میرے نانبائی کا پاکستان زندہ باد!

x`
مدتوں بعد میرے جسم پر ایک مسلسل سنسناہٹ طاری رہی۔ میرے سامنے ٹی وی پر میرا ایک پاکستانی بیٹا تنور پر جھکا ہوا اس میں روٹیاں لگاتا رہا، اس کا نام محسن تھا اور یہ بی اے کے امتحان میں نہ صرف اول درجے پر کامیاب ہوا بلکہ اس نے پنجاب یونیورسٹی کے سابقہ ریکارڈ بھی توڑ دیے، ان سب کو اپنے تنور میں بھسم کر ڈالا۔ گیارہ بہن بھائیوں اور بوڑھے ماں باپ کے لیے محنت کرنے والا ،آگ سے کھیلنے والا یہ نوجوان میرا پاکستان ہے۔
سونے اور ہیرے جواہرات والے چمچے منہ میں لے کر پیدا ہونے والے رئیسوں کے بچے میرا پاکستان نہیں ہیں۔ وہ تو میرے پاکستان کی زمین پر بوجھ ہیں۔ حمزہ شہباز‘ مونس الٰہی‘ قاسم عمران، بلاول بھٹو زرداری، حسن نواز اور اس نسل اور برادری کے نوجوان میرے اس مزدور نانبائی پاکستانی کے مقابلے میں اس کی خاک پا بھی نہیں۔ وہ بارہ بجے تنور سے فارغ ہو کر سو جاتا اور پانچ بجے اٹھ کر پڑھنا شروع کر دیتا۔ وہ اتنی محنت کرتا کہ ہر ماہ وہ ہفتہ دس دن بیمار بھی رہتا لیکن اسے تو پاکستان کے لیے ایک مثال بننا تھا چنانچہ اس نے تنور کی آگ اور جسم کی یہ مشقت خوشی خوشی برداشت کی۔
قدرت کی مہربانی اس کے ساتھ تھی، آج وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا ایک ایسا فرزند ہے جس نے اپنی ذات کو پاکستان کے یوم آزادی پر قوم کو تحفہ میں دیا ہے۔ ہمیں اس کا یہ تحفہ بڑے فخر کے ساتھ قبول ہے۔ مملکت پاکستان کو اس کی آزادی کے کسی دن پر بھی ایسا تحفہ کبھی نہیں ملا اور ہم الحمد ﷲ اس تحفے کو قبول کرنے کے لیے زندہ ہیں۔ پنجاب کے وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف نے ایک تنور اسکیم شروع کی تھی، سنتے ہیں اس پر اتنی رقم خرچ ہوئی جیسے یہ تنور نوٹوں کی آگ سے گرم ہوتے تھے۔
اسی کے صوبے میں ایک دیہاتی طالب علم نے بھی ایک تنور لگایا مگر اس کی آگ وہ خود تھا اور اس تنور میں روٹی بھی پکتی تھی اور نئے پاکستان کی تقدیر بھی۔ یہ تقدیر اس کی جوانی تھی جو اس آگ میں پختہ ہوئی یوں تو وہ بھی پاکستان کی جوانیاں ہیں جو سچ مچ کے نوٹوں کی حرارت میں پلی بڑھی ہیں لیکن ان کے لیے پڑھنا یا جاہل رہنا بے معنی باتیں ہیں اور وہ روزی روٹی کے لیے نہیں سیاسی اقتدار کے لیے زندہ ہیں مگر یہ خدا ہی جانتاہے کہ کس کا تنور اس کا کتنا بڑا سہارا بنا ہے۔ وہ بہت ہی پرانی داستان یاد آ رہی ہے۔
آپ نے یقیناً سنی ہو گی کہ ایک سرگرداں درویش سردیوں کی رات کو بھٹکتا ہوا کسی شکاری رئیس کی خیمہ و خرگاہ کے قریب چلا گیا کہ رات کسی خیمے میں پڑا رہے گا لیکن اس نے جس خیمے میں بھی جھانکا اسے جھڑک کر باہر نکال دیا گیا بالآخر ہر خیمے سے مایوس ہو کر وہ اس تنور کے کنارے جا کر لیٹ گیا جس میں اس رئیس کے ساتھیوں کا کھانا تیار ہوا تھا اور ابھی تک اس کی گرمی باقی تھی۔ وہ اپنا بوسیدہ کمبل اوڑھ کر سو گیا، صبح جب اٹھا تو اس نے انسانی تاریخ کا یہ یاد گار جملہ کہا ’’شب تنور گزشت و شب سمور گزشت‘‘ تنور کے پاس لیٹ کر بھی رات گزر گئی اور وہ جو کمخواب اور سمور کی کھال اوڑھ کر خیمے میں سوئے تھے ان کی بھی رات گزر گئی۔ اور راتیں اس نانبائی پاکستانی کی بھی گزر گئیں اور ان رئوسا کی بھی جو گرمیوں میں اے سی اور سردیوں میں ہیٹر لگا کر سوتے ہیں اور موسم کے اعتبار سے خصوصی بستر بناتے ہیں۔ آگ میں روزی تلاش نہیں کرتے۔
زندگی میری آپ کی ہم سب کی گزر گئی اور گزر جائے گی۔ تنور والی زندگی بھی اور سمور والی زندگی بھی لیکن سوال یہ ہے کہ کس کی زندگی اس قوم اور ملک کو کچھ دے گئی یا الٹا اس سے لے گی۔ یہ غریب ترین لڑکا جو مشکل ترین کام کرتا تھا اور کرتا ہے اس قوم کے نوجوانوں کو حوصلہ دے گیا، ایک اُمید روشن کر گیا اور بتا گیا کہ علم رئیس لوگوں کی میراث نہیں۔ حضور پاکﷺ نے اپنی امت کو ہدایت کی تھی کہ جائو علم حاصل کرو خواہ اس کے لیے تمہیں چین (دور دراز) تک بھی کیوں نہ جانا پڑے۔ کیا ہم حضور پاک کی اس نصیحت کا یہ مطلب نہیں لے سکتے ہیں کہ علم حاصل کرو خواہ تمہیں اس کے لیے تنور کی آگ میں بھی کیوں نہ جھلسنا پڑے۔ انسان کے لیے سب سے بڑی اذیت آگ ہے۔ اﷲ نے انسان کو آگ سے ہی ڈرایا ہے لیکن وہ بڑا بے نیاز ہے کہ کسی کی روزی ہی آگ میں رکھ دیتا ہے۔
یہ سخت ترین امتحان ہے مگر وہ اپنے بندوں کو یہ حوصلہ بھی عطا کرتا ہے کہ وہ اس امتحان اور آزمائش سے صحیح و سلامت گزر جائیں اور صرف گزر ہی نہ جائیں ایک مثال بھی بن جائیں۔ محسن آزمائش کی اس آگ سے گزر کر ہمیں اور ہمارے پاکستانیوں کو نئے حوصلے دے گیا۔ ہمیں خوب معلوم ہے کہ ہمارے ہاں تعلیم کی جو حالت ہے وہ کیا ہے اور کیسی ہے۔ ہم نے حصول تعلیم اپنے طالب علموں پر چھوڑ دیا ہے کہ کسی میں ہمت ہے تو پڑھ لے اگر نہیں ہے تو کسی تنور پر روٹیاں لگاتا رہے لیکن ایک طالب علم نے کسی اسکول کالج میں نہیں پرائیویٹ امتحان دیا اور اپنا رنگ جما گیا اس کے بعد اس پر انعام و کرام کی بارش ہونے لگی لیکن اسے معلوم ہو کہ اسے جو رقم ملی ہے اور جو وظیفہ ملے گا وہ کسی ارب پتی لیڈر کی جیب سے نہیں قومی خزانے سے ملے گا۔
جس میں ایسے انعامات کی گنجائش رکھی جاتی ہے۔ محسن اور اس جیسے دوسرے پاکستانی نوجوان جب عملی زندگی میں آئیں گے تو عین ممکن ہے وہ کسی ارب پتی لیڈر سے کہیں کہ وہ اس کے اخراجات کو اپنے کسی بیٹے کے برابر کر دے۔ جس اسلام کے لیے یہ پاکستان بنا تھا اسے ایسا ہی ہونا تھا لیکن راستے میں اس پر ڈاکہ پڑ گیا اور آج ڈاکو اس کے خزانے میں سے کسی کو کچھ عنایت کر کے ان داتا بن رہے ہیں۔ وقت بدلے گا اور پاکستانی اسے دیکھیں گے ورنہ پاکستان بھی دنیا کا ایک اور کمزور اور کرپٹ ملک بن کر سسکتا رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں