انقلاب سلسلہ وار

x`
مسلمان ملکوں میں ان کی فوج کے ذریعے حکومت کرو ان کی فوج کو اتنا مضبوط کر دو کہ وہ سیاسی حکومت پر حکمرانی کرتی رہے۔ مسلمان ملکوں میں اصل حکمران فوج ہو اور فوج امریکا کے فوجی صدر دفتر پنٹگان کے ماتحت ہو۔ اسے اسلحہ بھی اور فوجی مدد امداد بھی پنٹگان کی سفارش پر ملے۔
امریکا کی پالیسی مدتوں سے کامیاب چلی آ رہی ہے پاکستان سے لے کر مغرب کے آخری مسلمان ملک مراکش تک فوج کی حکمرانی رہی لیکن ماسوائے پاکستان مسلمان ملکوں کی نظریاتی جماعتیں امریکی پالیسی کو قبول کرنے پر کبھی تیار نہیں رہیں اور وہ اپنی مجبوریوں کے باوجود کام کرتی رہیں ان کی سب سے بڑی مشکل ان کی اپنی فوج رہی اور وہ سول عناصر جو امریکا کے باجگزار تھے لیکن یہ ان سب سے لڑتے رہے امریکا اور مغربی قوتیں ہمیشہ یہ اعلان کرتی رہیں کہ وہ جمہوریت کی قائل اور جمہوری حکومت کی تائید میں ہیں۔
امریکا اور اس کے ہمنوائوں کا پول کھولنے کے لیے پہلی کوشش الجزائر میں کی گئی۔ برسہا برس کے فرانسیسی استبداد کا مزہ چکھنے والے اس ملک نے بڑی خاموشی کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا اور اسلامی نظریہ اور مزاج والی قوتیں الیکشن میں کامیاب ہو گئیں۔ الجزائر کے اس انقلاب نے تھرتھلی مچا دی۔ الجزائر وہ ملک تھا جس کے بارے میں فرانس کا یہ دعویٰ رہا کہ یہ ملک فرانس کا حصہ ہے جیسے بھارت کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہتا ہے۔ فرانس اور نئی دنیا کے مالک امریکا کے لیے یہ صورت حال ناقابل برداشت تھی چنانچہ امریکا نے اپنی الجزائری فوج کو حکم دیا اور اس نے الیکشن کو کالعدم قرار دے دیا۔
عرب دنیا اس دھاندلی کو مجبوراً پی گئی لیکن یہ اس کے دل میں اٹک گئی۔ الجزائر کے بعد ترکی میں بھی اسلامی ذہن رکھنے والے الیکشن میں جیت گئے ترکی ایک سیکولر ملک تھا اور فوج آئینی طور پر سیکولرزم کی محافظ تھی چنانچہ امریکا نے اپنی اس فوج کو بھی آئینی اختیار پر عمل کا حکم دیا اور سیکولرزم کی حفاظت کے تحت ترکی بھی اپنے الیکشن سے بہرہ مند نہ ہو سکا لیکن ترکی کی سیاسی قیادت پر کشادہ دل اور سب کے ساتھ مل جل کر رہنے والے سیاسی لوگوں نے حالات کو برداشت کیا لیکن اپنی نظریاتی اساس پر قائم رہے رفتہ رفتہ ترکی کے ہر طرح اور ہر مزاج کے عوام کے ساتھ مل کر کام کیا خود مبینہ مذہبی تقوے اور رعونت سے پاک رہے اور پھر وہ دن آیا جب پورا اقتدار ان کے قدموں کے نیچے تھا۔
انھوں نے اس اقتدار کو بھی ہضم کیا اور حالات کو مناسب پا کر اور اپنی دلیل کو مستحکم کر کے فوج میں اصلاح شروع کی اور ان جرنیلوں کو ملازمتوں سے باہر کر دیا جس کے عہدوں کا نام سن کر ہم لوگ پاکستان میں کانپتے رہے لیکن اس سول حکومت کی طاقت اس کے عوام تھے اور فوج کو اس کا پتہ تھا چنانچہ سب کچھ امن اور شائستگی کے ساتھ عمل پذیر ہوا۔ آج ترک ایک مسلمان قوم کی طرح زندگی بسر کرنے پر مجبور نہیں آزاد ہیں۔ ان کی خاتون اول نقاب لیتی ہیں لیکن ان کے صدر اور وزیراعظم مغربی لباس زیب تن کرتے ہیں۔ یورپ کا مرد بیمار آج باقاعدہ واک کرتا ہے اور اقتدار کرتا ہے بلاخوف و خطر کیونکہ اس کا دل ایک بہت بڑی ناقابل تسخیر طاقت سے معمور ہے۔
اب آگے چلیں تو وہ انقلاب جسے عرب موسم بہار کہا گیا، جاری ہے اس لیے کہ عربوں کو امریکا کے تحت زندگی قابل قبول نہیں ہے متعدد ملکوں میں اتنی بڑی بنیادی تبدیلی میں بہت وقت لگتا ہے لیکن جس تیزی کے ساتھ عرب چل رہے ہیں وہ حیران کن ہے اور ایک بڑی حیرت قاہرہ کے میدان تحریر سے پھوٹ رہی ہے۔
مصر کے نئے صدر جناب محمد مرسی نے آتے ہی گربہ کشتن روز اول کے مصداق فوج کی صفائی شروع کر دی ہے پاکستانی مان لیں کہ آرمی چیف اور وزیر دفاع کو فارغ کیا گیا باقی کا کام جاری ہے اور مصر کے صدر کو اصل طاقت ان کے عوام کی حاصل ہے جو ان جرات مندانہ اقدامات کی خبر پا کر نہ صرف خوشی کے مارے بلکہ حکمرانوں کو حوصلہ دینے کے لیے اسی میدان تحریر میں جمع ہو گئے جہاں سے انھوں نے انقلاب کا پہلا نعرہ بلند کیا تھا۔ یہ نعرہ ماضی اور آج کے فرعونوں کے مقبروں میں گونج رہا ہے۔
جس کسی مسلمان ملک میں موزوں اور بامقصد قیادت پیدا ہوئی یہ نعرہ بھی وہاں پہنچے گا۔ بڑی بات نہ سمجھیں آج مسلمان کسی کا غلام بن کر زندہ نہیں رہنا چاہتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں