یہ جو پی آئی اے تھی


وہ صاحب کوئی چار برس سے زائد عرصہ تک ایک قومی ادارے کے سربراہ وزیر رہے‘ مکمل بااختیار بلکہ مالک۔ انھیں بعض دوسرے وزراء کی طرح اپنے اس قومی ادارے کی تباہی اور تعمیر کا مکمل اختیار حاصل تھا چنانچہ جب وہ اس ادارے کی سربراہی اور متعلقہ محکمے سے الگ ہوئے تو انھوں نے انکشاف کیا کہ ان کا سابقہ ادارہ بنام پی آئی اے مکمل طور پر بدعنوانی اور کرپشن کا شکار ہو چکا ہے اور یہ کرپشن اس قدر گہری اور وسیع ہے کہ اس کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
یہ تھا ان کی چار سالہ کارکردگی کا احوال یا اس ادارے کی پھانسی کا حکم جو انھوں نے قوم کے سامنے پیش کیا۔ اپنے اس مظلوم ادارے کو سزائے موت دینے والے موصوف خود کیا ہیں ان کے بارے میں ان کے بڑے بھائی اور ایک نیک نام کاروباری شخصیت چوہدری احمد سعید نے ٹی وی پر جو الفاظ کہے میں ان کو نقل کرنا مناسب نہیں سمجھتا کیونکہ ان کے پاس اس کا جواب اور صفائی موجود نہیں ہو گی۔ شکر ہے چوہدری احمد مختار وزیر اعظم بنتے بنتے رہ گئے‘ اگرچہ خراب حال ملک میں کرپشن کی مزید کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اہل ہنر پھر بھی راستے تلاش کر لیتے ہیں۔
ایک لا علاج پٹواری سے نجات پانے کے لیے مشورہ دیا گیا کہ اسے دریا کی لہریں گننے پر لگا دیا جائے وہاں وہ کس سے رشوت لے گا چنانچہ اس مشورے پر عمل ہوا تو کچھ وقت بعد ملاحوں نے شکایت کی کہ وہ ان سے رشوت وصول کرتا ہے۔ تعجب سے پوچھا گیا وہ کیسے تو جواب ملا کہ وہ لہروں کی گنتی کرتا ہے تو اس دوران اگر کوئی کشتی اس طرف آ نکلے اور لہریں بکھر جائیں تو وہ اس جرم میں ملاح سے رشوت لے کر ہی اس کی کشتی کو رہا کرتا ہے۔ اس ہنرمندی کے سامنے مشیر سر پکڑ کر بیٹھ گئے اور پٹواری کو واپس بلا لیا گیا لیکن ہمارے کچھ وزیروںکو نہ جانے کس ہنر میں یکتا ہونے پر دوسری مفید وزارتوں میں بھیجا جاتا ہے اس بارے میں سرکار خاموش ہے۔
پی آئی اے ایک ایسا واحد کاروباری ادارہ ہے جس کا منافع خود اس کے اندر موجود ہے جس ائیرلائن کو ہر سال لاکھوں حاجی اور عمرے کے مسافر ملیں جس کے پاس دنیا بھر میں لاکھوں پاکستانی موجود ہوں جو پی آئی اے نہ ملے تو کسی دوسری ائیرلائن پر بادلِ نخواستہ سفر کرتے ہیں۔ پی آئی اے کے مسافر اپنی کسی حد تک بے قدری کو معاف بھی کرتے ہیں کہ وہ اسے بھی پاکستان کا ایک عمومی وصف سمجھتے ہیں وہ جہاز میں داخل ہوتے ہی سکھ کا سانس لے کر سامان ادھر ادھر پھینک کر کسی بھی سیٹ پر لپکتے ہیں۔
وہ باہر کی سخت نظم و ضبط والی دنیا سے آزاد ہو کر یکدم بہت آسودہ ہو جاتے ہیں اور اپنی اس ائیرلائنز سے پیار کرتے ہیں جو ان کے لیے پاکستان ہے۔ پی آئی اے نے اپنے زمانے میں عرب امارات اور سنگاپور جیسی ائیرلائنز کو منظم کیا اور دنیا کی چار پانچ اولین ہوائی کمپنیوں میں اس کا شمار ہوا۔ موجودہ سربراہ سے پہلے بھی ائیر مارشل پی آئی اے کے سربراہ رہے۔ اصغر خان، نور خان، ظفر چوہدری اور اب رائو صاحب۔ ان لوگوں نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق‘ جو اپنی جگہ بہت اہم تھیں اور قابل تحسین‘ اس پاکستانی ادارے کو آسمانوں تک بلند کر دیا‘ ائیر فورس کی طرح کہ ’’دریاست کہ صحراست تہہ بال و پر ماست‘‘ اور باکمال لوگوں کی لاجواب پرواز کا نعرہ بلند کیا لیکن پھر وہی ہوا کہ نظر کھا گئی زمانے کی۔
ایسے بے رحم لوگ پاکستان پر قابض ہو گئے جو ایسے مفید اداروں کی تلاش میں تھے۔ انھوں نے اسٹیل ملز‘ ریلوے‘ گیس اور بجلی اور پی آئی اے وغیرہ کو اپنی آسامی بنا لیا اور نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ پی آئی اے کو تو خود انھوں نے ہی لاعلاج قرار دے دیا جب کہ ایسی کوئی بات نہیں۔ غلط پالیسیاں اور حیرت انگیز حد تک تنخواہوں نے ادارے کو آسمان سے گرا کر زمین پر بٹھا دیا۔ اسی ائیرلائن اور اس کے اسی پاکستانی عملے کے ساتھ طویل سفر کیے اور خوشنما اور خوش مزاج ائیر ہوسٹسوں کی مسکراہٹوں سے سرشار ہوتے رہے جس پر اب کہیں کسی کور ذوق سے اعتراض بھی کیا جاتا ہے۔
لاہور سے ڈھاکا جا رہے تھے۔ میں ائیر مارشل اصغر خان کے ہمراہ بطور رپورٹر سفر کر رہا تھا۔ راستے میں ایک ائیر ہوسٹس نے مجھ سے کہا کہ سر! آپ ایک مہربانی کریں ائیر مارشل سے کسی طرح کہیں کہ وہ جہاز سے اترتے وقت میری طرف مسکرا کر دیکھ لیں۔ مجھے معلوم تھا کہ ائیر مارشل کسی کے کہے بغیر ہی ضرور مسکرا کر عملے سے الوداع ہوں گے چنانچہ میں نے وعدہ کر لیا اور وہی ہوا جس کی مجھے امید تھی ائیر مارشل صاحب نے مسکراہٹ کے ساتھ اس ائیر ہوسٹس کی طرف بھی دیکھ لیا۔ میں جناب اصغر خان کے پیچھے تھا اس فضائی میزبان نے میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے اس خوبصورت فضائی میزبان کی صرف مسکراہٹ پر ہی اکتفا کر لیا۔ زندگی کے چند پچھتاووں میں ایک اور سہی۔
اب ایک سرگرم اور معاملہ فہم ائیر مارشل رائو صاحب اس ادارے کے سربراہ ہیں۔ کھٹارا جہازوں کے بیڑے کے مالک اور نگراں۔ نیا جہاز تو آج آرڈر کریں تو دو تین برسوں بعد ملتا ہے انھوں نے لیز پر جہاز لینے کا سوچا ہے فوری طور پر یہی علاج ممکن ہے۔ پاکستان کی اس فضائی کمپنی کو ذرا سا سنبھالا دیا جائے اس کے معاملات کو منظم کیا جائے تو جیسا کہ عرض کیا ہے اس کا منافع ایک جماندرو انعام ہے۔ دنیا کی کسی ائیر لائنز کے پاس مسافروں کا اتنا بڑا ہجوم موجود نہیں اور اگر صنعت بھی چل نکلی تو پھر کارگو بھی خوب چلے گا۔ ویسے اب بھی ملک کے اندر اور باہر سیٹ کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے۔ پاکستان زندہ رہنے کے لیے بنا ہے مگر رشوت خوروں اور کرپٹ لوگوں کے لیے نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں