وہ جو محترم اسکندر مرزا تھے

x`
گزشتہ دنوں ایک کالم میں چند سابقہ حکمرانوں کا ذکر آیا تو کچھ باتیں ایسی بھی درج ہو گئیں جو بعض احباب کو ناگوار گزریں۔ میں اس پر معذرت خواہ ہوں اور اگر تاریخ بگاڑی گئی ہے تو پھر بہت ہی معذرت۔ ان حکمرانوں میں ایک نام جنرل اسکندر مرزا کا بھی تھا۔
میں نے انھیں ان کی بیگم کے ہمراہ گدو بیراج کے افتتاح کے موقع پر کشمور میں دیکھا تھا۔ ان دنوں یہ افواہ گرم تھی کہ ایک اسمگلر قاسم نے بیگم ناہید اسکندر مرزا کو ایک بڑا قیمتی ہار دیا ہے اس کی تصدیق نہ ہو سکی لیکن جلا وطنی کے بعد ظاہر ہو گیا کہ پاکستان کا یہ مطلق حکمران بالکل پھانک تھا۔
لندن میں ایک ہوٹل میں ملازمت بھی کرتا رہا۔ معمولی سی پنشن پر گزارا مشکل تھا۔ یہ بات ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہے کہ ہمارا کوئی حکمران بعد میں غریب بھی نکلا۔ اسکندر مرزا غالباً دکن کے میر صادق کی اولاد میں سے تھے چنانچہ ان کے دور میں ایک مضمون چھپا کہ ان کے بزرگوں نے فرانسیسیوں سے مل کر انگریزوں کی مخالفت کی تھی۔ اسی مضمون سے پتہ چلا کہ وہ مشہور شخصیت ’از دکن والے‘ میر صادق کی اولاد تھے۔
بہر حال زمانہ گزر گیا جو لوگ اچھے تھے ان کی اچھائیوں کو ظاہر کرنا لازم ہے۔ مراسلہ نگار کی مہربانی کہ انھوں نے مرحوم کی کئی اچھی باتوں اور کاموں کا ذکر کر کے حق ادا کیا اور میری رہنمائی کی جس پر میں ان کا شکر گزار ہوں۔ اب ان کا خط ملاحظہ فرمائیے جس میں کوئی بات حذف نہیں کی گئی۔
اسلام آباد
15 جولائی 2012
جناب محترم قادر حسن صاحب
السلامُ علیکم
آپ کا کالم ’پاکستان کا غدار‘ پڑھ کر بہت کچھ سامنے آیا‘ کہ تاریخ کو کیسے کیسے مسخ کیا جا رہا ہے‘ آپ نے اسکندر مرزا اور ایوب خان کے متعلق جو کچھ لکھا ہے‘ وہ آپ جیسی شخصیت کے شایاں شان نہیں ہے۔
آپ 1954ء کو یاد کیجیے‘ جگتو فرنٹ نے مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کا صفایا کر دیا تھا‘ مولوی فضل الحق نے سول نافرمانی شروع کر دی تھی اور Greater Bengal کے نعرے لگ رہے تھے‘ اس وقت اسکندر مرزا کو بنگال کا گورنر بنا کر بھیجا گیا۔ اس عظیم محب وطن نے نہ صرف بنگال کے حالات کو کنٹرول کیا بلکہ ممکنہ حد تک امن و امان قائم کر دیا اور صرف چار ماہ میں وہاں پاکستان زندہ باد کے نعرے لگنے شروع ہو گئے۔
پاکستان کی افواج کی تعمیر نو میں اس محسن پاکستان نے دن رات ایک کر دیے۔ کھاریاں کی عظیم چھائونی کس نے بنائی‘ پاکستان نیوی کو اپنے قدموں پر کس نے کھڑا کیا‘ پاکستان ایئر فورس کو نئے انداز سے کس نے منظم کیا‘ خدا کا خوف کریں اور کسی کو غدار کہنے سے پہلے یہ دیکھیں کہ کس نے غلام محمد کو مارشل لاء لگانے سے روکے رکھا‘
پاکستان کو بے شمار مسائل سے کس نے نکالا‘ جب جونا گڑھ‘ منادر کشمیر اور حیدر آباد پر ہندوستان نے قبضہ کیا تو کون تھا جو دن رات حیدر آباد دکن کو اسلحہ وغیرہ پہنچاتا رہا‘ وہ کون تھا جو لاہور میں حکومتی نااہلی پر ازخود ایکشن لے کر عمل کرتا رہا‘ کون تھا جو افغانستان‘ پاکستان اور ایران کو ایک مضبوط کنفیڈریشن میں پرونے کی کوشش کر رہا تھا‘ جو پاکستان کو ایک جدید‘ ترقی یافتہ ملک بنانے کی بنیاد رکھ رہے تھے‘ وہ پہلے مسلمان تھے جو Sandhurst سے برطانوی فوج میں آفیسر بنے اور پھر اپنے کردار اور قابلیت سے ترقی کی منازل طے کرتے گئے۔
ایوب خان کے متعلق بھی آپ نے یہی کچھ لکھا‘ افسوس کہ تعصب سے کسی کی خوبی‘ اچھائی وغیرہ سب کچھ بھلا کر محض مخالفت برائے مخالفت میں ’غدار‘ کہنا مناسب نہیں‘ وہ انسان تھے‘ فرشتہ نہیں‘ غلام محمد بیراج کس نے بنایا؟
منگلا ڈیم‘ تربیلا ڈیم کس نے بنایا‘ نئی یونیورسٹیاں کس نے بنائیں‘ Satellite Towns کس نے بنائے‘ ڈالر 5 روپیہ سے نہ بڑھا‘ (دس سال) اسپتال کس نے بنائے‘ پانی کا انتظام کس نے کیا‘ زرعی اصلاحات کس نے کیں؟
دیگر ان گنت کام ان لوگوں نے کیے‘ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے پاکستان کو کچھ دیا‘ کچھ بنایا‘ اور آخر میں 325 پونڈ پنشن لے کے جلا وطنی میں زندگی گزاری‘ خدا کے لیے یہ قوم کے محسن تھے‘ معمار تھے‘ اور پاکستان کے لیے ان کی خدمات کی تعریف آپ جیسا بڑا صحافی بھی نہ کرے تو کم از کم ان کی کردار کشی اور ’غدار‘ کا لقب دینا کسی طور مناسب نہیں‘ غدار تو وہ ہیں جو ملک کو تباہ کر رہے ہیں جو کالجوں کو یونیورسٹی بنا کر سمجھ رہے ہیں کہ بڑا کارنامہ انجام دے دیا‘ گورنمنٹ کالج‘ ایف سی کالج اور لاتعداد دوسرے کالجز کو یونیورسٹی بنا کر سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے یونیورسٹیوں میں اضافہ کر دیا‘
آپ یہ دیکھیں کہ
Future is not a closed book. What is happening in future is very much determined by what is happening now!
امید ہے آپ ان گزارشات کا نوٹس لیں گے۔
آپ کا مخلص
میاں محمود احمد آفتاب

اپنا تبصرہ بھیجیں