نصیب ہوئی۔ عمر بن العاص کے مفتوحہ ملک میں اسلام کا لپٹا ہوا پرچم کھلا آج کے آمروں اور قدیم فرعونوں کی سرزمین نے ایک بار پھر یہ زمانہ دیکھ لیا۔ یہ زمانہ جس آخری فرعون پر گزرا تھا میں نے اس کی ممی کو قاہرہ کے عجائب گھر میں دیکھا، پانی میں غرق ہونے والے اس فرعونِ موسیٰ کو قدرت نے عبرت کی نشانی بنا کر ’’زندہ‘‘ رکھا کہ زمانہ تم سے عبرت حاصل کرتا رہے گا۔ مصر کی یہ نئی کہانی جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں