پاکستان پر یلغاریں


میں ان دنوں جب اپنے پاکستانی ٹی وی چینلوں پر بھارتی اداکاروں اور ان کی فلمی سرگرمیوں کی طویل رپورٹیں دیکھتا ہوں تو خوش بھی ہوتا ہوں اور غمزدہ بھی یعنی روتا بھی ہوں اور ہنستا بھی ہوں۔ خوش اس لیے ہوتا ہوں کہ یہ قوم ہو سکتا ہے یہ سب دیکھ کر جاگ جائے اور اس کی قومی غیرت میں کچھ حرکت پیدا ہو جائے جس کا ثمر اس قوم کو عزت کی صورت میں نصیب ہو اور روتا اس لیے ہوں کہ اس قوم کی قیادت جن گیدڑوں اور لنگوروں کے ہاتھ میں ہے ان سے کسی قومی غیرت کی توقع ایک حماقت ہے۔ سید منور حسن نے درست کہا ہے کہ امریکا تنگ آ کر پائوں پڑنے والا تھا کہ یہ دیکھ کر ہم گھبرا گئے اور جھٹ سے امریکا کے پائوں پڑ گئے۔
ہمارے ٹی وی اور اخباروں کے فلمی صفحات پر بھارتی فلمی خبروں اور تصویروں کی بھر مار دیکھ کر مجھے ایک برسوں پرانی بات یاد آتی ہے۔ بھارت کی لیڈر‘ مادام سونیا گاندھی نے ایک بار بمبئی کی ایک تقریب میں کہا تھا کہ ہمیں پاکستان کی فکر نہیں کرنی چاہیے اس کے لیے بھارتی کلچر کی یلغار ہی کافی ہے، وہ اس سے بچ کر نکل نہیں سکے گا۔ آج جب میں بھارتی کلچر کی یہ یلغار دیکھتا ہوں اور کوئی اخبار اور ٹی وی چینل اس سے بچا ہوا نہیں پاتا تو مجھے اس اطالوی خاتون اور بھارتی لیڈر کی بہو سونیا کی یہ بات یاد آتی ہے کہ اس نے کیا کمال کا تجزیہ کیا جب کہ وہ بھارت اور پاکستان کے کلچر سے اچھی طرح متعارف نہیں تھی اور اس کی گہرائی میں اس کی نظر کی رسائی نہیں تھی۔
سونیا کی بات تو پرانی ہو گئی گو اس کے نتائج آج ہمارے سامنے ہیں لیکن ہماری بھارت کی غلامی کی تازہ ترین مثال بھارت کے ساتھ کرکٹ کی بحالی ہے۔ بھارت نے اپنے ہاں ہمیں کرکٹ کھیلنے کی دعوت دی ہے اور ہم دسمبر میں بھارت کی حاضری بھریں گے۔ ہم اس دعوت پر آج بہت خوش ہیں جیسے بھارت نے ہمارا نہروں کا بند پانی ہمارے لیے کھول دیا ہے یا کشمیر کے مسئلہ پر کوئی بامعنی پیش رفت ہو گئی ہے۔
کرکٹ کے کھیل کے پیچھے محض ’کھیل‘ نہیں ہے بلکہ ایک سیاسی کھیل ہے جو امریکا کی خواہش یا ہدایت پر کھیلا جا رہا ہے اور ہماری امریکی غلام حکومت بھارت کے ساتھ متوقع کھیل کی کامیابی پر بغلیں بجا رہی ہے کہ کہیں کوئی برف تو پگھل رہی ہے اور کسی انقلاب کا آغاز تو ہو رہا ہے اور یوں برصغیر کی سیاست میں کوئی تبدیلی آنے والی ہے ویسے یہ تبدیلی تو آ چکی ہے یا اس کی آمد شروع ہو چکی ہے مثلاً کشمیر کا مسئلہ جس پر ہم نے آج تک ہر عالمی فورم میں بھارت کو نیچا دکھایا اور اسے لاجواب کیا آج ہماری کسی جماعت کے منشور میں ایسے نہیں ہے جیسے ہوا کرتا تھا،
بس سرسری سا ذکر ہے اور پانی کا مسئلہ جس کے نتیجے میں ہم ایک قحط زدہ قوم ہوں گے ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لیے یہ ایک ثانوی حیثیت کا مسئلہ ہے بلکہ ہمارے کئی بابو سیاستدانوں کو تو اس کا کوئی شعور ہی نہیں ہے۔ ہماری صنعت جس کی کامیاب ترقی میں ہم نے اپنی عمر صرف کر دی اور اس میں کامیاب رہے وہ بجلی گیس کی مصنوعی قلت کی وجہ سے بیٹھ گئی ہے، اب زراعت کا شعبہ بھی آخری دموں پر ہے اور یوں پاکستان کی صنعت و زراعت جس پر ہم زندہ تھے اب ہمارے ہاتھ سے نکل رہی ہے۔ میں اپنی ایک پرانی بات دہراتا ہوں کہ واشنگٹن میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاکستان ڈسک کے افسروں سے ایک پاکستانی ڈاکٹر کے توسط سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے چھوٹتے ہی کہا، تم دنیا کا بہترین زرعی آبپاشی کا نظام رکھتے ہو مگر پھر بھی گندم مانگنے ہمارے پاس آ جاتے ہو۔ ’’اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا‘‘ والا معاملہ بن گیا۔ ہمارے میزبان ڈاکٹر نے بات پلٹ دی ورنہ میں اس دعوت سے بھاگ جاتا۔
ہم محض اپنی کسی بدنیتی کی وجہ سے اور امریکی اور بھارتی پاکستان دشمن خواہشات کی وجہ سے اپنی ترقی کو ختم کرتے جا رہے ہیں بلکہ ختم کر چکے ہیں۔ کہاں ہے اسٹیل ملز‘ ریلوے، پی آئی اے اور بجلی وغیرہ۔ سونیا گاندھی نے تو ثقافتی یلغار کی بات کی تھی لیکن اس اطالوی خاتون کو کیا معلوم کہ ہم صنعتی و زرعی یلغار کے نشانے پر بھی آ چکے ہیں اور مسلسل کسی نہ کسی یلغار کا نشانہ بنتے جا رہے ہیں۔ میں نے ایک کالم کا عنوان پاکستان کو امریکی نو آبادی کا دیا تھا اب اس میں ترمیم کرتا ہوں اور اسے امریکا و بھارتی نو آبادی کا نام دیتا ہوں۔ سچ کہا تھا ہمارے ایک بھارتی صحافی نے دلی کی ایک پرائیویٹ محفل میں کہ پاکستان کی بات نہ کیا کریں چھوڑیں اسے دفع کریں۔ ایک بھارتی کالم نگار نے ایک بار پاکستانی اخبار میں حال ہی میں لکھا کہ اس بات سے بھی ڈر لگتا ہے کہ لاکھوں پاکستانی یلغار کرتے ہوئے کہیں بھارت میں نہ آ جائیں۔ ان کا اشارہ اس مبینہ یلغار کی طرف تھا جو بھارتیوں کے بقول مشرقی پاکستان سے کولکتہ پر ہوئی تھی بنگلہ دیش بننے سے پہلے۔
بھارتی سیاستدان کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں وہ پاکستان کا وجود ختم نہیں کر سکتے اور نہ کرنا چاہتے ہیں کہ اس کا ملبہ وہ برداشت نہ کر پائیں گے لیکن حیرت ہوتی ہے پاکستانی حکمرانوں پر جو بھارتی سیاستدانوں کی پاکستان دشمن خواہشات کے مطابق سرحدوں پر دروازوں اور راستوں کی ایک قطار بنا دینا چاہتے ہیں وہ ریکارڈ پر ہیں کہ صرف واہگہ ہی نہیں کئی راستے ہوں جن سے آمدورفت آسان ہو اور دونوں ملکوں کے کاروباری لوگ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنا مال ادھر ادھر کرتے رہیں،
دکان تو بھارت میں ہو مگر اس کا تھڑا پاکستان میں۔ پاکستان کو زندہ رکھنے مگر بے جان کرنے کا منصوبہ اب امریکا کی نگرانی اور تائید میں زیر عمل ہے۔ فکر نہیں کہ بھارت کے جغادری لیڈروں کے باوجود پاکستان تو بن گیا تھا بلکہ فکر اس بات کی ہے کہ سرحدوں پر نئے دروازے اور راستے اب ہم خود بنا رہے ہیں جن کے اجداد نے بھارتی سیاستدانوں کو زچ کر کے اور شکست دے کر پاکستان بنا دیا تھا اور سرحدوں کو مستحکم کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں