مسلمان تاجروں کو رمضان مبارک


آج کی کافرانہ دنیا میں جب کوئی تہوار آتا ہے اور اس کی وجہ سے خرید و فروخت میں اضافہ ہوتا ہے تو روزمرہ کی اشیاء خصوصاً اس تہوار سے متعلقہ اشیاء کی قیمتوں میں کمی کر دی جاتی ہے بلکہ دکانوں کے باہر سیل کے بڑے بڑے نمایاں بورڈ لگا دیے جاتے ہیں۔ ہر کوئی حسب توفیق سستی خریداری کرتا ہے۔ اشیاء کے معیار میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور نہ ہی تاجرانہ اخلاقیات پر کوئی آنچ آنے دی جاتی ہے۔
چنانچہ اس تہوار کے گزرنے پر دکانیں خالی ہو جاتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ نئی اشیاء سے بھر جاتی ہیں۔ نئی قیمتوں کے ساتھ اور نئے معیار اور کوالٹی کے ساتھ یہ ایک معمول ہے اور ایسا مستقل معمول ہے کہ کئی لوگ ایسی کسی سیل اور تہوار کی آمد کے منتظر رہتے ہیں اور اس کی آمد تک ہاتھ روکے رکھتے ہیں۔ ایسے تہوار ہمارے ہاں بھی آتے ہیں لیکن بالکل برعکس ’’اسلامی‘‘ انداز میں۔
ہمارے ہاں عیدوں کے تہوار کے علاوہ رمضان المبارک کا ایک تہوار ظاہر ہے کہ ہر سال آتا ہے لیکن علماء اور واعظوں کے بقول برکت کے اس مہینے میں ہم عامۃ المسلمین کی جیبوں پر ہی نہیں ان کی کھالوں پر بھی ڈاکا ڈالتے ہیں اور انھیں ننگا کر دیتے ہیں۔ یہ ہمارا اسلامی اخلاق ہے۔ یہ سلسلہ اگر اسی طرح جاری رہا تو نہ اخلاق رہے گا اور نہ مسلمان باقی رہیں گے۔ یہ تاریخ کا اور قدرت کا اصول ہے کہ صرف اچھی چیز ہی باقی رہتی ہے ناقص ختم ہو جاتی ہے۔
رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی ہمارے تاجر صاحبان نے جو اکثر حاجی ہیں ذخیرہ اندوزی شروع کر دی اور اپنی دکانیں ہی نہیں گودام بھی سامان فروخت سے بھر لیے۔ جن اشیاء کا ذخیرہ نہیں ہو سکتا مثلاً سبزیاں‘ پھل وغیرہ ان کے نرخ روزانہ کے حساب سے بڑھائے۔ میرے ایک دوست کی بیوی کا فون آیا جو بازار سے ہو کر آئی تھی کہ افطاری میں حسب معمول سب کچھ ملے گا لیکن فروٹ چاٹ نہیں ملے گی جس کی اشیاء کو ہاتھ نہیں لگایا جا سکتا۔ میری بہو نے بتایا کہ آپ لوگ فروٹ چاٹ کو تبرکاً ہاتھ لگا سکیں گے اور ایک آدھ چمچ ہی لے لیں گے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔
مجھے بیٹی کی فکر ہے جس کے دو بیٹے ماشااﷲ اس سال روزے شروع کر رہے ہیں کہ ان کا کیا ہو گا، ان کی غلطی کہ وہ غلط دور میں جوان ہوئے۔ میں لاہور کے خوشحال لوگوں میں شمار ہوتا ہوں جن کا آٹا دانہ گائوں سے آتا ہے اور تنخواہ بھی اتنی ہے کہ روزہ داروں کی کچھ نہ کچھ خاطر تواضع ممکن ہو جاتی ہے۔ اس سلسلے میں ایک عرض کرتا ہوں کہ رمضان کے مہینے میں پھل فروٹ اور دوسری اشیاء کی پیداوار کم نہیں ہو جاتی اور نہ ہی قدرت کسی تہوار سے ناراض ہو جاتی ہے۔
بات ساری ہمارے قومی کردار اور حرص و ہوس کی ہے جو آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ کہیں کوئی ایسی خبر نہ آ جائے کہ خریداروں نے منڈی میں سامنے پڑے سامان کو لوٹ لیا ہے اور پھر یہ سلسلہ چل نکلے جیسے ان دنوں بینک لوٹنے کا سلسلہ چلا ہوا ہے۔ ہماری تجارتی زندگی میں زوال کی وہ حد آ گئی ہے جب کبھی کسی پرانے دور میں کسی قوم میں آتی تھی تو اس پر خدا کا عذاب نازل ہوتا تھا۔ کتنی ہی عاد و ثمود جیسی قوموں کے کھنڈرات ہم آج دیکھتے ہیں اور ان کی نحوست کا اب بھی یہ حال ہے کہ ان کے قریب سے بھاگ کر گزرتے ہیں۔
پاکستانی قوم میں وہ سب کچھ بلکہ زیادہ موجود ہے جو قوموں پر عذاب الٰہی کا باعث بنتا تھا مثلاً آپ یہاں کوئی میٹر درست دکھا دیں‘ کوئی ناپ تول کا ترازو درست دکھا دیں اور کاروباری عہد و پیماں جو کبھی زبانی کلامی ہوا کرتے تھے اب تحریری صورت میں بھی بے کار ہو گئے ہیں۔ کاروباری لوگ ہاتھ پر کپڑا ڈال کر انگلیوں کے اشاروں کے ذریعے کاروباری معاملے طے کرتے تھے تب بھی یہ مستند ٹھہرتے تھے۔ اب تو ہر بات حد سے گزر چکی ہے۔
حکیم سعید شہید فرمایا کرتے تھے کہ قدرت نے سورہ رحمٰن میں قوموں اور ملکوں کے لیے جتنی نعمتوں کا ذکر کیا ہے پاکستان میں ان سے دو چار زیادہ ہیں اور وہ انھیں گنوایا بھی کرتے تھے۔
آج حکیم صاحب موجود ہوتے تو انھیں بتاتے کہ قدرت نے غلط کار اور گنہ گار قوموں کے جتنے گناہ اور عیب گنوائے ہیں پاکستان میں ان سے چند زیادہ ہی ہیں تو وہ اس سے انکار نہ کرتے بلکہ گھبرا کر ان کی تعداد میں کچھ اضافہ کر دیتے۔ ہمارے علما کو امریکا کے خلاف دفاع پاکستان کے سلسلے میں ایک محاذ قومی خرابیوں کے خلاف بھی کھولنا چاہیے کیونکہ اس سے ان کی ساکھ بن سکتی ہے ورنہ امریکا کے مقابلے میں تو ان کو شرمندگی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ لطیفہ ہے ادھر امریکا کے لیے سامان کے قافلے اور ٹرک چلتے ہیں اور ادھر غیرمتعلقہ راستوں پر علماء کرام کے جلوس جلسے چلتے ہیں۔
اس سال علماء کو ا یک اور شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا اور وہ تھی رویت ہلال پورے ملک میں ایک دن ہی قومی اتفاق سے رمضان شروع ہوا۔ خطرہ ہے کہ اتفاق امت کی یہ کسر عید کے دن پر نکالی جائے گی بہرحال اس بار علما انتشار میں کامیاب نہ ہو سکے۔ کسی نے پوچھا تو عرض کیا کہ معاملات دنیا سے بے دخل علما کے پاس اب یہی مذہبی تہوار اور نکاح و طلاق کے معاملات ہی رہ گئے ہیں، اس لیے وہ ان تہواروں کے موقع پر اپنا اقتدار زندہ کرتے ہیں اور عامۃ المسلمین کو جی بھر کر تنگ کر تے ہیں۔
ایوب خان کے زمانے میں عید کا جھگڑا ہوا تو انتظامیہ جیل سے امام مسجد کو پکڑ لائی، نماز عید کی امامت کے لیے لیکن پہلا سجدہ اس قدر طویل ہو گیا کہ کراچی کے ڈی سی او ہمارے مرحوم دوست ایس کے محمود نے پریشان ہو کر سر اٹھایا تو امام غائب تھا۔ یہ شاید پہلا موقع تھا کہ علماء نے عید کے دن پر حکومت سے اتفاق نہ کیا اور متحد رہے ورنہ ان کا اتحاد ہم نے شاذ و نادر ہی دیکھا ہے، شکر ہے کہ اس بار رمضان المبارک کی آمد پر یہ اتفاق نظر آیا۔ خدا کرے یہ عید پر بھی قائم رہے اور یہ قوم کسی بات پر تو متفق دکھائی دے۔ اب تو صرف گرانی پر ہی متفق ہے اور بازار عوام سے دور ہو گئے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں