hamid-mir-columns

افغان طالبان اور پاکستان

تضادات کو قومی مفادات قرار دینا کوئی ہم سے سیکھے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی و خارجہ امور سرتاج عزیز نے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے پاکستان بہت جلد افغان طالبان کے سینئر لیڈر ملا عبدالغنی برادر کو رہا کر دے گا۔ سرتاج عزیز صاحب نے کوئی نیا اعلان نہیں کیا۔ ملا برادر کی رہائی کی خبریں ایک سال سے گرم ہیں کیونکہ افغان صدر حامد کرزئی کئی مرتبہ پاکستان سے ملا برادر کی رہائی کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ ملا برادر کو طویل عرصہ تک ملا محمد عمر کے نائب کی حیثیت حاصل تھی کیونکہ 1994ء میں سپن بولدک سے طالبان تحریک کا آغاز ہوا تو ملا برادر اس تحریک کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ ملا برادر اور ملا عمر ایک دوسرے کے قریبی دوست اور رشتہ دار ہونے کے علاوہ میوند کے ایک مدرسے میں اکٹھے پڑھاتے بھی تھے۔ دسمبر 2001ء میں امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا تو ملا برادر اور ملا عمر اکٹھے ہی قندھار سے روپوش ہوئے۔ روپوشی سے قبل حامد کرزئی نے ملا برادر سے کئی مرتبہ رابطہ کیا کیونکہ دونوں کا تعلق پوپلزئی قبیلے سے ہے۔ حامد کرزئی ابتداء میں کچھ عرصہ طالبان حکومت میں شامل رہے تھے اس لئے کئی طالبان رہنماؤں کو جانتے تھے۔ ان پرانے تعلقات کی بنیاد پر انہوں نے ملا برادر سے رابطے کئے لیکن برادر نے ملا عمر کا ساتھ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ کافی عرصہ گزرنے کے بعد حامد کرزئی نے پوپلزئی قبیلے کے کچھ مشیران کے ذریعہ ملا برادر سے دوبارہ رابطے کئے اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملا برادر اس سلسلے میں بہت محتاط تھے اور انہوں نے اپنی قیادت کے مشورے کے بغیر کرزئی کو کوئی جواب نہ دیا۔ افغان طالبان کا شروع میں یہ خیال تھا کہ حامد کرزئی مزاحمتی قوتوں میں انتشار پھیلانے کے لئے مذاکرات کا نام استعمال کر رہے تھے۔ اس دوران حامد کرزئی نے ملا عمر کے کچھ دیگر ساتھیوں کو بھی مذاکرات کا پیغام بھیجا۔ ابھی مذاکرات کے بارے میں بات چیت آگے نہ بڑھی تھی کہ 8/ فروری 2010ء کو ملا برادر کو کراچی سے گرفتار کر لیا گیا۔ ملا برادر کی گرفتاری پر عالمی میڈیا میں کئی تبصرے ہوئے۔ اکثر مبصرین کا خیال تھا کہ پاکستان ملا برادر کے ذریعہ افغان طالبان اور کرزئی حکومت کے درمیان مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ 2010ء میں پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کی طرف سے ملا برادر کی گرفتاری سے انکار کیا جاتا رہا۔ ملا برادر کی گرفتاری کے کچھ دنوں بعد کراچی سے افغان طالبان کے ایک اور اہم لیڈر متعصم آغا جان گرفتار ہوئے جو طالبان حکومت میں وزیر خزانہ تھے۔ انہیں کچھ ہفتوں میں رہا کر دیا گیا لیکن رہائی کے بعد ان پر کراچی میں ایک پراسرار قاتلانہ حملہ ہوا۔ انہیں کئی گولیاں لگیں لیکن وہ بچ گئے۔ انہی دنوں طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا عبید اللہ اخوند پاکستانی اداروں کی حراست میں انتقال کر گئے۔ عبید اللہ اخوند کو نومبر 2007 میں بیت اللہ محسود نے اغواء شدہ پاکستانی فوجیوں کے بدلے میں رہا کرایا تھا لیکن 2008 میں وہ دوبارہ پکڑے گئے۔ پاکستانی حکومت کے ذرائع کا دعویٰ تھا کہ عبید اللہ اخوند بیماری کے باعث انتقال کر گئے لیکن مجھے کئی افغان طالبان لیڈروں نے کہا کہ اُن پر تشدد کیا گیا تھا۔

عام خیال یہ ہے کہ پاکستانی ادارے افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کو الگ الگ سمجھتے ہیں بلکہ افغان طالبان کی مدد کی جاتی ہے۔ افغان طالبان سے بات کریں تو وہ ہاں بھی کہتے ہیں اور نہیں بھی کہتے ہیں افغان طالبان کی سینئر قیادت ابھی تک گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد پاکستان کی پالیسی میں یوٹرن کو نہیں بھولی اور اس یو ٹرن کو ایک عظیم دھوکہ کہتی ہے لیکن اپنی مجبوریوں کے باعث خاموش ہے۔ افغان طالبان کہتے ہیں کہ اگر پاکستان اپنے اڈے امریکہ کو نہ دیتا تو افغانستان پر امریکہ کا قبضہ بہت مشکل تھا۔ جیسے ہی امریکہ کے افغانستان پر قبضے کے اور بھارت نے جلال آباد اور قندھار کے راستے پاکستان میں مداخلت شروع کی تو پاکستانی حکام کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے افغان طالبان کے بارے میں پالیسی کو کچھ نرم کیا لیکن جب بھی امریکہ کا دباؤ بڑھتا پاکستان میں افغان طالبان پر آفت آ جاتی۔ اس کی ایک مثال افغان طالبان کے ایک لیڈر استاد یاسر تھے جو عرب میڈیا میں بڑے مقبول تھے کیونکہ وہ بڑی اچھی عربی بولتے تھے۔ عرب ٹی وی چینلز کے ساتھ ان کے روابط پر افغان حکومت ہمیشہ ناراض رہتی تھی لہٰذا انہیں پاکستان میں گرفتار کر لیا گیا۔ 2007ء میں افغان طالبان نے ایک اطالوی صحافی کو اغواء کر لیا اور اس کی رہائی کے عوض استاد یاسر کو پاکستانی اداروں کی قید سے نکال لیا۔ پاکستانی اداروں نے 2009ء میں استاد یاسر کو دوبارہ گرفتار کر لیا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ بھی پراسرار طور پر موت کے منہ میں چلے گئے۔ افغان طالبان کے ذرائع کہتے ہیں کہ 2010ء میں اوپر تلے ہمارے اہم لیڈروں کی پاکستان میں گرفتاریوں اور پھر پاکستانی اداروں کی حراست میں اموات سے ہم نے اندازہ لگا لیا کہ ہمیں افغان مفاہمتی عمل میں اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ افغان طالبان کہتے ہیں کہ ہم مجبور لوگ ہیں۔ افغانستان میں امریکہ سے لڑ رہے ہیں پاکستان میں مسلمان فوج سے نہیں لڑ سکتے کیونکہ ہمارے بچے تو یہاں کے مہاجر کیمپوں میں پناہ گزین ہیں تاہم افغان طالبان کو عام پاکستانیوں سے کوئی شکوہ شکایت نہیں۔
اشتہار



کچھ عرصہ قبل دوحہ میں افغان طالبان کا سیاسی دفتر قائم ہوا تو پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے بہت شور مچایا کہ امریکہ اور افغان طالبان میں مفاہمتی عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ گزشتہ دنوں دبئی میں اس دفتر سے وابستہ ایک افغان طالبان رہنما سے ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں پتہ چلا کہ ایک طرف حامد کرزئی کی بلیک میلنگ عروج پر ہے تو دوسری طرف ان طالبان رہنماؤں کے پاکستان میں مقیم خاندان بھی شدید دباؤ میں ہیں۔ دوحہ میں قائم دفتر کو باقاعدہ ہدایات دی گئی ہیں کہ فلاں کا فون سننا ہے اور فلاں کا نہیں سننا۔ کیا اس قسم کے طریقوں سے ہم کسی کا دل جیت سکتے ہیں؟ کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر اسے اپنی مرضی سے استعمال کر کے ہم پاکستان کے لئے محبتیں نہیں پال رہے بلکہ نفرتیں پیدا کر رہے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ادارے ماضی کی غلطیوں سے سبق نہیں سیکھتے اگر وہ سچ جاننا چاہتے ہیں تو اپنے بارے میں طالبان رہنما ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب پڑھیں۔ ملا عبدالسلام ضعیف 2001ء میں پاکستان میں افغانستان کے سفیر تھے۔ پاکستان انہیں باعزت طریقے سے گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کر سکتا تھا لیکن امریکہ کو خوش کرنے کے لئے انہیں برہنہ کیا گیا اور ذلیل و رسوا کر کے امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب اردو اور انگریزی کے علاوہ فارسی اور پشتو میں شائع ہو چکی ہے اور افغان طالبان میں بڑی مقبول ہے۔ اس کتاب میں واضح طور پر عام پاکستانیوں اور پاکستانی اداروں کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے۔ سرتاج عزیز صاحب سے گزارش ہے کہ وہ اس کتاب کو ضرور پڑھ لیں اور خیال رکھیں کہ اس وقت جو طالبان رہنما پاکستان کی قید میں ہیں ان کے ساتھ کوئی ایسا سلوک نہ کیا جائے کہ وہ بھی ملا عبدالسلام ضعیف جیسی کتابیں لکھ ڈالیں۔ میں زیادہ تفصیل میں نہیں جاؤں گا۔ تھوڑی سی کہی کو بہت سمجھیں۔ افغان طالبان کی قیادت پر اعتماد کیا جائے اور ان پر عائد غیر اعلانیہ پابندیاں ختم کی جائیں۔ وہ کل کے بچے نہیں کہ کرزئی انہیں ورغلا لیں گے۔ کرزئی کا تو اپنا چل چلاؤ ہے۔ افغانوں کے مستقبل کا فیصلہ صرف افغان کریں اور پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر ایک ایسی فضاء قائم کرے جس میں افغان طالبان آزادانہ طریقے سے مذاکرات کریں تاکہ افغانستان میں امن قائم ہو سکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں