کہیں یہ سب پھر نہ ہو جائے

x`
معلوم یہ ہوا کہ ہم اور ہمارے بھارتی دوست دونوں بہت جلدی میں ہیں اور پاکستان میں سے یہاں کے باشندے اور شہری ہندوؤں کی بھارت کی طرف اچانک نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔ ابھی تک کوئی دو سو کے قریب ہندو بھارت گئے ہیں لیکن آپ اسے اس بڑی نقل و حرکت بلکہ نقل مکانی کا ٹریلر سمجھیں جو ایک ہندو کالم نگار کے بقول لاکھوں میں ہونے والی ہے۔
چونکہ پاکستان میں ہندوؤں کی تعداد لاکھوں میں نہیں اس لیے اس کالم نگار نے اس میں یہاں کے عام باشندے یعنی مسلمان بھی ڈال لیے تھے جو پاکستان کے حالات سے اس قدر تنگ آ گئے ہیں کہ موقع ملتے ہی بھارت کی جنت کو بھاگ جائیں گے۔ ہمارے کرم فرما بھارتی کالم نگار محترم کلدیپ نیّر پاکستانی اخباروں میں باقاعدگی کے ساتھ لکھتے ہیں اور بھارت کے بارے میں مصدقہ اور بھارتی عزائم کے بارے میں مصدقہ قیاس آرائیاں ان کے کالموں میں ملتی ہیں۔
کچھ پہلے انھوں نے پاکستان کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے یا لکھتے ہوئے یہ کہا تھا کہ وہاں کے حالات اس قدر خراب ہو رہے ہیں کہ لاکھوں پاکستانی بھارت کی طرف امنڈ آئیں گے۔ انھوں نے بظاہر سرسری انداز میں اس بڑی بات کا ذکر کیا تھا جو مجھے پاکستان میں پیپلز پارٹی اور اس کے بعض غیرضروری حد تک جیالے وزیروں کی وجہ سے کسی نہ کسی دن ایک حقیقت بنتی دکھائی دی اور میں نے اس کا سرسری سا ذکر بھی کر دیا کہ ابھی شاید اس میں دیر ہو اس لیے اس وقت اس بڑی بات کا ذکر کیوں کریں لیکن معلوم ہوا کہ وقت کم ہے اور خطرہ ہے کہ الیکشن میں کوئی پوری محب وطن نہ سہی قدرے غیر محب وطن پارٹی نہ آ جائے یا کم جرأت مند پارٹی نہ ہو جو پاکستان کے بارے میں اس بھارتی منصوبے پر عمل نہ کر سکے اس لیے بھارت کی دوست پیپلزپارٹی کے اقتدار سے فائدہ اٹھایا جائے‘ وقت ضایع نہ کیا جائے۔
اس وقت اس پارٹی کے پاس اقتدار مکمل ہے اس کی اپوزیشن موجود نہیں ہے جو اپوزیشن بننے کی خواہاں یا ضرورت مند ہے وہ ابھی کل تک صدر زرداری کی اس قدر دوست تھی کہ دنیا چھوڑ جائے وہ انھیں نہیں چھوڑے گی لیکن سیاست میں ایسی غیرضروری اور وقتی باتیں تو ہوتی ہی رہتی ہیں جنھیں عوام بھول جاتے ہیں۔ اگر عوام اپنے لیڈروں کی ایسی باتیں یاد رکھیں تو پھر سیاست کون کرے گا کیونکہ سیاست دانوں کے ان اقوال زریں کا ایک ڈھیر ہے جو بھری ہوئی ردی کی ٹوکریوں سے باہر پڑا ہے۔
بات بھارت کی طرف یہاں کی ہندو برادری کی نقل مکانی کی ہو رہی تھی۔ سیاست اپنی جگہ لیکن اب اندرون سندھ کی جو سیاست ہے اس کے کیا کہنے۔ اس لیے خطرہ ہے کہ نقل مکانی کو آسان بنانے کی کوشش ہو گی یعنی ہندوؤں کو تنگ کرنا شروع کر دیا جائے گا۔ ایک زمانہ تھا کہ سندھ میں ایک ہندو اور مسلمان کے درمیان کوئی مقدمہ چل رہا تھا۔ ہندو فریق نے کہا کہ جب تک پاکستان ہے مجھ سے کوئی مسلمان مقدمہ نہیں جیت سکتا یعنی میری ہار کا اعلان نہیں ہو سکتا۔
ایک یہ زمانہ تھا یہی سندھ تھا اور یہی مسلمان تھے جن کے ساتھ ہندو گزر بسر کر رہے تھے بلکہ ان کی اقلیت ہونے کی وجہ سے ان کو بالادستی حاصل تھی کیونکہ مسلمانوں کے ہاں اقلیتوں کی نگہداشت اور ان کے حقوق کی حفاظت کسی مسلمان کا انفرادی اور اجتماعی فرض تھی لیکن سیاست اب پھر سرگرم ہو گئی ہے اور اس بار یہاں کی اقلیت کی نگہداشت بھارت نے اپنے ذمے لے لی ہے۔ ہمارے ہاں داخلہ امور کے ایسے وزیر ہیں جو کل تک ان کے اپنے بقول نصف پاکستانی تھے نصف برطانوی۔
اب مکمل پاکستانی ہو گئے ہیں۔ اب وہی اس انتہائی نازک مسئلے کے انچارج ہیں۔ میں ڈر کانپ رہا ہوں کہ جس طرح بنگلہ دیش بننے سے پہلے مشرقی پاکستان سے مبینہ مہاجرین کی ایک بڑی تعداد مغربی بنگال چلی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ بھارت ان لوگوں کو سنبھال نہیں سکتا۔ یہ مشرقی پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک مسئلہ بن گیا تھا اسی طرح ایک اور ایسا ہی مسئلہ پاکستان کی موجودہ سرحدوں پر بھی کھڑا نہ کر دیا جائے جو جناب بھٹو صاحب کا نیا پاکستان ہے۔
اندرون سندھ سے ایک اطلاع ملی ہے کہ وہاں گرمیوں کی چھٹیاں اب اگست کے مہینے میں ہوں گی۔ ٹیلی فون کرنے والے کا خیال تھا کہ پہلے چودہ اگست کو سندھ کے بچے پاکستان کا دن مناتے تھے‘ جھنڈیاں لہراتے تھے‘ پرچم اٹھائے گلی کوچوں میں بھاگتے پھرتے تھے لیکن اب جب اسکول بند ہوں گے تو صوبائی سطح پر یوم پاکستان نہیں منایا جائے گا۔ بچے گھروں میں بیٹھے رہیں گے اور اس طرح سال بھر میں ایک بار ہی پاکستان کو جذباتی انداز میں یاد کیا جاتا تھا تو اب نہیں ہو گا۔
یہ کوئی معمولی بات نہیں کیا یہ سندھ کارڈ کا ایک پہلو ہے۔ اس قوم نے پیپلزپارٹی کو کیا نہیں دیا اس کے جواب میں اس نے جو دیا ہے وہ جو بھی ہے ہمارے سامنے ہے اور سامنے رہے گا۔ ہمیں اگر ایٹم بم یاد رہے گا تو ڈھاکہ بھی کبھی نہیں بھولے گا۔ ہماری نسلیں اس المیے میں آنسو بہاتی رہیں گی۔
ہمارے دوست اور پیپلزپارٹی کے ہر وقت حاضر لیڈر منیر احمد خان صاحب کی جیب کٹ گئی۔ پیپلز پارٹی کے کسی لیڈر کی جیب کٹ گئی کوئی بڑی خبر نہیں کہ یہ انتقامی کارروائی سمجھی جاتی ہے لیکن یہ واردات جناب میاں منظور وٹو کے اعزاز میں دعوت افطار میں ہوئی۔ خان صاحب کا سب کچھ اس کارروائی کی نذر ہو گیا۔
24 ہزار روپے نقد‘ قومی شناختی کارڈ‘ تین مختلف بینکوں کے اے ٹی ایم کارڈ‘ سپریم کورٹ کا وکالت نامہ‘ انٹرنیشنل ڈرائیونگ لائسنس اور کچھ دوسرے کاغذات یہ سب اس دعوت میں چور اڑا لے گئے۔ ایک زمانے میں میاں وٹو کے پاس پنجاب کی وزارت اعلیٰ چند ووٹوں کے ذریعے تھے۔ ایک بار ان سے سوال کیا گیا کہ میاں صاحب یہ وزارت ایسے کب تک رہ سکے گی۔ ان کا جواب تھا وٹوؤں کے گھر تو کسی کا کٹا بھی آ جائے تو وہ واپس نہیں کیا جاتا‘ وزارت اعلیٰ کون واپس کرے گا۔ ہمارے دوست خان صاحب اب صبر کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں