’’مجسم جماعت‘‘

x`
نظریاتی جماعتوں کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان کے کئی پیروکار اپنی زندگیاں اس انداز میں ڈھال لیتے ہیں کہ وہ مجسم جماعت بن جاتے ہیں۔ ہمارے پاکستان میں ایک نظریاتی جماعت مسلم لیگ تھی جس کے کئی لیڈر بول چال لباس اور عام زندگی میں مسلم لیگی دکھائی دیتے تھے۔
مالی لحاظ سے دیانتدار شریف ملنسار اور صحیح معنوں میں پاکستانی‘ وہ مسلمانوں کے نمایندے تھے اس لیے وہ اپنی عملی زندگی میں بھی نماز روزہ کی پابندی اور پرہیزگاری کی کوشش کرتے تھے۔ ایسے مسلم لیگی اپنے قائد کے فوراً بعد یا ان کے ساتھ ہی رفتہ رفتہ پاکستان سے رخصت ہو گئے اور ان کے بعد اشرافیہ کی وہ تلچھٹ باقی رہ گئی جس نے پاکستان کے تالاب کو گندہ کر دیا۔
یہ گندگی ہم اب تک اٹھا رہے ہیں اور اس کی لپیٹ میں ہیں۔ ہماری یہ غلاظت کرپشن کے رائج الوقت نام سے دنیا بھر میں مشہور ہو چکی ہے۔ وہ مسلمان شرم کے مارے ڈوب مریں جن کے بزرگوں نے مسلمانوں کی تہذیب اور اسلامی روایات کو عام کرنے کے بے پناہ شوق میں پاکستان جیسا تاریخ کا ایک معجزہ کھڑا کر دیا تھا۔
لیکن یہ ملک جس اسلامی کلچر اور روایت کو دنیا کے سامنے لایا وہ بدترین کافروں سے بھی بدتر ہے۔ پاکستانی کلچر کرپشن بدعنوانی اور بے شرمی کی ایک عالمی مثال ہے جو تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔ لگتا ہے پوری قوم اس غلاظت کی عادی ہو گئی ہے۔
اس واقعاتی پس منظر میں جب کوئی جماعت یا گروہ ان لوگوں کی نمایندگی کرتا ہے جو پاکستان کے قیام کا باعث اور ذمے دار تھے تو غیرجانبدار اور غیرمتعصب لوگ اس کو تسلیم کرتے ہیں اور جماعت اسلامی کے بارے میں یہ راقم شرح صدر کے ساتھ اعلان کرتا ہے کہ یہ جماعت صحیح معنوں میں نظریہ پاکستان کی وارث جماعت تھی۔
اسلامی تعلیمات سے آشنا اور اسلامی تہذیب و ثقافت کو اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے والوں کی جماعت جس نے مخلص مسلم لیگیوں کو بتایا اور سمجھایا کہ نظریہ پاکستان کیا ہے اور مسجد میں اذان بھی دی جاتی ہے اور نماز بھی پڑھی جاتی ہے‘ صرف دیواروں اور محرابوں کا نام ہی مسجد نہیں ہے۔ ان دیواروں کے اندر بھی ایک دنیا آباد کرنی پڑتی ہے اور یہی نظریہ پاکستان ہے۔ آج جب ہمارے ترقی پسند اور روشن خیال نظریہ پاکستان سے چڑتے ہیں یا بدکتے ہیں تو وہ اسی اسلامی نظریے سے۔ خالی خولی پاکستان سے انھیں کیا بیر ہے بالکل نہیں۔
میں بات جماعت اسلامی کی کر رہا تھا۔ اس جماعت کے ساتھ طویل تعارف کی وجہ سے اور اس کے چند برگزیدہ پیروکاروں کی زیارت اور کسی حد تک ان کی رفاقت کی وجہ سے میں جماعت کو کچھ جانتا ہوں۔ یہاں میں سید مودودی کا ذکر نہیں کرتا جن کی جوتیوں کے طفیل میری زندگی سکون قلب کی نعمت کے ساتھ بسر ہوئی ہے۔
جماعت میں شامل کچھ لوگ ایسے بھی رہے ہیں جو ’’رانجھا رانجھا کرتے آپے ہی رانجھا‘‘ ہو گئے۔ ان میں ایک صاحب جب فوت ہوئے تو ان کے ساتھ کام کرنے والوں نے کہا کہ ہمارا یہ دوست اور رہنما اللہ کے حضور سینہ تان کر حاضر ہو گا۔ ایسی گواہی کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے۔ میں نے آج جب پروفیسر عبدالغفور احمد کی علالت کی خبر سنی کہ وہ اسپتال میں داخل ہو گئے ہیں تو ان کی اس پیران سالی اور اپنوں کی جدائی سے نڈھال زندگی کے بارے میں میں طرح طرح کے اندیشوں میں گھر گیا خدا انھیں صحت کاملہ عطا فرمائے اور ان کا بابرکت سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہے جس کی برکات کا شمار نہیں۔
یہ ان لوگوں میں سے ہیں جو مجسم جماعت ہیں۔ انھیں دیکھ کر ان سے بات کر کے اور ان سے زندگی کا کوئی بھی معاملہ کر کے آپ کو فوراً ہی پتہ چل جائے گا کہ آپ کسی نظریاتی شخص سے مل رہے ہیں جس نے اپنے نظریات کو اپنے اوپر طاری کر رکھا ہے اور وہ ان کی برکت میں گم ہو چکا ہے۔ پاکستان ایسے ہی نظریاتی لوگوں کے لیے بنا تھا انھی لوگوں کو اس کا معزز شہری ہونا تھا اور انھی لوگوں کے ہاتھوں میں اس مملکت خداداد کی باگ ڈور ہونی تھی۔ لیکن قدرت کی برہمی اس حد تک پہنچ گئی کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے بدعنوان ترین ملکوں میں شامل ہو گیا۔
یہ تو کوئی خدا رسیدہ آدمی ہی بتا سکتا ہے کہ ہم سے کیا جرم اور گناہ سرزد ہوا کہ اس کی سزا ہم بھگت رہے ہیں لیکن ایک گناہ تو ہم سب کو معلوم ہے کہ ہم نے قیام پاکستان کے مقاصد سے غداری کی۔ خدا سے کیے گئے وعدے سے مکر گئے اور کروڑوں مسلمانوں کو مایوس کر دیا۔ آج جب میں ان لوگوں میں سے کسی کو ذرا سا بھی علیل دیکھتا ہوں جو نظریاتی پاکستان کا ایک نمونہ تھے تو گھبرا جاتا ہوں کہ ایسی برکتیں بھی اٹھ گئیں تو کیا ہو گا۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ گئے تو اس ملک کا کیا ہوا یہ سب ہمارے سامنے کی تاریخ ہے اور آج جب دوسرے لوگ کسی خطرے میں دکھائی دیتے ہیں تو دل ہول کھاتا ہے کہ کیا ہو گا۔
اللہ تبارک تعالیٰ پروفیسر صاحب کو صحت عطا فرمائے۔ وہ ہمارے کرمفرما ہیں ہمارے لیے ایک نمونہ ہیں پاکستان میں دو چار لوگ جن پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا وہ ان میں سے ایک ہیں۔ سید مودودی نے کیا لوگ تعمیر کیے اور کیا کردار دنیا کے سامنے پیش کیا۔ آج بھی اگر کوئی جماعت کرپشن سے پاک ہے تو وہ جماعت اسلامی ہے۔ میرا مطلب بحیثیت مجموعی سے ہے افراد کی ضمانت کون دے سکتا ہے آخر پروفیسر عبدالغفور احمد کتنے ہوتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں