گپ شپ

x`
ہمارے پرانے دوست بھارتی ہندوئوں نے جب سے پاکستانیوں کو اپنے ہاں سرمایہ کاری کی پیش کش کی ہے یا دانہ ڈالا تب سے ہمارے پاکستانی بھارتی دوست بہت خوش ہی نہیں بے تاب بھی ہیں کہ وہ دن کب آئے گا جب پاکستانی رہی سہی صنعت بھی اکھاڑ کر بھارت لے جائیں گے جیسے وہ اس سے قبل بنگلہ دیش وغیرہ لے جا چکے ہیں۔
فی الوقت اگرچہ اس سمت میں ابھی تک پیش رفت نہیں ہوئی صرف انتظار کی بے قراری ہے لیکن راستہ کُھل گیا ہے اگر آج بھارت کے پیاز ہماری دیگچی میں اور ہمارے گھی میں تڑپ رہے ہیں تو کل بھارت کی ٹرینیں بھی ہمارے ریلوے اسٹیشنوں پر سیٹیاں بجارہی ہوں گی اور عین ممکن ہمارے اسٹیشنوں پر انگریزوں کے زمانے کے ہندو مسلم پانی کے الگ الگ گھڑے بھی رکھے ہوں۔
لیکن مجھے ایوب خان کے سیکریٹری اطلاعات الطاف گوہر کی بات یاد آئی ہے جب 1965 کی جنگ کے موقعے پر وہ صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے تو کسی صحافی نے کہا کہ بھارت نے لاہور پر قبضہ کر لیا تو کیا ہو گا،
ان دنوں ایسی باتیں ہوا کرتی تھیں، اس کے جواب میں الطاف گوہر نے کہا کہ پھر میں تو نہیں ہوں گا جو کوئی ہو گا اس سے پوچھیے گا۔ بھارت جس کالعدم پاکستان کا تصور رکھتا ہے کہ سرحدیں تو ہوں لیکن دیواروں کے بغیر اس پاکستان کو دیکھنے کے لیے میں تو یقیناً نہیں ہوں گا اور ہمارے کچھ بدبخت ساتھی بھی اگر پاکستانی بن کر سوچیں تو وہ بھی اپنی باعزت آزادانہ حیثیت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
میں نے پرانے ہندو دیکھے ہیں مگر میں بچہ تھا میں نے آج کے رعونت بھرے ہندو بھارت جا کر دیکھے ہیں ،کوئی غیرت مند پاکستانی ان کے ساتھ گزر بسر نہیں کر سکتا سوائے ان لوگوں کے جو محض پاکستان کی حدود میں رہ جانے کی وجہ سے پاکستانی کہلاتے ہیں یا پھر کسی دوسری وجہ سے پاکستان کو قبول نہیں کرتے۔ میں اپنے دوست پھنے خان کالم نویسوں سے عرض کرتا ہوں کہ وہ کچھ پلے سے دے کر بھی کسی بھارتی اخبار میں باقاعدگی کے ساتھ چند سطریں بھی چھپوا دیا کریں تو میں سیاست معاف کیجیے گا
کالم نویسی چھوڑ دوں گا جو کسی سیاستدان کے سیاست چھوڑنے سے بہت زیادہ مشکل کام ہے ویسے ہمارے کئی سیاستدان ایسے ہیں کہ جب کبھی وہ سیاست چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہیں تو جی چاہتا ہے ہار سنگھار لے کر ان کے پاس پہنچ جائیں اور پوری قوم کی طرف سے ان کا شکریہ ادا کریں۔ یہ بات بہت لمبی ہے کیونکہ موضوع عوام اور قارئین کے لیے بہت دلچسپ ہے، فی الحال میں بھتہ گیری کا ذکر کرتا ہوں جس نے کراچی کے شہر کو اپنی خوفناک لپیٹ میں لے لیا ہے،
یہ تو کوئی کراچی کا مورخ ہی بتائے گا کہ بھتہ گیری کی ابتدا کہاں سے ہوئی، کیسے ہوئی اور کس نے کی فی الوقت تو ایم کیو ایم نے اس بدی کے خلاف جہاد کا علم بلند کر رکھا ہے۔ بے اختیار ایک مصرع یاد آتا ہے کہ ع پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے۔ اﷲ تعالیٰ ایم کیو ایم کو اس کے بھائی جان لیڈر سمیت کامیاب کرے کیونکہ لندن سے بھی ایسے ہی خوش کن پیغامات آ رہے ہیں۔ ایک اور مصرع بھی ع تری آواز مکے اور مدینے۔
ہمارے وفاقی وزیر بجلی نے فیصلہ کن اعلان کیا ہے کہ اب بجلی کی غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے علانیہ اور غیرعلانیہ کا مسئلہ ایک مدت سے چل رہا ہے لیکن میں ان کروڑوں پاکستانیوں میں سے ہوں جن کو بجلی کی علانیہ اور غیرعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فرق معلوم نہیں۔ علانیہ اور غیرعلانیہ دونوں صورتوں میں بجلی بند ہی ہوتی ہے۔ بلوچستان کے موٹر سائیکل سواری کے شوقین نکتہ سنج وزیر اعلیٰ کے بقول بجلی کی لوڈشیڈنگ ایک ہی ہوتی ہے علانیہ ہو یا غیرعلانیہ۔
افسوس کہ ہم اپنے اس لیڈر کی بلاغت اور نکتہ آفرینی پر زیادہ توجہ نہیں دیتے اسے بالعموم ایک لطیفہ سمجھتے ہیں حالانکہ اس میں معنی کے جو دریا رواں ہیں ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔ انھوں نے ایک بار کہا تھا اور کیا خوب کہا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کیسے حل ہوں، وزیر اعلیٰ بھی نواب اور گورنر بھی نواب۔ انھوں نے چند لفظوں میں بلوچستان کے پیچیدہ مسئلے کا حل نکال کر قوم کے سامنے رکھ دیا یعنی اگر آپ حکومت نوابوں کو دیں گے تو وہ عوام کے مسئلے کیسے حل کریں گے۔ کسی نواب کا عوام سے کیا تعلق۔
بلوچستان کا اصل مسئلہ ہی یہی نوابی مسئلہ ہے مگر اس پر بوجوہ لکھا نہیں جا سکتا۔ بھٹو صاحب نے ترنگ میں آ کر ایک بار سرداری نظام کو ختم کرنے کا اعلان کیا۔ برطانوی دور میں کچھ لوگوں کو سردار تسلیم کر کے ان کے درجہ بدرجہ وظیفے بھی مقرر کیے گئے تھے۔ میں نے مرحوم بگٹی صاحب سے ایک بار اس کا ذکر کیا تو انھوں نے ایک بلند قہقہہ لگایا اور بتایا کہ ہمارے ہاں ایسے ایسے سردار بھی ہیں جن کا سالانہ وظیفہ چند روپے ہے۔
یہ بند کر دیں تو فرق کیا پڑے گا۔ پاکستان عامتہ المسلمین کا ملک تھا اور ان کے کلچر اور نظریات کی ترویج کے لیے بنایا گیا تھا لیکن ہم نے پاکستان کے ساتھ مذاق کیا اور انگریز کے نظام کو جوں کا توں باقی رکھا بلکہ برطانوی دور کے سیاسی لیڈروں کو بھی باقی رہنے دیا ،آج جو اشرافیہ ہے اس کے بزرگ ہی برطانوی دور کے پروردہ لیڈر تھے ،کل ان کی اولاد لیڈر ہو گی اور یہ سلسلہ ملک کی تباہی تک چلتا رہے گا۔ ایک آیت کریمہ یاد آئی ہے کہ تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔
میں آج اپنے خیمہ بر دوش وزیر اعلیٰ پر لکھنا چاہتا تھا، پہلے وہ خیمہ نشین تھے، اب خیمہ بر دوش بھی ہو گئے ہیں کہ کبھی اپنا خیمہ و خرگاہ ایک مقام تک لے جاتے ہیں تو کبھی دوسرے مقام تک اس عوامی موضوع پر لکھنا بہت ضروری ہے۔ میں خود اس موضوع پر پڑھنے لکھنے کا خواہشمند ہوں کہ لکھوں بھی خود اور پڑھوں بھی خود کیا، آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے لیڈر اخبار نہیں پڑھتے صرف ادھر ادھر سے خبریں سنتے ہیں اور خود خبریں بناتے ہیں چنانچہ جو لوگ خود خبریں بناتے ہیں وہ ان کو پڑھیں گے کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں