عمران… دھکا کس نے دیا

x`
چند برس پہلے کی بات ہے کہ میں اپنے ایک دوست کے ساتھ شاہ عالمی گیٹ جانے کے لیے باہر سرکلر روڈ پر مسجد شب بھر کے قریب کھڑا گپ لڑا رہا تھا کہ موچی دروازے کے باہر ذرا سی ہلچل ہوئی اور تھوڑی دیر بعد ایک خوبصورت جوان جو اس شہر کا ہیرو نمبر ون تھا کچھ ساتھیوں کے ہمراہ ٹہلتا ہوا مسجد شب بھر کے قریب آ کر رک گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک ہجوم جمع ہو گیا اور لوگ آ گے بڑھ بڑھ کر اپنے ہیرو کو دیکھنے اور اسے کچھ تحفے دینے لگے۔ اتنے میں ایک صاحب نے قریب ہی اپنا اسکوٹر روکا‘ جیب میں سے پرس نکالا پھر بیوی سے کہا اور اس نے اپنے شوہر کے سامنے اپنا پرس کھول دیا۔
اس میں سے بھی کچھ رقم نکالی گئی اور خاص بات یہ ہوئی کہ شوہر نے بیوی کی کلائی پکڑ لی اور اس میں سے سونے کی ایک چوڑی اتار لی۔ بیوی یہ دیکھتے رہ گئی، اس نے چوڑی سمیت تمام رقم سامنے کھڑے عمران کو سلام دعا کیے بغیر دے دی اور واپس آ کر اسکوٹر پر جہاں جانا تھا چلا گیا۔ نہ کوئی اعتراف نہ کوئی رسید، کچھ بھی نہیں سوائے ایک اعتماد کے اور اپنے اوپر صحیح جگہ پر یہ چندہ دینے کی نیکی کے۔ قریب کی ’’مسجد شب بھر‘‘ اس لیے کہلائی کہ مسلمانوں نے کبھی ضد میں آ کر راتوں رات تعمیر کر دی تھی اور اقبال نے کہا کہ
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے ایسی ہی ایک مسجد اس جگہ سے کئی کلومیٹر دور نئے لاہور کی ایک نئی آبادی میں عمران خان تعمیر کر رہا تھا۔ مسجد شب بھر سے اذانیں بلند ہوتی ہیں اور شوکت خانم اسپتال سے نادار مریضوں کی دعائیں۔ دونوں کا مخاطب اﷲ تبارک و تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے جس کے بندے اپنے اپنے انداز میں اسے بلاتے ہیں۔ وہ ان کی سنتا ہے اور اپنی بے پایاں رحمت سے اس کا جواب دیتا ہے۔ شوکت خانم کینسر اسپتال مریضوں کی دعاؤں کا ایک زندہ ثمر ہے‘ ماں کی محبت میں تعمیر کیا گیا ایک تاج محل‘ بیمار خلق خدا کا شفاخانہ‘
آگرہ کے شاہی تاج محل کا ایک نعم البدل جو مغلوں کے لاہور کے حصے میں آیا۔ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ آگرہ کا تاج محل دیکھ کر ایک صدر نے کہا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں، ایک وہ جنہوں نے تاج محل دیکھا ہے اور ایک وہ جنہوں نے تاج محل نہیں دیکھا۔ تاج محل کی طرح زندہ رہنے والے اس تاریخی جملے کو دنیا لے اڑی لیکن لاہور کے انسانی خدمت کے اس تاج محل پر آج گولہ باری ہو رہی ہے۔ ہم سرطان جیسے انتہائی موذی مرض کے ایک مثالی شفاخانے کی اینٹ سے اینٹ بجانے کی فکر میں ہیں۔ کچھ لوگ اپنی سیاست کے شوق میں اندھے اور بے حس ہو چکے ہیں۔ مجھے رحم آتا ہے پروفیسر ڈاکٹر فیصل سلطان پر جس کا دوسرا نام یہ اسپتال ہے‘
وہ رو پیٹ رہا ہے کیونکہ اسے ہم سب سے تمام سیاست دانوں سے زیادہ معلوم ہے کہ یہ شفاخانہ اس ملک کے عوام کے لیے کتنی بڑی نعمت اور قدرت کا کتنا خاص الخاص انعام ہے۔ وہ دن رات سرطان کے درد میں تڑپتے ہوئے مریضوں کو دیکھتا ہے جن کا سوائے اﷲ کی ذات کے کوئی آسرا نہیں ہوتا سوائے اس اسپتال کے جو اﷲ تعالیٰ نے اپنی دکھی مخلوق کے لیے قائم کرنے کی منظوری دی ہے۔ بدقسمت ہیں وہ لوگ جنہوں نے یہ اسپتال نہیں دیکھا یعنی اس کی کوئی خدمت نہیں کی۔
ابھی کل ہی میں نے عمران خان کی سیاست میں آمد پر ماتم کیا ہے۔ اسے خدا نے جو عزت اس اسپتال کی صورت میں دی ہے، اس کا اس کی نسلیں بھی تصور نہیں کر سکتیں۔ کھلاڑی کئی آئے اور گزر گئے۔ کھیل کے علاوہ اس کے پاس کیا تھا سوائے اس شادی کے جس پر خاموش ہی رہیں تو بہتر ہے لیکن خدا نے اس کی کسی نیکی اور خلوص کے کسی جذبے کو اس قدر پذیرائی بخشی کہ اسے ایک پوری قوم کا ہیرو بنا دیا جس کو میلی آنکھ سے دیکھنا بھی گناہ تھا۔
کوئی پاکستانی اس کی بے حرمتی کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا۔ کرکٹ میں بہت بڑے کارنامے اور پھر اس اسپتال جیسے قابل رشک ادارے کا قیام کسی کو اس دنیا میں اور کیا چاہیے لیکن انسان ناشکرا بھی ہے اور بے صبرا بھی۔ خدا جانے قدرت عمران کی کس حرکت سے ناراض ہوئی کہ اسے پاکستانی سیاست کی غلاظت میں دھکیل دیا۔ اب ہر زبان کھل گئی ہے۔ آخر وہ کتنے لکھاری اور کارکن رکھے گا جو اس پر الزامات کا جواب دیا کریں گے۔
الزامات کا ایک طوفان ہے جو امنڈ آیا ہے۔ سچے اور جھوٹے ہر طرح کے الزامات۔ جو لوگ عمران خان کی بے پناہ سیاسی اٹھان سے خوفزدہ تھے انھوں نے اسے آسانی کے ساتھ اپنے جال میں پھنسا لیا ہے۔ اب وہ بھی ایک سیاست دان ہے۔ بے شمار نیک نام اور بدنام سیاستدانوں کی طرح ہر تماش بین سیاست دان اور کسی سیاسی منچلے کے نشانے پر۔ عمران خان کے کسی مفروضہ سونامی کی چہرہ نمائی ہی نہیں ہوئی کہ کسی سیاسی اچکے نے اس کا نقاب اتار کر پھینک دیا ہے۔ سیاست کے اندھیروں میں روشنی کی ایک تیز کرن دکھائی دی تھی مگر
وہی ہوا کہ نظر کھا گئی زمانے کی
آج بے شمار پاکستانیوں کے لیے عمران بھی ایک اور سیاست دان ہے۔ برطانیہ کی ایک مشہور موٹر کار مارس کا 100 برس بعد نیا ماڈل لانے کا پروگرام بنا تو سوال پیدا ہوا کہ اس کا نام کیا رکھا جائے۔ ایک ذہین نے کہا ’’ایک اور مارس‘‘ ۔
آج عمران خان ایک اور مارس ہیں۔ ایک اور سیاست دان جو حریف سیاست دانوں کے نشانے پر ہے۔ مجھے ایک اچھے پاکستانی کے کھو جانے کا دکھ ہے البتہ میں اس شخص کی تلاش میں ہوں جس نے اسے دھکا دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں