’’عدالت سبزی خرید رہی تھی‘‘

x`
ہمارے ہاں بجلی کا مسئلہ تصوف اور صوفیوں کا مسئلہ بن گیا ہے۔ میں نے یہی پڑھا اور دیکھا کہ اکثر صوفی شاعر ہوتے ہیں یا شعر شناس تو یقیناً۔ نہایت اعلیٰ ذوق اور اس کے اظہار کے لیے نہایت ہی خوبصورت الفاظ۔ اس مصنوعی روشنی اور اندھیروں کے بارے میں ہماری آپ کی جو ذہنی اور قلبی کیفیت ہے اسے دیکھ کر ایک صوفی کا شعر یاد آتا ہے مگر افسوس کہ نام یاد نہیں آ رہا۔ وہ شعر یہ ہے
کشتگاںِ خنجرِ تسلیم را
ہر زماں از غیب جانِ دیگر است
جو لوگ تسلیم و رضا کے خنجر تلے سے گزر گئے وہ ایسے ہیں کہ ان کے لیے ہر وقت عالم غیب سے ایک نئی زندگی عطا ہوتی ہے، یوں وہ بیک وقت کشتہ بھی ہوتے ہیں اور زندہ بھی۔ ان دنوں ہماری جو کیفیت ہے اس کو کسی صوفی کی تسلیم و رضا کی حالت سے تشبیہہ دی جا سکتی ہے۔ یہ ذہنی اور قلبی آزمائش کچھ کم بھی نہیں ہے، معرفت و سلوک کا کوئی مرحلہ ہے۔ ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جیسے کسی کو گہرے پانی میں پھینک دیں اور جب وہ پانی سے کچھ مانوس ہونے لگے تو اسے باہر خشکی پر نکال کر لٹا دیں۔ خشکی اور تری کی اس کیفیت سے مسلسل گزرتے رہیں لیکن بلاوجہ اور بلا قصور۔
سنا ہے لاہور سے باہر تو بجلی آتی جاتی ہے تو چند گھنٹوں کے لیے خلق خدا کے صبر کو خوب آزماتی ہے لیکن لاہور شہر کے بعض حصوں میں یہ ایک گھنٹہ آتی اور ایک گھنٹہ جاتی ہے اور آنے جانے کے اس مسلسل چکر میں آپ کوئی کام نہیں کر پاتے۔ ایک کام شروع نہیں ہوتا کہ بجلی چلی جاتی ہے۔ کالم لکھنے والا قلم رواں نہیں ہو پاتا کہ بجلی بند ہو جاتی ہے۔ متبادل روشنی کی تلاش اور اس کو جلانے میں جو وقت لگتا ہے اس میں تحریری سرگرمی بالکل ٹھنڈی ہو جاتی ہے۔ حالات کی تلخی اس وقت شدید ہو جاتی ہے جب آپ کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وزیر وغیرہ نے رشوت لے کر بجلی کی پیداوار کم کر دی ہے اور بجلی کی پیداوار ہی کم نہیں کی ہے۔
ملک کی صنعتی پیداوار میں بھی رکاوٹ ڈال دی ہے اور اسے بند کر دیا ہے یعنی ملک دشمنی کی انتہا کر دی ہے۔ سپریم کورٹ تک ایسے رشوت خوروں کا ذکر کرتے ہیں ان کی نشاندہی کرتے ہیں مگر انتظامیہ یعنی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتی کیونکہ حکومت خود بھی اس رشوت میں حصہ دار ہوتی ہے اور وہ کسی ساتھی پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی۔ ایک جج نے کسی مقدمے میں سزا کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ الزام بالکل درست ہے اور یہ سب واقعہ عدالت کے سامنے ہوا ہے کیونکہ عدالت اس وقت بازار میں سبزی خرید رہی تھی جب یہ واردات ہوئی تھی اور وہ ملزم کو پہچانتی ہے۔ ہمارے کرپشن کی وارداتیں بھی جب ہوئیں تو ہماری حکومت بھی اس وقت ’’سبزی‘‘ خرید رہی تھی اور سب کچھ اس کے سامنے ہوا ہے۔
ایسی حکومتوں کے دور میں پاکستان آج دنیا کا کرپٹ ترین ملک تسلیم کیا گیا ہے اور حالت یہ ہے کہ اسے کوئی خیرات تک نہیں دیتا کیونکہ اس ملک کے بڑے لوگ یہ رقم کھا جاتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جب پاکستان کی مدد کے لیے عالمی اداروں کے اجلاس ہوئے تو ان میں عطیات اور امداد دینے والے بعض ملکوں کے نمایندوں نے صاف الفاظ میں کہا کہ پاکستانی حکام امداد خود کھا جاتے ہیں اس پر ہم بے حیائی کے ساتھ دانت نکالتے رہ گئے۔ ہم رفتہ رفتہ ڈوبتے چلے جا رہے ہیں مگر ہمیں کوئی بچانے والا نہیں شاید اس لیے کہ جو کوئی خودکشی کر رہا ہو اسے کون بچاتا ہے۔
اگر باغیرت اور احساس ذمے داری رکھنے والی قیادت نہ ہو تو عوام بے بس ہوتے ہیں۔ آج پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام ہر زیادتی برداشت کر رہے ہیں اور اپنی جانوں پر بھگت رہے ہیں یہ سب اس لیے ہے کہ قوم کو قومی عوامی قیادت نصیب نہیں ہے جو لوگ مبینہ طور پر ہمارے لیڈر ہیں وہ فی الحال باہم دگر دست و گریباں ہیں کسی نئی حکومت میں کسی کا کتنا حصہ ہو گا۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے وہ کوئی مسئلہ کھڑا کرتے ہیں خواہ اس میں عدالت عظمیٰ تک کی رسوائی بھی کیوں نہ ہو اس مسئلے کو میڈیا کے ذریعے خوب اچھالا جاتا ہے اور قوم اس فتنہ و فساد میں الجھ جاتی ہے اس طرح عوام اپنے اصل مسائل کو بھول کر ایسے مسئلوں میں الجھ جاتے ہیں۔
جو ان کے ہرگز نہیں ہیں سیاستدانوں کے ہیں اور صرف ان کو بے وقوف بنانے کے لیے ہیں۔ ہمارے پانچ دس لیڈروں کے جو کرتوت ہیں ان کو بیان کرنا قوم کو مزید الجھا دینا ہے۔ میں نے پانچ دس لیڈر اس لیے کہے ہیں کہ سیاست کرنے کے مالی وسائل انھی کے پاس ہیں‘ دوسرے ان کے باجگزار ہیں اور اس چوہے کی طرح ہیں جو ہاتھی کی پیٹھ پر سوار تھا اور جب ہاتھی ایک پل پر سے گزرا اور پل ہلنے لگا تو اس نے نعرہ بلند کیا کہ دیکھو ہم نے پل کو ہلا دیا ہے۔
مجھے پاکستان کی فکر نہیں ہے لیکن قیادت سے محروم پاکستان کی بہت فکر ہے۔ چرواہا ساتھ نہ ہو تو بھیڑ بکریاں بھی بکھر جاتی ہیں۔ جانداروں کے کسی بھی گروہ کو منظم رکھنے کے لیے چرواہوں اور لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے مگر میں ایک دکھی پاکستانی ہوں کہ اگر کوئی دیانت دار لیڈر ہے تو وہ بزدل یا نااہل ہے اور اگر بظاہر کام کا ہے تو اندر سے پرلے درجے کا بدمعاش ہے۔ اب تو جی چاہتا ہے کہ ان سب لیڈروں کو ننگا کرتا رہوں۔ بہرکیف دیکھئے کہ ان حالات میں سے کیا نکلتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں