سیاست یا انسانی خدمت

x`
اس حقیقت کے باوجود کہ پیپلز پارٹی کی عوامی حکومت نے پاکستان کو رشوت بدعنوانی اور کرپشن کا عالمی مرکز بنا دیا ہے اور غضب یہ کیا ہے کہ یہ کام علانیہ کیا جاتا ہے مثلاً اگر کوئی وزیر مسلم طور پر کرپٹ ہو تو اسے ترقی دی جاتی ہے اور اگر کوئی افسر کرپٹ ہو تو اسے اونچے گھروں میں کوئی عہدہ دے دیا جاتا ہے اور بھی اتنا کچھ ہوتا ہے کہ اس دور میں جب اچھے ملکوں میں کسی سیاستدان کے لیے ذرا سی کوتاہی بھی اس کی سیاست کو لے ڈوبتی ہے ہمارے ہاں سیاستدانوں کی کوتاہیاں ایک انعام بن جاتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود قوم میں زندگی کی رمق ابھی باقی ہے اور اس کے کئی افراد نہا دھو کر قومی زندگی میں انسانی خدمت کا مینار بنے ہوئے ہیں۔
یہ وہ لاتعداد لوگ ہیں جو نیک کاموں کے لیے چندہ دیتے ہیں اور نہ نام ظاہر کرتے ہیں نہ اس کی رسید لیتے ہیں۔ میں نے ایسے ایمان پرور مناظر بارہا دیکھے ہیں جن کو دیکھ کر اس ملک اور قوم پر میرا ایمان تازہ ہوا ہے۔ امید بندھی ہے اور میں حتی الوسع پھر سے اپنے کام میں جُت گیا ہوں۔ مدت ہوئی کہ ایک بار عبدالستار ایدھی نے کہا کہ سرمایہ کی تو فکر نہیں بہت ہے لیکن اس کو لگانے کے لیے اہل اور موزوں افراد کی قلت ہے ایک مثال لاہور میں شوکت خانم اسپتال ہے اس میں غریب ترین مریضوں کا علاج بھی اس طرح ہوتا دیکھا ہے
جیسا ان کے برابر میں کسی رئیس کا علاج ہو رہا تھا اور بے حد مہنگا علاج۔ یہ علاج ہم سب مل جل کر کرتے ہیں اور عمران خان ہمارا کامیاب مینجر ہے جو اس سرمائے کو صحیح جگہ صحیح انداز میں لگاتا ہے۔ ایدھی صاحب بھی کبھی سیاست میں آئے تھے لیکن وہ یونین کونسل کی سیاست میں بھی ضمانت ضبط کرا بیٹھے۔ عمران وج گج کے سیاست میں آ رہا ہے لیکن انسانی خدمت اور اس کے بدلے مخدوم زماں بننے کے بجائے وہ سیاست کی آزمائش میں آنا چاہتا ہے تو اس کا ایک نتیجہ فوری طور پر یہ نکلا ہے کہ اس کا محترم اور مقدس ادارہ زیر بحث آ گیا ہے اور سیاسی انداز میں اسے کوچہ بازار میں گھسیٹا جا رہا ہے۔
عمران خان اپنے ساتھ اس کی جو مرضی ہو وہ کرے لیکن شوکت خانم اسپتال جیسے منفرد قومی ادارے کو تباہ نہ کرے۔ ایدھی اور عمران کی طرح کی ایک تیسری قومی شخصیت جس کا مقام و مرتبہ اپنے کارنامے کی وجہ سے ان سے اونچا ہے وہ بھی سیاست کے شوق میں سیاستدانوں کے ہتھے چڑھ رہا ہے یہ ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان میرے ہیرو میں نے ان کو ہیرو بنانے میں آمروں کی مار بھی کھائی ہے۔ ان دنوں پاکستانی ایٹم بم کے خلاف ایک عالمی سازش شروع ہو رہی ہے اور اس کا آسان آغاز ڈاکٹر صاحب کی ذات سے کیا گیا ہے۔
کچھ چالاک عیار اور امریکی ایجنٹ لوگ اور کچھ نادان اور معصوم لوگ ان کے ساتھ لگا دیے گئے ہیں لیکن یہ ایک طویل موضوع ہے اس پر بات بعد میں ہو گی فی الحال عرض یہ ہے کہ سیاست اور متوقع اقتدار میں نہ جانے کیا اتنی بلا کی کشش ہے کہ لوگ عوامی تخت و تاج کو اس کے لیے چھوڑ رہے ہیں اور پھر اس کی کوئی ضمانت بھی نہیں کہ یہ منزل بھی نصیب بھی ہو گی یا نہیں۔
خیراتی اداروں کی طرف سے بے شمار خطوط اور اپیلیں موصول ہوتی ہیں مگر میں تامل کا شکار رہتا ہوں۔ تسلی نہیں ہوتی کہ یہ ادارہ جینوئن ہے یا نہیں۔ یتیموں کی فلاح کے لیے کام کرنے والا الخدمت فائونڈیشن نام کا ادارہ مجھے نظر بظاہر درست معلوم ہوتا ہے چنانچہ میں اس ادارے کی طرف سے موصول ہونے والی معلومات آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یتیموں کی خدمت کے لیے یہ ادارہ کیا کر رہا ہے یہ ملاحظہ فرمائیں۔
کفالت یتیم کے سلسلے کی چند آیات اور احادیث
٭ ’’اور (نیک لوگ) اللہ کی محبت میں مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں‘‘۔(سورہ الانسان۔ ۸)
٭ ’’لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں۔ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر‘ رشتے داروں پر‘ یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو اور جو بھلائی بھی تم کرو گے‘ اللہ اس سے باخبر ہو گا‘‘۔(البقرہ۔۵۱۲)
٭ ‘‘اور تم سب اللہ کی بندگی کرو‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو۔ ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرو اور قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو‘‘۔ (النساء۔۶۳)
٭ ’’اﷲ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ سکے گی‘‘۔ (النساء۔۷۲۱)
٭ ’’پس تم یتیم پر سختی نہ کرو‘‘۔ (الضحی۔۹)
احادیث
٭جس کسی نے یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھا تو اس کے ہاتھ کے نیچے آنے والے بالوں کے برابر نیکیاں اس کے حق میں لکھ دی جائیں گی۔
٭ جو شخص یتیم کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آیا تو قیامت کے روز میں اور وہ ان دو انگلیوں کی مانند ہوں گے اور اپنی شہادت اور درمیان والی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
٭ کیا تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو تو مسکین کو کھانا کھلائو اور یتیم کے سر پر دست شفقت رکھو۔
٭ جس کسی نے اﷲ کی رضا کے لیے یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کے ہاتھ سے گزرنے والے بالوں کے برابر نیکیاں اس کے حق میں لکھ دی جائیں گی اور جو شخص یتیم کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آیا تو قیامت کے روز میں اور وہ ان دو انگلیوں کی مانند ہوں گے اور شہادت اور درمیان والی انگلی کی طرف اشارہ کیا۔
گزشتہ عشرے میں آنے والے خوفناک زلزلے‘ تباہ کن سیلاب اور ملک کے مختلف حصوں میں جاری طویل عرصے سے فوجی آپریشن نے عوام الناس کی کثیر تعداد کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایسے میں پھول سے زیادہ نازک بچوں کی ایک بڑی تعداد اپنے خاندان کے کفیل سے محروم ہو چکی ہے۔ یونیسف (Unicef) کے مطابق پاکستان میں بیالیس لاکھ کی ایک بڑی تعداد اپنے خاندان کے کفیل سے محروم ہو چکی ہے‘ جن کی عمریں17سال سے کم ہیں۔ الخدمت فائونڈیشن پاکستان بے سہارا اور یتیم بچوں کی خدمت میں مصروف عمل ہے۔ مستقبل کے ان معماروں کے لیے الخدمت فائونڈیشن پاکستان نے آر فن کیئر پروگرام (Orphan Care Program) کا آغاز کر دیا ہے۔
٭الخدمت فائونڈیشن پاکستان کے تحت یتیم بچوں کی کفالت ویسے تو 2002ء سے کی جا رہی ہے۔
٭ ضلع اٹک میں قائم یتیم بچوں کے لیے الخدمت کے پہلے پروجیکٹ ’’آغوش‘‘ میں ان بچوں کا تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ صحت اور خوراک کی مد میں مناسب مالی مدد فراہم کی جاتی رہی ہے۔
٭ لیکن 2005ء میں آنے والے کشمیر اور خیبر پختونخوا میں ہولناک زلزلے کے بعد ’’آغوش‘‘ پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اکتوبر 2005ء کے ہولناک زلزلے نے جہاں آزاد کشمیر اور صوبہ سرحد کے 9 اضلاع کے مکمل انفرااسٹرکچر کو تباہ کر کے لاکھوں افراد کو متاثر کیا وہیں اس کے نتیجے میں ہزاروں معصوم بچے بھی اپنے والدین کی شفقت اور آغوش سے محروم ہو گئے۔
٭ زلزلے کی ہولناک تباہی اور اپنے والدین اور دیگر عزیزوں کی نعشیں دیکھ کر پھولوں کی مانند بچے کملا کر رہ گئے اور ان کے چہروں سے مسکراہٹ گم ہو گئی۔ الخدمت فائونڈیشن نے ایسی معصوم کلیوں کے لیے محبت و شفقت کے پاکیزہ جذبات کی آبیاری اور ان کے چہروں کی کھوئی ہوئی مسکراہٹ لوٹانے کے لیے آغوش نام کے اداروں کے قیام کا منصوبہ بنایا۔
٭ اس وقت آغوش میں 210 بچے قیام پذیر ہیں جن میں زلزلہ زدہ علاقوں سمیت مقامی اور چند دیگر شہروں کے یتامیٰ بھی شامل ہیں جن کی کفالت کرنے والا کوئی نہیں۔
٭ آغوش جدید طرز پر قائم کردہ 2 بلاک پر مشتمل شاندار عمارت ہے۔ ابوبکر بلاک میں نرسری سے لے کر پانچویں کلاس تک کے بچے رہائش پذیر ہیں جب کہ عمر بلاک میں چھٹی سے لے کر میٹرک تک بچوں کی رہائش ہے۔
٭ آغوش کا مکمل نظام کیڈٹ کالج کی طرز پر ہے۔
٭اس ماں جیسی آغوش عمارت میں ان بچوں کے لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ انتظامی عملہ موجود ہے۔ بچوں کے لیے نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں کے لیے صحت مند ماحول موجود ہے۔
٭ عمارت میں کمپیوٹر لیب‘ اسپورٹس گرائونڈ‘ ان ڈور گیمز اور بچوں کی نفسیاتی بحالی کے لیے مختلف لیکچرز اور تعلیمی ٹورز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
٭ آغوش میں ان بچوں کے قیام و طعام‘ تعلیم و صحت‘ ذہنی و جسمانی نشوونما کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا گیا ہے۔
٭ الخدمت فائونڈیشن نے آغوش میں جس بات کو خاص اہمیت دی وہ یہ ہے کہ بچوں کو یہ احساس نہ ہو کہ یتیم ہونا خدانخواستہ کوئی بری بات ہے۔
آغوش مری:
٭ الخدمت فائونڈیشن کے ہی زیر اہتمام یتیم بچوں کی کفالت کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اسلام آباد کے قریب مری ایکسپریس وے صرف 40 منٹ کی ڈرائیو پر 45 کنال کا قطعہ اراضی حاصل کر لیا گیا ہے۔
٭آغوش مری میں 400 یتیم بچوں کے لیے 510 ملین روپے سے منصوبہ پر کام جاری ہے جس میں اکیڈمک بلاک‘ ہاسٹل بلاک‘ شاپنگ ایریا‘ اسٹاف کے لیے رہائشی بلاک‘ مسجد اسلامک سینٹر اور میڈیکل سینٹر شامل ہیں۔
٭الخدمت آغوش مری میں بچوں کی تعلیم و تربیت کے ساتھ ساتھ ان کو ٹیکنیکل ٹریننگ کے اہتمام کا ارادہ رکھتی ہے تاکہ وہ آغوش سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد معاشرے کا صحت مند اور سود مند چہرہ ثابت ہو کر ملک کی ترقی میں کردار ادا کر سکیں۔
٭ الخدمت فائونڈیشن ملک کے بڑے شہروں میں آغوش الخدمت سینٹرز کے قیام کا عزم رکھتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں