دیوار کیا گری…

x`
آنجہانی سوویت یونین کے بعد افغانستان پر قبضے کی کوشش میں مسلسل مصروف دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی طاقت امریکا نے پاکستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کے لیے ذرا سا جھکنے کا انداز بنایا ہی تھا کہ بقول سید منور حسن پاکستان اس سے پہلے ہی جھک کر امریکا کے پائوں پڑ گیا کہ ارے آپ یہ کیا غضب کر رہے ہیں اور سامان رسد کے لیے افغانستان جانے کا راستہ فوراً ہی کھول دیا۔ حالت جنگ میں سامان رسد کو کوئی سا بھی نام دیں وہ جنگی سامان ہی ہوا کرتا ہے۔
یہ راستہ تو مدتوں سے کھلا تھا لیکن اب تو حد ہی ہو گئی، ہم نے اپنے دو اہم ترین راستے جو ملک کے آر پار جاتے ہیں امریکا کو زبانی کلامی نہیں لکھ کر دے دیے۔ اب امریکا اس معاہدے کو دو ملکوں بلکہ نیٹو کے کئی ملکوں کے درمیان ایک عالمی معاہدہ قرار دے کر اس راستے کو اپنے قبضے میں رکھے گا۔ فی الحال تو یہ معاہدہ 2015 ء تک ہے لیکن اس میں توسیع ہوتی رہے گی اور توسیع ہمیشہ طاقت ور کی منشاء کے مطابق ہوتی ہے۔
مجھے تو یوں لگتا ہے ہم نے اپنے وطن کے راستوں کو ایک دشمن کو لکھ کر دے دیا ہے۔ مجھے کیا لگتا ہے یہ تو ایک واقعہ ہے جو ہمارے پریس میں چھپا ہے، کل پاکستان کے ان راستوں سے نہ صرف امریکی بلکہ امریکا کے نام پر بھارتی سامان بھی سفر کرے گا معلوم ہوا ہے کہ ہمیں اس کا کوئی معاوضہ ہی نہیں ملے گا یعنی ہم عزت کے کلچے سے بھی محروم رہیں گے جس کا شکرانہ کبھی امرتسر کے بازار حسن کے ایک چوہدری نے ادا کیا تھا۔ میں نہایت ادب کے ساتھ محترم حکومت سے عرض کروں گا کہ ہم نے آپ کو کیا نہیں دیا اور آپ نے ہمیں کیا دیا۔
ہماری یہ عبرت ناک ’آزادی‘ ہماری ناقابل شکست اور منفرد جغرافیائی طاقت کا نتیجہ ہے۔ ہم بحیثیت قوم کس قدر بھی کمزور کیوں نہ ہوں ہمارا جغرافیہ اس قدر طاقت ور ہے کہ وہ ہماری بقا کے لیے ایک چٹان بن کر کھڑا ہے۔ وہ فصیل کشور ہندوستان کے ہمالیہ کی طرح اس سے بڑا اور مضبوط پہاڑ بن کر سمندر سے افغانستان تک پھیلا ہوا ہے اور ہمیں اپنی تند و توانا بانھوں میں لیے ہوئے ہے۔
سوویت یونین نے کبھی وسطی ایشیا پر قبضہ کر لیا تھا اور اس کی سرحدیں وسطیٰ ایشیا کی ریاست ازبکستان کے راستے افغانستان سے مل گئی تھیں بیچ میں دریائے آمو تھا جو سرحد بنتا تھا لیکن بے چارے امریکا کے پاس دنیا کا سب کچھ تھا افغانستان جانے کا راستہ نہیں تھا۔ کوئی ازبکستان نہیں تھا، یہ راستہ پاکستان کی فصیل سے ہو کر گزرتا تھا۔ ایک ایسا جغرافیہ جو قدرت نے اس ملک کو خود بخود عطا کر دیا تھا۔ ملک خداداد پاکستان۔
یہ جغرافیہ ہماری حفاظت کرتا رہا لیکن افسوس کہ ہم اس جغرافیے کی حفاظت نہ کر سکے اور آج ہم نے اس کے میدانوں اور دروں کو دشمن کے لیے کھول دیا ہے کہ ہماری چھاتی پر سے گزر کر اپنے محاذ جنگ تک جائو، ہماری آزادی کا مذاق اڑاتے جائو اور ہمارے محل وقوع اور جغرافیے کو تاراج کرتے چلو۔ پاکستان کے اقبال نے یہی کہا تھا کہ ہے جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات۔
ہمیں مشرقی پاکستان میں جرم ضعیفی کی ایک تاریخی سزا ملی تھی اب یہ دوسری سزا مل رہی ہے یا اس کا آغاز ہوا ہے۔ کیا قدرت نے یہ سزائیں نافذ کرنے والے جلادوں کو ایک ہی گھر میں پیدا کیا تھا۔ یہ گھر تو عوام کی پارٹی کا گھر تھا جس میں ان کے کسی دشمن کو گزرنے کی مجال نہیں تھی لیکن افسوس کہ جس طرح کل اس گھر میں کسی دوسرے کو سسکنے تک کی اجازت بھی نہیں تھی آج بھی نہیں ہے اس گھر کے باسی بے عقل ہیں یا بے حس کوئی ایک بات ضرور ہے۔
امریکا نے پاکستان کے ساتھ زبردستی جو معاہدہ کیا ہے اس میں اگرچہ یہ بھی ہے کہ ان راستوں سے جنگی سامان نہیں جائے گا لیکن یہ بھی ہے کہ افغانستان کی ضرورت کا سامان جنگ بھی جائے گا اصل بات یہ ہے کہ سب کچھ جائے گا۔ کیا امریکی ڈرون طیارے کسی سے پوچھ کر پاکستانیوں کو قتل کر رہے ہیں آیندہ بھی کوئی نہیں پوچھے گا۔ بہر حال فی الحال آپ کسی بچے سے جغرافیہ کی کتاب مانگ کر دیکھیں کہ کراچی سے چمن اور کراچی سے طورخم کے راستے کہاں سے گزرتے ہیں اور باقی پاکستان کہاں پایا جاتا ہے۔ امریکی چھکڑوں کے اس سفر میں ہم اپنی کروڑوں اربوں روپے کی سڑکیں تباہ کرا چکے ہیں جو بچ گئی ہیں وہ اب ہو جائیں گی لیکن اس معاہدے کی جو معلومات اب تک ملی ہیں ان میں پاکستان کے کسی نقصان کا کوئی ذکر نہیں عزت کا کلچہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔
اطلاعات ملی ہیں کہ بعض شمالی علاقوں میں ان راستوں کے کھلنے کا جشن منایا گیا ہے۔ ایک خاص کاروبار چلے گا ڈالر اور نہ جانے کیا کیا آئے گا۔ لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ایک الگ زندگی گزارتے ہیں۔ واسکٹ بھری رہے باقی سب ٹھیک ہے لیکن مشکل تو ان لوگوں کی ہے جو کراچی سے طورخم اور کراچی سے چمن تک آباد ہیں اور ان راستوں پر چلنے والے ٹرکوں کی دھمک ان کے گھروں تک پہنچے گی۔
ایوب کے زمانے میں جب ون یونٹ کی مخالفت اور حمایت میں تحریک چل رہی تھی تو تعجب ہوا کہ خان عبدالولی خان ون یونٹ کے حامی ہیں۔ میں نے خان صاحب سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہمارے قادر حسن پٹھان کا ٹرک طورخم سے چلتا ہے اور کراچی جا رکتا ہے، میں اس کا یہ راستہ کیسے بند کر دوں۔
اگر خان صاحب زندہ ہوتے تو میں ان کی پیار بھری خدمت میں حاضر ہوتا اور ان سے عرض کرتا کہ اب پٹھان کا ٹرک طورخم سے کراچی کس راستے سے جائے گا۔ لیکن میرا خیال ہے میں احتراماً خان صاحب سے یہ سوال نہ پوچھتا۔ ان کو میں اتنا دکھ نہیں دے سکتا تھا تو خواتین و حضرات آج ہمارے راستوں پر دوسروں کا قبضہ ہے اور یہ قبضہ قانونی ہے، اس قوم نے پاکستانی قوم نے یہ قبضہ لکھ کر دے دیا ہے، پوری دنیا اس کی گواہ ہو گی اقوام متحدہ سمیت۔
دیوار کیا گری میرے کچے مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لیے

اپنا تبصرہ بھیجیں