جہنم کی آگ ساتھ لے جانے والے

x`
آج نواں روزہ ہے جس کی برکت سے میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں۔ ایک ٹھیک ٹھاک‘ فٹ فاٹ گناہگار آدمی ہوں لیکن ایسے گناہ سے بہت ڈرتا اور بچتا ہوں جس سے کسی کی حق تلفی ہوتی ہو کیونکہ اﷲ اپنی نافرمانی تو معاف کر سکتا ہے مگر کسی کا کھایا ہوا حق صرف وہی معاف کر سکتا ہے جو اس حق کا مالک ہے۔
میں یہ تبلیغی الفاظ اپنے دکانداروں کو دیکھ کر لکھ رہا ہوں اور ان کے لیے دعا بھی نہیں کر سکتا کیونکہ یہ صبح و شام نہ جانے کس کس حق دار کا مال کھاتے ہیں اور سامان افطاری کی ناجائز گرانی کے گناہ عظیم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ ان کی بدقسمتی یہ ہے کہ انھیں معلوم بھی نہیں کہ انھوں نے کس کس کا حق مارا ہے اور کس سے معافی مانگ کر اس کا حق واپس کریں۔ اس طرح یہ لوگ اپنے گناہ کا ازالہ بھی نہیں کر سکتے اور یوں اس سے بڑی بدقسمتی اور کوئی نہیں۔
یہ صرف اﷲ کی ذات جانتی ہے کہ کون جنت کا حق دار ہو گا، کون کچھ وقت برزخ میں گزارے گا اور کون جہنم کا ایندھن بنے گا۔ مجھے سندھ کے ایک مجذوب درویش اﷲ وتائیو کی یہ حیران کن بات یاد آتی ہے جب سخت سردی میں اس کی ماں نے سردی سے ٹھٹھر کر بیٹے سے کہا کہ تم خدا کے قریب ہو‘ میرے لیے اور کچھ نہیں تو اس سخت سردی میں جہنم سے تھوڑی سی آگ ہی لے آؤ۔
اس پر اس خدا رسیدہ اور اﷲ تعالیٰ کی حکمت سے دیکھنے والے نے کہا، اماں جہنم میں تو آگ نہیں ہوتی جو وہاں جاتا ہے وہ اپنی آگ خود لے کر جاتا ہے۔ ہمارے دکاندار جنھیں روزہ داروں کی پروا نہیں جو رمضان کے احترام سے بالکل محروم ہیں۔ اﷲ اور اس کے رسول نے جہنم میں جانے والوں کے جن اعمال اور گناہوں کو بیان کیا ہے اور ہمیں ان سے خبردار کیا ہے،
ان کو دیکھیں تو مولوی اور مفتی نہ ہونے کے باوجود میں یہ عرض کروں گا کہ یہ گراں فروش جہنمی ہیں کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے ان کے اعمال کو جہنم کے اعمال قرار دیا ہے اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی امت کو ان گناہوں کی سزا سے خبردار کیا ہے۔
کون کہہ سکتا ہے کہ میں بھی اگر کسی سبزی منڈی کا دکاندار ہوتا تو کیا کرتا لیکن اس وقت تو میں اﷲ و رسول کا فرمان ہی آگے پہنچا سکتا ہوں جو میرا فرض ہے کیونکہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے اور اسے پھیلانا میرا فرض ہے۔
ہمارے بزرگوں نے پاکستان اس حال میں بنایا تھا کہ اس کے قیام پر رشوت خوروں نے رشوت لینی ترک کر دی تھی اور ایک کاشتکار نے قیام پاکستان کے کچھ بعد جب زرعی بینک سے قرض لینے کی کوشش کی اور کلرکوں نے اسے تنگ کرنا شروع کیا تو اس نے ایک دن بینک کے باہر کھڑے ہو کر کہا کہ اگر اسلام نہیں آتا تو یہ ملک نہیں بچتا۔
یہ اس بے گناہ کاشت کار کی فریاد تھی جو کسی نے نہیں سنی اور آج یہ پاکستان نہ اسلامی ہے نہ جمہوری ہے اور نہ وہ پورا پاکستان ہے جو کبھی تھا۔ اس ٹوٹے پھوٹے پاکستان میں ہم اگر کوئی کام شوق کے ساتھ کرتے ہیں تو وہ کسی دوسرے پاکستانی کی حق تلفی ہے۔ پوری زندگی دیکھ لیں اور اپنے ساتھ کھلی اور عام ناانصافی کو محسوس کریں تو آپ کو ہر طرف ظلم اور زیادتی ہی دکھائی دے گی مثلاً ایک وزارت میں مال کھایا گیا اور اتنا کھایا گیا کہ اسے چھپانا مشکل ہو گیا۔
آج بجلی کی لوڈشیڈنگ اسی کرپشن کی سزا ہے جو عوام کو مل رہی ہے اور بالکل درست مل رہی ہے کہ یہ سب ان کا اپنا کیا دھرا ہے، انھوں نے ہی غلط لوگوں کو ووٹ دیے اور اب اسی کی سزا پا رہے ہیں اور پاتے چلے جا رہے ہیں۔ اب الیکشن ہونے کی بات ہو رہی ہے۔ اگر ہوتے ہیں تو یہی امیدوار ہیں اسی قبیل کے لوگ ہماری اسمبلیوں میں کل ہمارا حق کھا رہے ہوں گے بلکہ مار رہے ہوں گے اور ہم پھر گرم سڑکوں پر ہوں گے اور یہ ٹھنڈی موٹرکاروں میں ہوں گے۔ اس حال میں کہ ہم کسی نئے الیکشن کے طلب گار ہوں گے کہ شاید ان کی جگہ اچھے لوگ آ جائیں مگر کیوں اور کیسے۔
ہم نے اپنی آزادی کی زندگی میں ایک طبقہ پال پوس کر جوان کیا ہے جسے ہم اشرافیہ کہتے ہیں اور میں اسے شریف کے مقابلے کے لفظ بدمعاش سے تعبیر کرتے ہوئے بدمعاشیہ کہتا ہوں۔ کاش کہ جمہوریت کے علمبردار نوابزادہ نصراللہ خان زندہ ہوتے تو ہم ان سے بحث کرتے کہ آپ جو ہر مرض کا علاج جمہوریت پھر جمہوریت کہتے ہیں بتائیں کہ اس جمہوریت کو ہم کیا کریں جو ظلم اور زیادتی کا نام بن گئی ہے۔
میں تو جمہوریت کو ملک اور قوم کے لیے خطرناک سمجھنے لگ گیا ہوں۔ مجھے تو کسی ’سلطان عادل‘ کی تلاش ہے جو امت کے چند اچھے لوگوں کی مشاورت سے ملک اور قوم کے معاملات چلائے لیکن اس پر گفتگو پھر ہو گی۔ میں ابھی ذہنی طور پر اس کے لیے تیار نہیں ہوں۔ فی الوقت عرض یہ ہے کہ دکاندار ہوں یا کوئی سرکاری اہلکار خدا کے لیے حق تلفی سے باز رہیں یا صرف اتنی کریں جو قابل برداشت ہو۔ جہنم میں اپنی آگ ساتھ نہ لے جائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں