سوویت کے قاتل…ضیاء الحق اوراخترعبدالرحمان

x`
ایک عرب ٹی وی پر اسی رمضان المبارک میں روزے کی برکات اور روزے کے آداب کا ذکر ہو رہا تھا۔ ایک غریب افریقی ملک صومالیہ کے ایک روزے دار نے وعظ کرنیوالے عالم سے پوچھا کہ جناب اگر سحری کے وقت کھانے کے لیے کچھ نہ ہو اور افطاری کے لیے بھی کھانے کو کچھ نہ ہو تو کیا روزہ پھر بھی رکھا جا سکتا ہے اور یہ روزہ ہو جاتا ہے۔ یہ بات سن کر عرب واعظ کی زبان بند ہو گئی اور اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑی لگ گئی۔ کچھ وقت بعد جب واعظ کے اوسان بحال ہوئے تو اس نے اس سوال کرنیوالے کی طرف دیکھا اور مجلس برخاست کر دی ۔ روزہ دار کے اس سوال کے بعد اس کی قوت گویائی گویا ختم ہو گئی تھی۔ اس میں صرف اتنی سکت باقی تھی کہ وہ مجلس سے اٹھ سکے اور وہ اٹھ گیا۔
ایک اور انتہاء کا ذکر‘ حج کے موقعے پر بیت اﷲ شریف کی دیوار تک ایک حاجی جوں توں کر کے پہنچ گیا۔ وہ دیوار سے لپٹ گیا اور عرض کیا کہ یااﷲ میں جب سے جوان ہوا ہوں حج کے اخراجات کے لیے رقم جمع کر رہا ہوں اب جا کر کہیں اتنی رقم جمع ہوئی ہے کہ میں آج یہاں تمہارے دربار میں حاضر ہوں۔ اب اس کے بعد جو کچھ کرنا ہے وہ تم نے کرنا ہے، میں نے تو جو کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔ صومالیہ کے اس روزے دار اور راولپنڈی کے اس حاجی کی بات کا جواب کسی انسان کے پاس نہیں ہے سوائے اس اﷲ تبارک و تعالیٰ کی ذات کے۔ میں انھی دو واقعات پر کالم ختم کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس سے زیادہ کیا لکھا اور کہا جا سکتا ہے لیکن کالم کا پیٹ بھرنا ضروری ہے۔
میں ایک ولولہ انگیز کہانی الگ سے لکھنا چاہتا تھا لیکن اس کا تعلق بھی ذات باری کی خوشنودی سے ہے۔ اسلام دشمن سوویت یونین نے ان مسلمان ریاستوں کو اپنی ایمپائر میں شامل کر لیا جنھیں وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں کہا جاتا ہے۔ وقت گزرتا گیا اور سوویت یونین کے لیڈروں نے اپنی اس مملکت کو مکمل کرنا چاہا اور سمندر کے گرم پانی کی پرانی طلب زیادہ بڑھ گئی تو انھوں نے اپنی ازبکستان کی مسلم مقبوضہ ریاست سے آگے بڑھ کر ایک اور مسلمان ریاست افغانستان میں قدم رکھا تاکہ گرم پانیوں کے قریب ہو جائیں لیکن دریائے آمو کے دوسری طرف حالات کچھ ایسے سازگار نہ تھے۔
یہاں پتھروں میں آباد افغان تھے جنہوں نے غلامی نہیں دیکھی تھی جن کا ایمان ان پتھروں کی طرح مضبوط اور ناقابل شکست تھا اور ان کے لشکروں کو پاکستان کی جدید فوجی قیادت میسر تھی۔ پاکستان کا جرنیل ضیاء الحق تھا اور اس کا منصوبہ ساز تھا جنرل اختر عبدالرحمان۔ پاکستان کے ان جرنیلوں کو اطلاع ملی اور ان کو یقین تھا کہ بے رحم سوویت یونین کی منزل افغانستان نہیں پاکستان اور بحیرہ عرب ہے۔ ماسکو سے سیدھا راستہ بحیرہ عرب تک براستہ افغانستان پاکستان۔
ان پاکستانی جرنیلوں نے اس راستے پر دیوار بنا دی۔ عزت و ہمت اور ایمان و یقین کی دیوار۔ انھوں نے افغانوں سے مل کر اور افواج پاکستان کے مشورے سے روس کی مزاحمت کا حیرت انگیز فیصلہ کیا۔ اسے پاگل پن بھی کہا گیا۔ کہاں دنیا کی یہ دوسری سپر پاور اور کہاں پاکستان جس کے پاس روایتی اسلحے اور سپاہیوں کے سوا کچھ نہ تھا ایٹم بم بعد کی بات ہے۔ افغانوں کی مدد کے ساتھ یہ پاکستانی جرنیل روسیوں کے ساتھ دست و گریباں ہو گئے۔ ضیاء الحق نے اپنے جرنیلی تمغوں اور رنگین فیتوں کو ہاتھ لگا کر ایک مسلمان لیڈر سے کہا کہ لعنت ہے ایسے مسلمان فوجی پر جو اسلام دشمن روسی یلغار کو برداشت کرے اور زندہ رہے۔
اس موت کے فیصلے نے جنرل ضیاء اور عبدالرحمان میں یہ آگ بھر دی کہ وہ روسی فوج بلکہ طاقت کے خلاف ڈٹ گئے۔ دنیا نے اسے پاگل پن کہا اور بات بھی ایسی ہی تھی لیکن یہ مقام عقل و خرد کا نہیں تھا‘ اسے تنہا چھوڑ دینے کا تھا۔ کوئی ڈھائی تین برس تک پاکستانی تن تنہا روسیوں کو پریشان کرتے رہے انھیں‘ الجھائے رکھا‘ سُکھ کا سانس نہ لینے دیا۔ انھی دنوں پاکستان کے روسی کامریڈوں نے روسی سفیر جناب سرور عظیموف کے ساتھ لاہور میں میری ملاقات کا بندوبست کیا۔ مرحوم حامد محمود کے ہاں ان کے گھر پر یہ ملاقات ہوئی۔ کئی سوال و جواب ہوئے جو ان دنوں میرے ہفت روزہ افریشیا میں شایع ہوئے اور اس کے حوالے سے بی بی سی سے نشر ہوئے۔ جناب سرور عظیموف نے میرے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بلوچستان سے گزر کر سمندر تک جانا کیا ہمارے لیے مشکل ہے۔
اگر ہم چند پاکستانی جرنیلوں کو خوش کر دیں تو وہ ہمیں خود اس راستے سے گزرنے کی دعوت دینگے۔ ہمارے پاکستانی کامریڈوں کی شدید خواہش تھی جس کے تحت میں نے ان کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کی وجہ سے یہ انٹرویو کر لیا۔ عبداﷲ ملک‘ حمید اختر‘ حامد محمود اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ میرا خیال ہے آئی اے رحمان بھی موجود تھے جو ماشاء اﷲ زندہ سلامت ہیں اور سرگرم لیکن اس محاذ پر نہیں اس کے برعکس محاذ پر کیونکہ اب جب روس بھی نہیں رہا تو کوئی اس کا نام ہی کیوں لے۔
حیرت ہے کہ دو پاکستانی جرنیلوں اور ان کی قیادت میں افغان مجاہدین نے دنیا کی دوسری بڑی سپر پاور کو دریائے آمو میں ڈبو دیا جب کہ سید مودودی کی پیش گوئی تھی کہ روسی سامراج اور کمیونزم ماسکو کے چوک میں اوندھا پڑا ہو گا،یہ بھی ہو گیا تھا۔ کمال ہے کہ ایک نظریہ جس نے دنیا کو ہلا دیا تھا ایسا گم ہوا کہ اب اس کا کوئی نام تک نہیں لیتا۔ اس لیے کہ یہ نظریہ انسانی فطرت اور تقاضوں کے خلاف تھا۔ بہرکیف کمیونزم اپنے تمام لائو لشکر کے ساتھ چلا گیا۔ اپنے پیچھے آمریت کی سفاکی کے قصے چھوڑ کر۔
پاکستانی جرنیلوں نے جب دو ڈھائی برس تک مزاحمت جاری رکھی تو امریکا کو ہوش آیا کہ دیکھو یہ کیا ہو گیا ہے۔ چنانچہ امریکی بھی آ گئے۔ اپنے میزائل لے کر ظاہر ہے کہ پاکستان ایک حد تک تو مزاحمت کر سکتا تھا جو وہ حیرت انگیز جرأت کے ساتھ کر رہا تھا اور یہ مزاحمت نہ جانے کب تک جاری رہتی لیکن اس کو فیصلہ کن بنانے میں امریکا نے مدد کی۔ کمیونسٹوں کو ختم کرنے میں ضیاء نے جو کردار ادا کیا اس پر اس کو لاکھوں کروڑوں گالیاں ملیں اور مل رہی ہیں پھر اس نے پاکستان توڑنے والوں کو بھی سزا دی۔
شیخ مجیب الرحمان اور اندرا گاندھی کی طرح پاکستانی بھی رخصت کر دیے گئے۔ ضیاء الحق کے ساتھ میرے طویل تعلق کی کئی یادیں ہیں لیکن سب سے اہم پہلی ملاقات کی یاد ہے۔ اسلام آباد میں مجلس شوریٰ کے اجلاس میں اطلاع ملی کہ صدر صاحب کے ہمراہ راولپنڈی جانا ہے۔ گاڑی میں ہم تین لوگ تھے‘ صدیق سالک میں اور جناب صدر۔ باتوں باتوں میں عرض کیا کہ آپ کی ذاتی نیکی بہت مشہور اور مسلم ہے لیکن حکمران کی نیکی وہ ہے جو میرے جیسے عام پاکستانی تک بھی پہنچے۔ بات ختم ہو گئی۔ سفر کے بعد راولپنڈی میں صدیق سالک نے کہا کہ تم نے تو جناب صدر کو پہلی ہی ملاقات میں ناراض کر دیا۔ میں نے عرض کیا کہ دیکھا جائے گااور دیکھا یوں گیا کہ جب انھوں نے کچھ دن بعد جونیجو صاحب کو وزیر اعظم بنایا تو ان کو مشورہ دیا کہ صحیح بات عبدالقادر حسن سے پوچھنا۔
یہ بات مجھے جونیجو صاحب نے بتائی تھی۔ ضیاء بھی ایک گنہگار انسان تھا لیکن ہم سے بہتر۔ آج ہم اس کی یاد منا رہے ہیں۔ شاید اس لیے بھی کہ ہم سوویت یونین میں شمولیت کے عذاب سے بچ گئے تھے۔ سوویت طاقت کو اس کی حد کے اندر روکنا اور پاکستان کو اس سے بچانا ایک تاریخی اسلامی کارنامہ ہے۔ اس پر ہمارے آنجہانی کامریڈ جس قدر ناراض ہوں یہ ان کا حق ہے۔
ایک ذاتی درخواست‘ مجھے ڈرائیور کی شدید ضرورت ہے‘ اگر قارئین کو کسی قابل اعتبار آدمی کا علم ہو تو مجھے اطلاع فرمائیں‘ 03008476221۔

اپنا تبصرہ بھیجیں